Jasarat News:
2026-07-24@03:30:13 GMT

بھارت کی ہندو قیادت کا چھوٹا پن

اشاعت کی تاریخ: 3rd, October 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251003-03-7

 

شاہنواز فاروقی

بھارت کا جغرافیہ اور آبادی ہاتھی کی طرح ہے مگر بھارت کی ہندو قیادت کا دل، دماغ اور ظرف چیونٹی کی طرح ہے۔ چنانچہ بھارت کی ہندو قیادت نے سیاست کو کھیل اور کھیل کو سیاست بنادیا ہے۔ اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ کرکٹ کا ایشیا کپ پاکستان میں ہونا تھا مگر بھارت نے اعلان کردیا کہ اس کی ٹیم پاکستان نہیں جائے گی۔ چنانچہ ایشیا کپ کو دبئی منتقل کرنا پڑا، لیکن بھارت کی ہندو قیادت یہاں بھی چھوٹے پن سے باز نہ آئی، چنانچہ بھارتی کرکٹ ٹیم کے کپتان سوریا کمار نے پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان سلمان علی آغا کے ساتھ ہاتھ ملانے سے انکار کردیا۔ حد یہ کہ بھارت نے ایشیا کپ کے فائنل میں پاکستان کو شکست دینے کے بعد پاکستان کے وزیر داخلہ اور پاکستان کرکٹ کے کرتا دھرتا محسن نقوی سے ٹرافی لینے سے انکار کردیا۔ سرد جنگ کے زمانے میں مغربی دنیا اور سوویت یونین کے درمیان شدید ترین محاذ آرائی موجود تھی لیکن مغربی دنیا میں اولمپک مقابلے ہوتے تھے تو سوویت کھلاڑی اولمپک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے۔ لیکن بھارت کی ہندو قیادت کا چھوٹا پن کھیل میں بھی سیاست لے آیا ہے۔ بھارت کو پاکستان سے ایسی ہی نفرت ہے تو اسے ایشیا کپ کے مقابلوں میں حصہ ہی نہیں لینا چاہیے تھا۔

بعض پاکستانیوں کا خیال یہ ہے کہ بھارت کی ہندو قیادت کا چھوٹا پن صرف بی جے پی کی قیادت کے ساتھ مخصوص ہے لیکن ایسا نہیں ہے بھارت کی ہندو قیادت ڈیڑھ سو سال سے ہر مرحلے پر چھوٹے پن کا مظاہرہ کررہی ہے۔ موہن داس کرم چند گاندھی سے بڑا رہنما ہندوستان نے پیدا نہیں کیا مگر گاندھی کے زمانے میں ہندو ’’شدھی‘‘ کی تحریک چلائے ہوئے تھے۔ اس تحریک کے تحت غریب مسلمانوں کو پیسے کا لالچ دے کر ہندو بنایا جارہا تھا اور ان سے کہا جارہا تھا کہ تم کبھی ہندو ہی تھے۔ تم برصغیر میں مسلمانوں کی آمد کے بعد مسلمان ہوئے۔ چنانچہ تم ایک بار پھر ’’پاک‘‘ یا ’’شدھ‘‘ ہو کر دوبارہ ہندو ازم کا حصہ بن جائو۔ گاندھی شدھی کی اس تحریک سے پوری طرح آگاہ تھے۔ مگر انہوں نے کبھی ہندوئوں سے یہ

نہیں کہا کہ تم مسلمانوں کو لالچ دے کر اور دبائو ڈال کر کیوں ہندو بنارہے ہو۔ مولانا محمد علی جوہر اس پوری صورت حال سے آگاہ تھے اور وہ اپنے اخبار کامریڈ میں گاندھی سے چیخ چیخ کر پوچھ رہے تھے کہ آپ مسلمانوں کو زبرستی ہندو بنانے کی مہم کا نوٹس کیوں نہیں لیتے؟ منشی پریم چند اردو افسانے کے بنیاد گزار تھے۔ ان کا افسانہ عیدگاہ معرکہ آرا اور اردو کے دس بڑے افسانوں میں سے ایک ہے۔ اس افسانہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ پریم چند اسلام اور اسلامی تہذیب سے بے انتہا متاثر تھے مگر پریم چند گاندھی کے زیر اثر آگئے تو انہوں نے اردو میں افسانے اور ناول لکھنا ترک کردیا اور وہ ہندی میں افسانے اور ناول لکھنے لگے۔ حالانکہ اردو اور ہندی کا باہمی تعلق یہ ہے کہ اردو کا 30 فی صد ذخیرۂ الفاظ ہندی سے آیا ہے اور مسلمانوں نے ہندی کے اس ذخیرۂ الفاظ کو ہمیشہ سینے سے لگا کر رکھا ہے اور کبھی اس ذخیرۂ الفاظ سے تعصب نہیں برتا۔ گاندھی کے مسلمانوں سے تعصب برتنے کی ایک اور بڑی مثال یہ ہے کہ نہرو کی بہن وجے لکشمی پنڈت نے ایک مسلمان سے شادی کرلی تھی۔ گاندھی کو اس کی اطلاع ملی تو وہ بہت ناراض ہوئے، انہوں نے وجے لکشمی پنڈت کو اپنے پاس بلایا اور کہا کہ تمہیں کروڑوں ہندو نوجوانوں میں ایک بھی اس قابل نہیں لگا کہ تم اس سے شادی کرو۔ تمہیں پسند آیا تو ایک مسلمان۔ گاندھی وجے لکشمی پنڈت کو سخت سست کہہ کر نہیں رہ گئے۔ انہوں نے ان کی شادی ختم کرادی۔

بھارت کے پہلے وزیراعظم پنڈت جواہر لعل نہرو ایک سیکولر انسان تھے۔ اردو ان کے اپنے الفاظ میں ان کی مادری زبان تھی۔ درجنوں مسلمانوں سے نہرو کی دوستیاں تھیں مگر 1947ء میں جب ہندوستان میں مسلم کش فسادات شروع ہوئے اور ان فسادات نے دہلی کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا تو مولانا ابوالکلام آزاد نے ایک دن نہرو سے کہا کہ دہلی میں مسلمانوں کا قتل عام ہورہا ہے۔ چنانچہ آپ کو اس سلسلے میں فوراً کچھ کرنا چاہیے۔ نہرو نے کہا تو صرف یہ کہ میں وزیر داخلہ سردار پٹیل سے کئی بار کہہ چکا ہوں کہ وہ مسلم کش فسادات کو روکیں مگر وہ میری بات ہی نہیں سنتے۔ نہرو گاندھی کے بعد کانگریس کی اہم ترین شخصیت تھے، وہ بھارت کے وزیراعظم تھے، یہ ہو ہی نہیں سکتا تھا کہ وہ وزیرداخلہ سے کچھ کہیں اور وزیر داخلہ ان کی بات نہ مانے۔

پاکستان ایک پرامن جدوجہد کا حاصل تھا، چنانچہ اس کی تخلیق کو بھی پرامن ہونا چاہیے تھا۔ لیکن ہندو قیادت نے تخلیق پاکستان کو خون آشام بنادیا۔ قیام پاکستان کے بعد ہونے والے فسادات میں 10 لاکھ سے زیادہ مسلمان شہید ہوئے۔ ہزاروں مسلمان خواتین اغوا ہوئیں، یہاں تک بھارت نے پاکستان کے حصے کے اثاثے روک لیے۔ یہ عمل اتنا ہولناک اور شرمناک تھا کہ گاندھی کو اس پر شرم آگئی اور انہوں نے تادم مرگ بھوک ہڑتال کردی۔ چنانچہ بھارتی حکومت کو پاکستان کے حصے کی رقم جاری کرنی پڑ گئی۔

1970ء میں مشرقی پاکستان کے اندر جو سیاسی بحران پیدا ہوا وہ پاکستان کا ’’داخلی معاملہ‘‘ تھا مگر اندرا گاندھی نے پاکستان کے داخلی معاملات میں مداخلت کرتے ہوئے مشرقی پاکستان میں فوج داخل کردی۔ چنانچہ 16 دسمبر 1971ء کو پاکستان دولخت ہوگیا۔ یہ بھارت کی ایک بہت ہی بڑی کامیابی تھی اور بھارت کی قیادت اس پر جتنا خوش ہوتی کم تھا، مگر اندرا گاندھی صرف مشرقی پاکستان کو بنگلا دیش بنا کر خوش نہیں ہوئیں۔ انہوں نے قوم سے خطاب فرمایا اور کہا کہ آج ہم نے (مسلمانوں سے) ایک ہزار سال کی تاریخ کا بدلہ لے لیا ہے اور ہم نے دو قومی نظریے کو خلیج بنگال میں غرق کردیا ہے۔ اندرا گاندھی کے اس بیان سے ثابت ہوا کہ ہندو قیادت کا مسئلہ صرف پاکستان نہیں اسلام بھی ہے۔ ہندو قیادت صرف پاکستان کو نیست و نابود نہیں کرنا چاہتی وہ اسلام کو بھی صفحہ ہستی سے مٹادینے کا خواب دیکھتی ہے۔

بابری مسجد 1992ء میں شہید کی گئی۔ اس وقت بھارت پر بی جے پی کی نہیں کانگریس کی حکومت تھی۔ اس وقت کانگریس کے نرسہمارائو ملک کے وزیر اعظم تھے۔ وہ بابری مسجد کے اطراف میں 20 ہزار پولیس والے تعینات کردیتے تو بابری مسجد کی شہادت کو روکا جاسکتا تھا۔ لیکن بابری مسجد کی شہادت کے پورے دن نرسہما رائو سوتے رہے اور ہندو انتہا پسندوں نے بابری مسجد شہید کردی۔

بھارت کے ڈاکٹر ذاکر نائک کا تعلق کسی ’’اتنہا پسند‘‘ تنظیم سے نہیں ہے۔ وہ کھلے عام مکالمے کے قائل ہیں۔ وہ اپنے علم سے مذاہب عالم کی مماثلتوں اور امتیازات کو عیاں کرتے ہیں۔ ان کی فکر سے متاثر ہو کر سہکڑوں ہندو مسلمان ہوئے ہیں۔ مگر بھارت کی کم ظرف ہندو قیادت انہیں بھی برداشت نہ کرسکی۔ ہندو قیادت نے ذاکر نائک پر بھی انتہا پسندی کا الزام لگادیا اور ذاکر نائک کو ہندوستان چھوڑنا پڑا۔ بھارت کے ہندوئوں کی آبادی ایک ارب 15 کروڑ ہے مگر بھارت کی اتنی بڑی آبادی ڈاکٹر ذاکر کا علمی مقابلہ نہ کرسکی۔ یہاں سوال یہ ہے کہ آخر بھارت کی ہندو قیادت کے چھوٹے پن کے اسباب کیا ہیں؟

بھارت کی ہندو اکثریت 1200 سال سے غلام چلی آرہی ہے۔ وہ ایک ہزار سال تک مسلمانوں کی اور 200 سال تک انگریزوں کی غلام رہی۔ انسان غلامی کو قبول کرلے تو اس کی ہر چیز چھوٹی ہوجاتی ہے۔ دل و دماغ اور ظرف بھی۔ چنانچہ ہندو قیادت کے چھوٹے پن کی ایک وجہ غلامی ہے۔ ہندو قیادت کے چھوٹے پن کی دوسری وجہ یہ ہے کہ ہندو ازم ایک جغرافیائی حقیقت ہے۔ اس میں اسلام جیسی آفاقیت نہیں ہے۔ ’’مقامیت‘‘ کی پوجا قوموں کی ہر چیز کو چھوٹا کردیتی ہے جو مذہب ذات پات کے تعصب کا شکار ہو کر اپنے لوگوں کے ساتھ اچھا سلوک نہ کرسکے وہ ’’غیروں‘‘ کے ساتھ اچھا سلوک کیسے کرے گا؟

 

شاہنواز فاروقی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: بھارت کی ہندو قیادت کا پاکستان کے نے پاکستان پاکستان کو مگر بھارت گاندھی کے چھوٹے پن بھارت کے قیادت کے انہوں نے ایشیا کپ یہ ہے کہ کے ساتھ ہے اور کہا کہ کے بعد

پڑھیں:

بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے

لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔23 جولائی ۔2026 ) صوبائی دارالحکومت لاہور میں علامہ اقبال ٹاﺅن مین بلیوارڈکی سروس روڈپربھیکے وال کے نزدیک 10فٹ گہرا شگاف پڑگیا ہے‘اسی طرح جوہر ٹاﺅن مصروف ترین شاہراہ خیابان فردوسی پر ایک اورگڑھا پڑ گیاہے گزشتہ تین روز کے دوران مذکورہ سڑک پریہ دوسرا گڑھا پڑا. بارش کے بعد مرکزی شاہراہ پر گڑھنے پڑنے سے حادثات کا خدشہ بڑھ گیا حکام کے مطابق سڑک کی مرمت کا کام شروع ہوگیا گڑھا پڑنے سے ٹریفک کی روانی جزوی طور پر متا ثر ہوئی دوسری جانب اقبال ٹاﺅن میں بھیکے والے موڑ جانب فاروق ہسپتال سروس روڈ پر 10 فٹ گہرا شگاف پڑ گیا.

(جاری ہے)

سڑک کے درمیان پڑنے والے گہرے شگاف کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہو رہی ہے شگاف پڑنے سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، متعلقہ افسران اور واسا کی ٹیمیں موجود ہیں ٹریفک پولیس کا کہنا ہے کہ متعلقہ محکموں نے سروس روڈ پر شگاف پر کرنے کیلئے کام شروع کردیا. واضح رہے کہ 17جولائی کو ہونے والی بارش سے فیروزپور روڈ پرنشتر کالونی کے قریب سروس روڈ کا ایک حصہ بیٹھ گیا تھا جس کے نتیجے میں وہاں کھڑی تین موٹر سائیکلیں گڑھے میں جا گریں تھیں.

شہریوں کا کہنا ہے کہ پورے شہر کے اندر یہی حال ہے بارشوں میںمتوسط آبادیوںکے اندر سڑکوں کے بیٹھ جانے کے واقعات زیادہ ہوتے ہیں مگر انہیں کوریج نہیں ملتی‘نجی یونیورسٹی کے لیکچرار معاذالاسلام سول انجینئرنگ پڑھاتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ بدقسمتی سے پاکستان میں سب سے زیادہ بدعنوانی اس شعبے میں ہے ناقص میٹریل اور زمین کی کمپریشن عالمی لیول کی نہیں کی جاتی .

ان کا کہنا ہے کہ ٹھیکے دار اب کئی دن مٹی کو کمپریس کرنے میں نہیں لگا اور نہ ہی میٹریل ڈالنے کے بعد ٹھیک طریقے سے اسے کمپریس کیا جاتا ہے ‘مٹی نرم ہونے سے اگر پانی راستہ بنالے تو چند ہفتوں میں ہی اس ایریا کے نیچے زمین کھوکھلی ہوجاتی ہے اور بارشوں کے دوران شگاف پڑنے لگتے ہیں. انہوں نے بتایا کہ لاہور فیصل آباد موٹر وے کو جب تجرباتی طور پرچھوٹی گاڑیوں کے لیے کھولا گیا تھا تو لاہور سے فیصل آباد کے سفر کے دوران انہوں نے نوٹ کیا تھا کہ کئی سو ارب کی لاگت سے بنی اس سڑک میں لیول کا بھی خیال نہیں رکھا تھا اور یہ موٹروے مکمل طور پر ناہموار تھا جس پر انہوں نے کچھ دیگر انجینئرز کے ساتھ مل کر ایک تجزیاتی رپورٹ این ایچ اے اور پنجاب حکومت کو ارسال کی تھی تاہم آج تک ہمیں اس پر کوئی جواب نہیں ملا.

متعلقہ مضامین

  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف