سکھر،ڈویلپمنٹ الائنس ،اسمال ٹریڈرز کی جانب سے سیپکو کیخلاف احتجاج
اشاعت کی تاریخ: 3rd, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251003-11-12
سکھر(نمائندہ جسارت) سکھر میں سیپکو کی طویل غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ، اوور بلنگ ، ناجائز ڈیڈکشن کیخلاف سکھر ڈویلپمنٹ الائنس، سکھر اسمال ٹریڈرز کی جانب سے احتجاجی ریلی ، زیر اہتمام بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ اور دیگر مظالم کے خلاف گولڈ سینٹر صرافہ بازار سے گھنٹہ چوک تک ایس ڈی اے چیئرمین ، سکھر اسمال ٹریڈرز کے صدر حاجی محمد جاوید میمن اور دیگر رہنمائوں کی قیادت میں احتجاجی ریلی نکالی گئی،عوام اور تاجر برادری نے سیپکو کے خلاف بھرپور نعرے بازی بھی کی۔ گھنٹہ گھر چوک پر احتجاجی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے حاجی محمد جاوید میمن و دیگر رہنمائوں کا کہنا تھا کہ سیپکو سکھرکی عوام کا ادارہ ہے لیکن یہ عوام پر ہی ظلم و ستم کے پہاڑ گرا رہا ہے، ایکسپریس ایریاز کے اندر 6 سے 8 گھنٹے اور سائیڈ کے علاقوں میں 16سے 18 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کی جا رہی ہے بلوں میں ناجائز ڈیڈکشن لگائی جا رہی ہیں، بجلی ویسے ہی مہنگی ہے لیکن عوام کو ایکسٹرا بلنگ سے اور پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ لوڈشیڈنگ سے کاروبار زندگی تباہ و برباد ہوچکا ہے ، عوام لوڈشیڈنگ سے پریشان ہیں گھروں میں چھوٹے بچے اور خواتین لوڈشیڈنگ سے دہرے عذاب میں مبتلا ہیں، سیپکو افسران سب اچھا کا نعرہ لگاتے ہیں لیکن عوام کو اور تاجر برادری کو سہولیات فراہم کرنے میں ناکام ہوچکے ہیں، بجلی چوری میں سیپکو افسران اور اہلکاروں کی آشیرباد شامل ہوتی ہے اور اس کا خمیازہ بل بھرنے والے صارفین کو اٹھانا پڑتا ہے۔ المیہ تو یہ ہے کہ بوگس میٹر لگا کر عوام سے ماہانہ وصول کیا جا رہا ہے جس سے سیپکو کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ ٹرانسفرامرز پر اوور لوڈ ہونے کی وجہ سے ٹرانسفارمر پھٹ جاتے ہیں جس کیلئے بھی عوام سے بھتا وصول کیا جاتا ہے کہ سیپکو ایک منافع بخش ادارہ ہے لیکن اس میں موجود کالی بھیڑوں نے کرپٹ ادارہ بنا دیا ہے ، ڈائریکٹرز آف بورڈ میں سیاسی بنیادوں پر رکھے گئے ممبران اپنے ذاتی مقاصد تو حاصل کر رہے ہیں لیکن عوام کو ریلیف نہیں مل رہا۔ آج کا احتجاج ایک آغاز ہے اگر سیپکو نے اپنا قبلہ درست نہ کیا تواحتجاجی تحریک کو بڑھاتے ہوئے ان کے دفاتر کے باہر دھرنے دیے جائیں گے اور کرپٹ افسران کا بھی گھیرائو کیا جائے گا۔ احتجاجی ریلی میں سکھر ڈیویلپمنٹ الائنس، سکھر اسمال ٹریڈرز کے رہنمائوں غلام مصطفی پھلپوٹو،حاجی غلام شبیر بھٹو، محمد عامر فاروقی، علامہ نور احمد قاسمی، آغا طاہر مغل، عیدن جاگیرانی،بابو فاروقی، شہزادو بھٹو، بابو مہر، محمد رضوان قادری، شاہ محمد انڈھڑ، عبدالباری انصاری، طارق علی میرانی، محمد منیر بھٹی، آغا محمد اکرم درانی، ڈاکٹر سعید اعوان، نثار خان، سلیم جاگیرانی، سید عمیر شاہ، محمد شعیب میمن، رشید ہدایت اللہ، عتیق اللہ سومرو، جاوید میمن، محمد فاروق میمن، وقاص بدر، دلشاد میمن، حاجی محمد علی، ابوبکر، جاوید قادری، ریاض، وکی میمن، محمد عاصم فاروقی، محمد اکرم، راشد صدیقی، محمد عرفان، محمد فیصل، محمد ناظم،محمد شہزاد، الیاس،خالد سومرو سمیت تاجروں اور شہریوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اسمال ٹریڈرز احتجاجی ریلی
پڑھیں:
ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟
ایران امریکا مذاکرات میں دُنیا پاکستان کے ثالثی کردار کی تعریف کر رہی ہے۔ یورپی یونین کی نائب صدر کاجا کالاس نے گزشتہ روز اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے کردار کی زبردست تعریف کی۔
اس سے قبل پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے دورہ واشنگٹن کے دوران جب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات کی تو انہوں نے بھی پاکستان کے کردار کی کھل کر تعریف کی۔
لیکن اِس سب کے باوجود امریکا ایران تنازعے کا پائیدار حل نظر نہیں آ رہا جس کی بُنیادی وجہ دونوں فریقین کے درمیان اعتماد کا فقدان اور اسرائیل کی جانب سے غزہ اور اب لبنان میں نہ رُکنے والی جنگی جارحیت ہے، حالاں کہ ایرانی وزیرِخارجہ عباس عراقچی نے اس بات کو کھل کر دُہرایا کہ جنگ بندی معاہدے میں لبنان بھی شامل ہے۔
گزشتہ 10 روز میں کیا پیش رفت ہوئی؟مختلف سفارتی ذرائع کے مطابق حالیہ دنوں میں تہران اور واشنگٹن کے درمیان متعدد بالواسطہ رابطے اور مذاکرات ہوئے جن کے بنیادی نکات میں جنگ بندی پر عملدرآمد، آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کا تحفظ، پابندیوں میں ممکنہ نرمی، منجمد ایرانی اثاثوں کا معاملہ اور ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق اختلافات کو دور کرنا شامل تھا۔
مغربی میڈیا کے مطابق فریقین ایک عبوری معاہدے کے قریب پہنچ گئے تھے تاہم ایرانی حُکام ایسی خبروں کی تردید کر رہے ہیں۔ ایرانی حُکام اپنا مؤقف کھل کر بیان کر رہے ہیں کہ کسی بھی حتمی معاہدے کے اعلان سے قبل عملی اقدامات اور قابلِ تصدیق ضمانتیں ضروری ہیں، یہی وجہ ہے کہ مذاکرات جاری ہونے کے باوجود حتمی پیش رفت کا اعلان ابھی تک سامنے نہیں آیا۔
لبنان پر اسرائیلی جارحیت اور ایرانی وزیرِ خارجہ کا بیانتازہ ترین اور شاید سب سے اہم پیش رفت ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی کے اس بیان کی صورت میں سامنے آئی جس میں انہوں نے واضح کیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والی کسی بھی جنگ بندی کا اطلاق پورے خطے پر ہوگا۔
عباس عراقچی نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان سیز فائر کا اطلاق ’تمام محاذوں پر مکمل جنگ بندی‘ سے تعبیر ہے، جس میں لبنان بھی شامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اگر کسی ایک محاذ پر جنگ بندی کی خلاف ورزی ہوئی تو اسے تمام محاذوں پر جنگ بندی کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا اور اس کے نتائج کی ذمہ داری امریکا اور اسرائیل پر عائد ہوگی‘۔
پاکستان کی تازہ سفارتکاری کوششیںگزشتہ 10 روز کے دوران پاکستان کی سفارتی سرگرمیوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے تہران کے دورے، ایرانی قیادت سے ملاقاتیں اور پاکستانی حکام کی مسلسل رابطہ کاری نے یہ تاثر مضبوط کیا کہ اسلام آباد تہران اور واشنگٹن کے درمیان ایک اہم سفارتی چینل کے طور پر کام کر رہا ہے۔
اسی دوران پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے دورہ تہران نے سفارتی حلقوں کی خصوصی توجہ حاصل کی۔ متعدد مبصرین کے مطابق پاکستان صرف پیغامات منتقل نہیں کر رہا بلکہ اعتماد سازی اور مذاکراتی عمل کو برقرار رکھنے میں بھی کردار ادا کر رہا ہے۔
واشنگٹن میں اسحاق ڈار اور مارکو روبیو کی ملاقاتپاکستان کی سفارت کاری کی اہمیت اس وقت مزید نمایاں ہوئی جب نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات ہوئی۔اس ملاقات میں ایران، امریکا مذاکرات، علاقائی سلامتی، آبنائے ہرمز اور پاکستان کی سفارتی کوششوں پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
امریکی قیادت کی جانب سے پاکستان کے کردار کو سراہا جانا اس بات کا اشارہ تھا کہ واشنگٹن اسلام آباد کو ایک مؤثر رابطہ کار کے طور پر دیکھ رہا ہے۔
یورپی یونین کی غیر معمولی تائیدیکم جون 2026 کو اسلام آباد میں ہونے والے 8 ویں پاکستان، یورپی یونین اسٹریٹجک ڈائیلاگ نے پاکستان کی سفارتی حیثیت کو مزید تقویت دی۔
اجلاس کی صدارت پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ کاجا کلاس نے مشترکہ طور پر کی جس کے بعد جاری مشترکہ اعلامیے کا سب سے اہم پہلو یہ تھا کہ کاجا کالاس نے ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کی پاکستانی کوششوں کو تعمیری اور بامعنی قرار دیا۔
اعلامیے میں خاص طور پر امریکا اور ایران کے درمیان پاکستان کی ثالثی اور اسلام آباد مذاکرات کا ذکر کیا گیا ہے۔ یورپی یونین نے نہ صرف پاکستان کے کردار کو سراہا بلکہ آبنائے ہرمز میں آزاد اور محفوظ بحری آمدورفت کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
یہ ایک غیر معمولی سفارتی پیش رفت ہے کیونکہ اس سے قبل پاکستان کی ثالثی کو زیادہ تر علاقائی تناظر میں دیکھا جا رہا تھا، جبکہ اب یورپی یونین بھی اسے باضابطہ طور پر تسلیم کر رہی ہے۔
’آبنائے ہرمز ‘ مذاکرات کا اصل مرکزموجودہ بحران میں ’آبنائے ہرمز‘ صرف ایک بحری گزرگاہ نہیں بلکہ عالمی سیاست اور معیشت کا مرکزی نقطہ بن چکی ہے۔ دنیا کے بیشتر ممالک کو توانائی سپلائی کا ایک بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔اسی لیے ایران، امریکا، یورپی یونین اور پاکستان سب اس بات پر متفق دکھائی دیتے ہیں کہ ’آبنائے ہرمز‘ میں کشیدگی کم کرنا اور محفوظ جہاز رانی کو یقینی بنانا ضروری ہے۔
اگرچہ جنگ بندی برقرار ہے، سفارتی رابطے بھی جاری ہیں لیکن اختلافی مسائل اب بھی باقی ہیں۔تاہم ایک حقیقت واضح ہے کہ ’ مذاکرات ٹوٹے نہیں بلکہ آگے بڑھے ہیں‘۔
امریکا، ایران، پاکستان اور یورپی یونین سب سفارتی راستے کو زندہ رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اگر آنے والے ہفتوں میں کوئی عبوری معاہدہ، توسیع شدہ جنگ بندی یا وسیع علاقائی سلامتی فریم ورک وجود میں آتا ہے تو پاکستان کو صرف ایک سہولت کار نہیں بلکہ اس پورے سفارتی عمل کے اہم معماروں میں شمار کیا جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیل امریکا ایران پاکستان تہران سفارت کاری کاجا کالاس مذاکرات واشنگٹن یورپی یونین