خاتون نے پانچویں شوہر کو انسولین کی زائد مقدار دیکر ہمیشہ کیلیے موت کی نیند سلادیا
اشاعت کی تاریخ: 3rd, October 2025 GMT
امریکی ریاست ٹیکساس میں ایک ہائی پروفائل مقدمے نے سب کی توجہ اپنی جانب مبذول کرا لی ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی عدالت میں 50 سالہ سارہ ہارٹس فیلڈ پر اپنے پانچویں شوہر کو انسولین کی خطرناک مقدار دے کر قتل کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
استغاثہ نے جیوری کو بتایا کہ سارہ نے جنوری 2023 میں اپنے شوہر جوزف ہارٹس فیلڈ کو انسولین کی زیادہ مقدار دے کر قتل کیا اور کئی گھنٹے تک ریسکیو کو کال کرنے میں تاخیر کی، جس کے باعث جوزف اسپتال میں زیر علاج رہنے کے بعد چل بسے۔
عدالت کو مزید بتایا گیا کہ ابتدائی طور پر جوزف ہارٹس فیلڈ کی موت کو "اسکیمک اسٹروک کی پیچیدگیوں" کا نتیجہ قرار دیا گیا تھا۔
استغاثہ نے بتایا کہ تاہم تفتیش کے دوران جوزف کے بستر کے قریب کئی انسولین پینز برآمد ہوئے جبکہ سارہ کے بیانات میں بھی سنگین تضادات سامنے آئے۔
جس کے بعد میڈیکل ایگزامینر نے بھی واضح کیا کہ جوزف کی موت انسولین کے زہریلے اثرات کے باعث ہوئی تھی۔
خیال رہے کہ سارہ کی پہلی شادی 1990 کی دہائی میں ٹائٹس کنیورنشیلڈ سے ہوئی، جو جلد ختم ہوگئی۔ ان کے سابق شوہر نے الزام لگایا کہ علیحدگی کے دوران سارہ نے انہیں جان سے مارنے کی دھمکیاں دی تھیں۔
ان کی دوسری شادی 1996 میں جھگڑوں کے باعث ختم ہوئی، اس دوران سارہ پر شوہر پر حملے کا الزام بھی لگا لیکن کیس ختم ہوگیا۔
سارہ کی تیسری شادی 2018 میں طلاق پر منتج ہوئی، اور اسی سال ان کی منگنی ڈیوڈ بریگ سے ہوئی، جسے سارہ نے گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔
ان کی چوتھی شادی 2019 میں ہوئی جو 2021 میں طلاق پر ختم ہوگئی اور 2022 میں جوزف ہارٹس فیلڈ سے پانچویں شادی ہوئی تھی۔
جوزف ہارٹس کے دوستوں نے بتایا کہ وہ شادی سے خوش نہیں تھے اور بیوی سے علیحدگی کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔
یاد رہے کہ فروری 2023 میں سارہ کو گرفتار کر کے قتل کے الزام میں فردِ جرم عائد کی گئی۔ وہ اس وقت ٹیکساس کی جیل میں زیرِ حراست ہیں اور جیوری کے انتخاب کے بعد مقدمے کی باقاعدہ کارروائی جاری ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ہارٹس فیلڈ جوزف ہارٹس
پڑھیں:
خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔
فیصلے کے مطابق نیب خیبرپختونخوا اپرکوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔
احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔
فیصلے میں مزید بتایا گیا کہ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ضبط شدہ رقم چیئرمین نیب کے نیشنل بینک آف پاکستان، پی ایم سیکریٹریٹ برانچ اسلام آباد کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ضبط شدہ رقم ملزم کی پلی بارگین کے تحت واجب الادا رقم میں ایڈجسٹ کی جائے گی۔