data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251003-11-12
سکھر(نمائندہ جسارت) سکھر میں سیپکو کی طویل غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ، اوور بلنگ ، ناجائز ڈیڈکشن کیخلاف سکھر ڈویلپمنٹ الائنس، سکھر اسمال ٹریڈرز کی جانب سے احتجاجی ریلی ، زیر اہتمام بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ اور دیگر مظالم کے خلاف گولڈ سینٹر صرافہ بازار سے گھنٹہ چوک تک ایس ڈی اے چیئرمین ، سکھر اسمال ٹریڈرز کے صدر حاجی محمد جاوید میمن اور دیگر رہنمائوں کی قیادت میں احتجاجی ریلی نکالی گئی،عوام اور تاجر برادری نے سیپکو کے خلاف بھرپور نعرے بازی بھی کی۔ گھنٹہ گھر چوک پر احتجاجی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے حاجی محمد جاوید میمن و دیگر رہنمائوں کا کہنا تھا کہ سیپکو سکھرکی عوام کا ادارہ ہے لیکن یہ عوام پر ہی ظلم و ستم کے پہاڑ گرا رہا ہے، ایکسپریس ایریاز کے اندر 6 سے 8 گھنٹے اور سائیڈ کے علاقوں میں 16سے 18 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کی جا رہی ہے بلوں میں ناجائز ڈیڈکشن لگائی جا رہی ہیں، بجلی ویسے ہی مہنگی ہے لیکن عوام کو ایکسٹرا بلنگ سے اور پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ لوڈشیڈنگ سے کاروبار زندگی تباہ و برباد ہوچکا ہے ، عوام لوڈشیڈنگ سے پریشان ہیں گھروں میں چھوٹے بچے اور خواتین لوڈشیڈنگ سے دہرے عذاب میں مبتلا ہیں، سیپکو افسران سب اچھا کا نعرہ لگاتے ہیں لیکن عوام کو اور تاجر برادری کو سہولیات فراہم کرنے میں ناکام ہوچکے ہیں، بجلی چوری میں سیپکو افسران اور اہلکاروں کی آشیرباد شامل ہوتی ہے اور اس کا خمیازہ بل بھرنے والے صارفین کو اٹھانا پڑتا ہے۔ المیہ تو یہ ہے کہ بوگس میٹر لگا کر عوام سے ماہانہ وصول کیا جا رہا ہے جس سے سیپکو کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ ٹرانسفرامرز پر اوور لوڈ ہونے کی وجہ سے ٹرانسفارمر پھٹ جاتے ہیں جس کیلئے بھی عوام سے بھتا وصول کیا جاتا ہے کہ سیپکو ایک منافع بخش ادارہ ہے لیکن اس میں موجود کالی بھیڑوں نے کرپٹ ادارہ بنا دیا ہے ، ڈائریکٹرز آف بورڈ میں سیاسی بنیادوں پر رکھے گئے ممبران اپنے ذاتی مقاصد تو حاصل کر رہے ہیں لیکن عوام کو ریلیف نہیں مل رہا۔ آج کا احتجاج ایک آغاز ہے اگر سیپکو نے اپنا قبلہ درست نہ کیا تواحتجاجی تحریک کو بڑھاتے ہوئے ان کے دفاتر کے باہر دھرنے دیے جائیں گے اور کرپٹ افسران کا بھی گھیرائو کیا جائے گا۔ احتجاجی ریلی میں سکھر ڈیویلپمنٹ الائنس، سکھر اسمال ٹریڈرز کے رہنمائوں غلام مصطفی پھلپوٹو،حاجی غلام شبیر بھٹو، محمد عامر فاروقی، علامہ نور احمد قاسمی، آغا طاہر مغل، عیدن جاگیرانی،بابو فاروقی، شہزادو بھٹو، بابو مہر، محمد رضوان قادری، شاہ محمد انڈھڑ، عبدالباری انصاری، طارق علی میرانی، محمد منیر بھٹی، آغا محمد اکرم درانی، ڈاکٹر سعید اعوان، نثار خان، سلیم جاگیرانی، سید عمیر شاہ، محمد شعیب میمن، رشید ہدایت اللہ، عتیق اللہ سومرو، جاوید میمن، محمد فاروق میمن، وقاص بدر، دلشاد میمن، حاجی محمد علی، ابوبکر، جاوید قادری، ریاض، وکی میمن، محمد عاصم فاروقی، محمد اکرم، راشد صدیقی، محمد عرفان، محمد فیصل، محمد ناظم،محمد شہزاد، الیاس،خالد سومرو سمیت تاجروں اور شہریوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: اسمال ٹریڈرز احتجاجی ریلی

پڑھیں:

خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم

پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔

پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔

احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔

فیصلے کے مطابق نیب خیبرپختونخوا اپرکوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔

فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔

احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔

فیصلے میں مزید بتایا گیا کہ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ضبط شدہ رقم چیئرمین نیب کے نیشنل بینک آف پاکستان، پی ایم سیکریٹریٹ برانچ اسلام آباد کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔

عدالتی فیصلے کے مطابق ضبط شدہ رقم ملزم کی پلی بارگین کے تحت واجب الادا رقم میں ایڈجسٹ کی جائے گی۔

متعلقہ مضامین

  • طالبان رجیم کیخلاف مزاحمتی تحریکوں میں شدت
  • بالآخر بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین نے بھی مستعفی ہونے کا فیصلہ کرلیا
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • گل فیروزہ، سدرہ امین اور نشرہ سندھو کی شاندار کارکردگی، پاکستان نے سری لنکا کیخلاف پہلا پہلے ون ڈے جیت لیا
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن