شہباز شریف اور مولانا فضل الرحمان کا ٹیلی فونک رابطہ، سعودی معاہدے بارے آگاہ کیا
اشاعت کی تاریخ: 4th, October 2025 GMT
وزیراعظم آفس سے جاری اعلامیے کے مطابق دونوں راہنماؤں نے پاکستان اور سعودی عرب کے مابین دفاعی معاہدے پر تبادلہ خیال کیا، سربراہ جے یو آئی نے معاہدے کو تاریخی قرار دیتے ہوئے اسے سراہا اور پاکستان کو حرمین شریفین کی حفاظت کی سعادت نصیب ہونا قابل مسرت ہے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیراعظم پاکستان شہباز شریف اور صدر جمیعت علما اسلام (جے یو آئی) مولانا فضل الرحمان کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا ہے۔ وزیراعظم آفس سے جاری اعلامیے کے مطابق دونوں راہنماؤں نے پاکستان اور سعودی عرب کے مابین دفاعی معاہدے پر تبادلہ خیال کیا، مولانا فضل الرحمان نے معاہدے کو تاریخی قرار دیتے ہوئے اسے سراہا اور کہا کہ پاکستان کو حرمین شریفین کی حفاظت کی سعادت نصیب ہونا قابل مسرت ہے۔ دونوں راہنماؤں کی مشرق وسطیٰ اور غزہ کی صورتحال پر بھی گفتگو کی، جبکہ غزہ میں مستقل امن اور اس میں پاکستان کی کوششوں میں اہم کردار پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔
اس موقع پر شہباز شریف نے کہاکہ پاکستان فلسطینیوں کے حقوق کے لیے نہ صرف ان کے ساتھ ہمیشہ کھڑا رہا ہے بلکہ آئندہ بھی ان کا ساتھ دیتا رہے گا، گفتگو میں غزہ میں جنگ بندی کے حوالے سے حماس کے بیان کو خطے میں امن کی راہ ہموار کرنے اور فلسطینیوں کی نسل کشی روکنے کا نادر موقع قرار دیا گیا۔ وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ غزہ میں جنگ بندی سے معصوم و نہتے فلسطینیوں کے قتل عام کی روک تھام اور فلسطینی ریاست کے قیام کا دیرینہ خواب پایہ تکمیل کو پہنچے گا، مشرق وسطیٰ میں امن خطے کے لوگوں کی ترقی و خوشحالی کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز
نیویارک (آئی پی ایس )امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا۔اپنے سوشل میڈیا اکانٹ پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا کے محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان جو سول جوہری معاہدہ طے کیا جا رہا ہے، اس میں کسی بھی قسم کی یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں ہوگی۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یہ معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا، بالکل ویسا ہی جیسے ایران، متحدہ عرب امارات اور بعض دیگر ممالک کے پاس موجود سول جوہری پروگرام ہیں۔امریکی صدر نے واضح کیا کہ اس معاہدے کی منظوری دی جائے گی لیکن اس کی ایک بنیادی شرط یہ ہوگی کہ سعودی عرب باعزت، کامیاب اور نہایت قابل احترام معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہو۔
ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ امریکا کو پرامن مقاصد کے لیے قائم کیے جانے والے ایسے سول جوہری مراکز پر کوئی اعتراض نہیں، بشرطیکہ ان میں یورینیم کی افزودگی نہ کی جائے۔اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب کا معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہونا مشرق وسطی میں امن کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ثابت ہوگا۔
ایکس پر جاری بیان میں کہا گیا کہ ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی مشترکہ فوجی کارروائی اور ایران کے حمایت یافتہ دہشت گرد نیٹ ورک کو اسرائیل کی جانب سے شدید نقصان پہنچانیکے بعد اب امن کے دائرے کو مزید وسیع کرنیکا ایک نیا موقع پیدا ہوگیا ہے۔ تاہم اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدیکا کوئی ذکر نہیں کیا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookX پچھلی خبرآزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع اگلی خبرصدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیاCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم