شوبز انڈسٹری میں کئی مردوں نے حد سے تجاوز کرنے کی کوشش کی؛ عائشہ عمر کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 3rd, October 2025 GMT
پاکستانی اداکارہ اور پروڈیوسر عائشہ عمر نے ایک شو میں اپنے انٹرویو کے دوران بتایا کہ کم عمری میں شوبز انڈسٹری میں قدم رکھنے کے بعد انہیں کئی مردوں کی طرف سے حدوں کو پار کرنے کی کوششوں کا سامنا کرنا پڑا۔
عائشہ عمر نے کہا کہ ان کے ساتھ اکثر لوگ سنجیدگی سے پیش نہیں آتے تھے، جس کی دو بڑی وجوہات تھیں – ایک تو ان کی کم عمری اور دوسرا ان کا کھلنڈرا پن۔ انہوں نے وضاحت کی کہ ’’بہت سارے مرد حضرات حدیں کراس کرنے کی کوشش کرتے تھے اور اس دوران مجھے خود کو مضبوط ظاہر کرنا پڑتا تھا تاکہ کوئی یہ نہ سمجھے کہ میں کمزور ہوں۔‘‘
اداکارہ نے بتایا کہ انہوں نے اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے ایک ’نان سینس‘ رویہ اپنایا تاکہ لوگ انہیں سنجیدگی سے لیں۔ جب وہ لاہور سے کراچی منتقل ہوئیں اور اکیلے رہنے لگیں تو یہ رویہ اور بھی ضروری ہو گیا، کیونکہ اکیلی لڑکی کو معاشرے میں اکثر کمزور سمجھا جاتا ہے۔
شو کے دوران عائشہ عمر نے اپنے کیریئر کی چند غلطیوں کا اعتراف بھی کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ماضی میں انہوں نے کچھ ایوارڈ شوز کیے جن کی مکمل ادائیگی آج تک نہیں ہو سکی۔ یہ باتیں انہوں نے اس وقت شیئر کیں جب وہ اپنے ابتدائی کیریئر کے چیلنجوں پر روشنی ڈال رہی تھیں۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: انہوں نے
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔