برطانیہ؛ یہودی عبادت گاہ پر حملہ کرنے والا جہاد الشامی کون تھا ؟
اشاعت کی تاریخ: 3rd, October 2025 GMT
مانچسٹر میں یہودی عبادت گاہ پر حملہ کرنے والے شخص کی شناخت 35 سالہ جہاد الشامی کے نام سے ہوئی ہے۔
برطانوی میڈیا کے مطابق جہاد الشامی بچپن میں اپنے خاندان کے ہمراہ بطور تارکین وطن آیا تھا اور سنہ 2000 میں برطانوی شہریت حاصل کی۔
جہاد الشامی مانچسٹر کے پریس وِچ علاقے کی لینگلی کریسنٹ نامی ایک پرسکون گلی میں اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ رہتا تھا۔
پولیس نے اس مکان پر چھاپہ مارا اور وہاں سے موبائل، کمپیوٹرز اور کچھ دستاویز تحویل میں لے لیں تاکہ تفتیش کو آگے بڑھایا جا سکے۔
مانچسٹر پولیس کا کہنا ہے کہ 30 سے 40 سال کے درمیان کی عمر والے دو مردوں اور ایک 60 سالہ خاتون کو دہشت گردی کی کارروائی کی تیاری یا اس میں ملوث ہونے کے شبے میں حراست میں لیا گیا ہے۔
پڑوسیوں نے بتایا کہ جہاد الشامی نے کبھی شدت پسندانہ رویے کا اظہار نہیں کیا۔ وہ اکثر گھر کے باغ میں ورزش کرتا نظر آتا تھا اور کبھی مغربی لباس تو کبھی شامی روایتی کپڑے پہنتا تھا۔
ایک اور پڑوسی نے بتایا کہ وہ ایک عام شخص کی طرح تھا، سب سے بات چیت کرتا تھا اور نہ کبھی کسی سے جھگڑا ہوا۔ اس کے خیالات بھی متشدد نہیں تھے۔
جہاد الشامی کے خاندان کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں اس واقعے کی شدید مذمت کی گئی ہے۔
اہل خانہ نے کہا کہ یہ حملہ ہمارے لیے شدید صدمے کا باعث ہے۔ ہم اس شرمناک اور بھیانک فعل سے مکمل طور پر لاتعلقی کا اعلان کرتے ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ہمارے دل متاثرہ خاندانوں کے ساتھ ہیں اور ہم ان کے لیے صبر و حوصلے کی دعا کرتے ہیں۔
یاد رہے کہ جہاد الشامی نے جمعرات کی صبح سینیگاگ (یہودی عبات گاہ) کے باہر لوگوں پر گاڑی چڑھائی اور بعد ازاں چاقو سے حملہ کیا۔
اس حملے میں 53 سالہ ایڈرین ڈال بی اور 66 سالہ میلون کراوٹز ہلاک ہوئے جبکہ متعدد افراد زخمی بھی ہوئے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں سے ایک شخص کو غلطی سے پولیس کی فائرنگ لگنے کا بھی اندیشہ ہے۔
اس حملے کے سات منٹ بعد پولیس نے مشتبہ حملہ آور کو فائرنگ کرکے ہلاک کر دیا تھا جس نے ایک جیکٹ پہن رکھی تھی۔
پولیس کو شبہ تھا کہ یہ جیکٹ بارودی مواد سے بھری ہوئی ہے اور شاید ملزم اسے دھماکے سے اُڑانے کے لیے استعمال کرے لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ وہ نقلی تھی۔
برطانیہ کی وزیر داخلہ شبانہ محمود نے کہا ہے کہ فی الحال یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ حملے کے پیچھے کسی دہشت گرد نیٹ ورک یا تنظیم کا ہاتھ ہے۔
ان کے مزید کہنا تھا کہ جہاد الشامی کا ریکارڈ بھی صاف ہے نہ تو پولیس اور نہ ہی ایم آئی فائیو کے علم میں کوئی منفی بات ہے اور نہ ہی وہ کبھی حکومت کے ’پریونٹ پروگرام‘ میں ریفر کیا گیا تھا۔
تاحال اس حملے کے محرک ک پتا نہیں لگایا جا سکا البتہ خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ غزہ میں ہونے والی اسرائیلی جارحیت کا اس کا سبب ہوسکتی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: جہاد الشامی
پڑھیں:
پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ
ایران کی سپاہ پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ آپریشن "نصر 2" کی 26 ویں لہر کے دوران مشترکہ حملوں میں کویت کے العدیری فوجی اڈے پر قائم امریکی الیکٹرانک وارفیئر کے خصوصی یونٹ کو تباہ کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی سپاہ پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ آپریشن "نصر 2" کی 26 ویں لہر کے دوران مشترکہ حملوں میں کویت کے العدیری فوجی اڈے پر قائم امریکی الیکٹرانک وارفیئر کے خصوصی یونٹ کو تباہ کر دیا۔ بیان کے مطابق اس یونٹ سے وابستہ ایک مرکز کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں متعدد اہلکار ہلاک یا زخمی ہوئے، جبکہ اڈے کے فضائی ٹریفک کنٹرول ٹاور کو بھی نقصان پہنچا۔ پاسدارانِ انقلاب کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ یہ کارروائی جارح کو سزا دینے کے سلسلے کی کڑی ہے اور امریکی فوج کی ان کارروائیوں کا جواب ہے، جن میں جمعرات کی صبح امام حسینؑ کے روضے کی جانب جانے والے زائرین کے راستے کو نشانہ بنایا گیا۔ بیان کے مطابق امریکی حملے میں عراق کی سرحد پر واقع شلمچہ بارڈر کراسنگ پر دو افراد جاں بحق اور 11 زخمی ہوئے۔
سپاہ پاسداران انقلاب نے اپنے بیان میں برطانیہ کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران کیخلاف استعمال ہونے والا برطانوی اڈہ جائز ہدف تصور ہو گا۔ بیان کے مطابق امریکی فوج نے گزشتہ روز بحرِ ہند میں موجود اپنے بحری بیڑے کے کروز میزائل ختم ہونے کے بعد برطانیہ کے فیئرفورڈ فضائی اڈے سے اڑنے والے B-1 بمبار طیاروں کا استعمال کیا۔ پاسدارانِ انقلاب نے ایک بار پھر ایرانی وزارتِ خارجہ کے مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ ایران پر حملے کے لیے استعمال ہونے والا ہر فوجی اڈہ ایک جائز ہدف تصور کیا جائے گا۔ بیان کے اختتام پر برطانیہ کی حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہا گیا کہ وہ خطے کے عوام کی مشکلات کی بنیادی ذمہ دار ہے اور اسلامی ممالک کی تقسیم، قتلِ عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام، فلسطین پر قبضے کی منصوبہ بندی اور اسرائیل کے قیام میں اس کا کردار تاریخ کا حصہ ہے۔ بیان میں یہ بھی الزام عائد کیا گیا کہ برطانیہ نے ایران کے خلاف حالیہ امریکی اور اسرائیلی حملوں میں بھی نمایاں کردار ادا کیا۔
یاد رہے کہ اس سے قبل آج ہی ایرانی وزارتِ خارجہ نے برطانوی حکومت کے اس فیصلے کی مذمت کی تھی، جس کے تحت امریکہ کو ایران کے خلاف فوجی حملوں کی تیاری کے لیے برطانوی فوجی اڈوں اور تنصیبات کے استعمال کی اجازت دی گئی۔ وزارتِ خارجہ نے کہا کہ ان حملوں کی تیاری یا ان پر عمل درآمد میں کسی بھی قسم کا تعاون جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت کے مترادف ہوگا۔