چرچ آف انگلینڈ کی تاریخ میں پہلی خاتون آرچ بشپ آف کینٹربری مقرر
اشاعت کی تاریخ: 3rd, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لندن:۔ چرچ آف انگلینڈ نے اپنی 1,400 سالہ تاریخ میں پہلی بار خاتون کو آرچ بشپ آف کینٹربری مقرر کیا ہے۔ 63 سالہ سارہ ملَلی اس عہدے پر فائز ہونے والی پہلی خاتون ہیں۔
خاتون آرچ بشپ آف کینٹربری کی تعیناتی کا اعلان جمعہ کے روز کیا گیا، تاہم یہ فیصلہ فوری طور پر قدامت پسند اینگلیکن رہنمائوں، بالخصوص افریقا میں موجود کلیسائوں کی جانب سے تنقید کی زد میں آ گیا جو خواتین بشپ کی تقرری کے خلاف ہیں۔
ملَلی نہ صرف چرچ آف انگلینڈ کی سربراہی کریں گی بلکہ دنیا بھر میں موجود 8 کروڑ 50 لاکھ اینگلیکنز کی علامتی قیادت بھی ان کے ہاتھ میں ہوگی۔ ان کا سب سے بڑا چیلنج چرچ کے اندر قدامت پسندوں اور لبرل نظریات رکھنے والے اراکین کے درمیان بڑھتے ہوئے اختلافات کو کم کرنا ہوگا۔
کینٹربری کیتھیڈرل میں اپنے پہلے خطاب میں مللَلی نے چرچ میں جنسی استحصال کے اسکینڈلز اور سکیورٹی کے مسائل پر کھل کر بات کی اور برطانیہ میں یہود دشمنی کے بڑھتے رجحان کی بھی مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ مانچسٹر میں گزشتہ روز یہودی عبادت گاہ پر حملہ جس میں دو افراد ہلاک ہوئے، اس بات کا ثبوت ہے کہ نفرت ہمارے معاشروں کی دراڑوں سے سر اٹھا رہی ہے۔
مللَلی 2018 سے بشپ آف لندن کے طور پر خدمات انجام دے رہی ہیں اور وہ چرچ میں کئی لبرل اصلاحات کی حامی رہی ہیں۔ وہ ہم جنس جوڑوں کی سول شادیاں اور پارٹنرشپس میں برکت دینے کے حق میں بھی موقف اختیار کر چکی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ چرچ کے ہر مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والوں کو ساتھ لے کر چلیں گی “میرا مقصد ایسا چرواہا بننا ہے جو سب کی خدمت اور ان کے مشن کو پروان چڑھانے میں مدد کرے، چاہے وہ کسی بھی روایت سے ہوں”۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
پُرتعیش گاڑیاں بنانے والی عالمی شہرت یافتہ کمپنی فراری کی پہلی مکمل الیکٹرک گاڑی منظرِ عام پر آتے ہی شدید تنقید کی زد میں آ گئی، جس کے اثرات کمپنی کی مارکیٹ پوزیشن پر بھی نمایاں طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔
’لُوچے‘نامی اس نئی الیکٹرک گاڑی کو معروف ڈیزائنر سر جونی آئیو کے تخلیقی وژن کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ اطالوی زبان میں ’لُوچے‘ کا مطلب ’روشنی‘ ہے۔ تاہم، گاڑی کا ڈیزائن اور مجموعی تصور صارفین اور ناقدین کی توقعات پر پورا نہ اتر سکا۔
فراری کی تاریخ میں پہلی بار متعارف کرائی گئی پانچ نشستوں والی اس الیکٹرک گاڑی کو غیرمعمولی کارکردگی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔
کمپنی کے مطابق یہ گاڑی محض ڈھائی سیکنڈ میں صفر سے 96 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر سکتی ہے۔ اس کی قیمت 6 لاکھ 40 ہزار ڈالر، یعنی پاکستانی کرنسی میں تقریباً 18 کروڑ روپے رکھی گئی ہے۔
گاڑی کی تقریبِ رُونمائی میں اٹلی کی اہم شخصیات سمیت ملک کے صدر اور عیسائی برادری کے روحانی پیشوا پوپ لیو کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ تاہم، شاندار تقریب کے باوجود مارکیٹ کا ردِعمل فراری کے لیے حوصلہ افزا ثابت نہ ہو سکا۔
رونمائی کے صرف ایک دن بعد ہی کمپنی کے شیئرز کی قیمت میں آٹھ فی صد تک کمی ریکارڈ کی گئی، جسے سرمایہ کاروں کی مایوسی اور مارکیٹ کے منفی ردِعمل کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ناقدین، سرمایہ کاروں اور بعض سیاسی شخصیات نے بھی گاڑی کے ڈیزائن اور تصور پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر اس کے منفرد انداز کو لے کر ملا جلا ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی عالمی مارکیٹ میں فراری کا یہ قدم تاریخی ضرور ہے، مگر کمپنی کو روایتی اسپورٹس کار کے شوقین صارفین کو قائل کرنے کے لیے مزید محنت کرنا پڑ سکتی ہے۔