بھارتی ہرزہ سرائی کا صائب جواب
اشاعت کی تاریخ: 6th, October 2025 GMT
پاکستان نے بھارت کی ہرزہ سرائی پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کے بیانات غیر ذمے دارانہ ہیں، جنوبی ایشیا میں امن واستحکام کو شدید خطرات لاحق اور اس کے سنگین نتائج برآمد ہوسکتے ہیں اگر کوئی مہم جوئی کی گئی تو پاکستان بغیرکسی ہچکچاہٹ کے بھرپور اور فیصلہ کن اور تباہ کن جواب دے گا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستان نے بھارتی سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے گمراہ کن، اشتعال انگیز اور جنگجویانہ بیانات پر شدید تشویش کا اظہارکیا ہے اور بھارتی حکام کے غیر ذمے دارانہ بیانات کو جارحیت کے من گھڑت بہانے تراشنے کی نئی کوشش قرار دیا ہے۔
بھارت کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ خطے میں خود کو ایک بالادست قوت کے طور پر منوانا چاہتا ہے اور اس مقصد کے لیے وہ سیاسی، سفارتی اور عسکری ہر محاذ پر زور آزمائی کرتا ہے۔ پاکستان چونکہ ایک خود مختار اور باوقار ریاست ہے، اس لیے وہ اس بھارتی عزائم کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ تصورکیا جاتا ہے۔ بھارتی حکام یہ بھول جاتے ہیں کہ پاکستان اب دو ہزارکی دہائی کا پاکستان نہیں رہا۔ آج کا پاکستان ایک ایٹمی صلاحیت کا حامل، عسکری لحاظ سے مستحکم اور عوامی شعور سے مالا مال ملک ہے۔
پاکستان کی مسلح افواج نے دہشت گردی کے خلاف طویل اور صبر آزما جنگ لڑی ہے، جس نے ان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو نکھارا ہے۔ پاکستان کے عسکری ادارے صرف سرحدوں کی حفاظت نہیں کرتے بلکہ قوم کی امیدوں، امنگوں اور تحفظات کے نگہبان بھی ہیں۔
حالیہ بیانات صرف پاکستان کے خلاف اشتعال انگیزی نہیں بلکہ یہ بھارت کے اندرونی مسائل سے توجہ ہٹانے کی ایک چالاک کوشش بھی ہو سکتی ہے۔ بھارت اس وقت شدید داخلی مسائل سے دوچار ہے، جن میں اقلیتوں پر مظالم، کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں،کسان تحریکیں، معاشی سست روی اور سیاسی عدم استحکام شامل ہیں۔ ایسے میں دشمن کا ایک عام حربہ ہوتا ہے کہ بیرونی دشمن کی شکل میں عوام کی توجہ داخلی مسائل سے ہٹائی جائے، اور یہی حربہ بھارت کی حکومت گزشتہ کئی برسوں سے استعمال کر رہی ہے۔
عالمی برادری کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ بھارت کی جانب سے پاکستان کے خلاف جنگجویانہ بیانیہ نہ صرف خطے میں طاقت کے توازن کو خراب کر رہا ہے بلکہ اقوام متحدہ کے چارٹر اور عالمی قوانین کی بھی کھلی خلاف ورزی ہے۔ پاکستان بارہا بین الاقوامی پلیٹ فارمز پر مسئلہ کشمیر، بھارتی مداخلت اور جنگی جنون پر دنیا کو متوجہ کرتا رہا ہے، لیکن بدقسمتی سے دنیا کا ضمیر اکثر طاقت کے کھیل میں خاموشی اختیار کر لیتا ہے، لیکن پاکستان کا مؤقف ہمیشہ اصولوں پر مبنی رہا ہے، اور یہ مؤقف وقت کی کسوٹی پر پورا اترا ہے۔
بھارت کے اندرونی سیاسی مسائل ، معاشی دشواریاں، سماجی کشیدگیاں اور انسانی حقوق کے حوالے سے اٹھنے والی آوازیں اکثر حکومتوں کو داخلی دباؤ کو بیرونی دشمن کی شکل میں تبدیل کرنے کی طرف مائل کر دیتی ہیں۔ اس حربے کا مقصد عوام کی توجہ ایک بیرونی خطرے کی طرف مبذول کروانا اور داخلی سیاسی چیلنجز سے نظر ہٹانا ہوتا ہے، مگر خطے کے امن کے نقطہ نظر سے یہ ایک خطرناک حکمتِ عملی ہے، جو وقتی فائدے کے لیے بڑے پیمانے پر عدم استحکام اور انتشار کا سبب بن سکتی ہے۔
یہاں بین الاقوامی برادری کی ذمے داری بھی واضح طور پر عیاں ہوتی ہے۔ عالمی ادارے اور طاقتیں جو خطے کی سلامتی اور استحکام کے لیے کردار ادا کر سکتی ہیں، ان کا فرض ہے کہ وہ ایسے بیانات پر تشویش ظاہر کریں اور فریقین کو تحمل و مذاکرات کی طرف راغب کریں۔ کسی بھی مسلح ٹکراؤ کے معاشی، انسانی اور سیاسی نتائج تباہ کن ہوں گے، اس لیے سفارتی کوششوں کو تیز کیا جانا چاہیے۔ خطے میں کسی بڑے تنازعے کا پھیلاؤ نہ صرف علاقائی ممالک کو متاثر کرے گا بلکہ عالمی تجارت، توانائی کے راستے، پناہ گزینی کے مسائل اور دہشت گردی کے ماحول پر بھی منفی اثرات مرتب ہوں گے۔
پاکستان نے ہمیشہ یہ پالیسی اختیار کی ہے کہ مسائل کو مذاکرات اور ثالثی کے ذریعے حل کیا جائے مگر ساتھ ہی یہ بھی واضح کیا ہے کہ دفاعی تیاری اور قوم کا عزم کسی جرگے کے دروازے بند نہیں ہونے دیتا۔ آئی ایس پی آر کا بیان اسی حقیقت کا عکاس ہے کہ پاکستان ڈپلومیسی اور دفاع دونوں محاذوں پر متوازن حکمتِ عملی اپنائے گا۔ دفاعی استعداد کو بڑھانا اور واضح پیغام دینا محض جارحیت کی آمادگی نہیں، بلکہ دشمن کو قیمت چکا دینے کی صلاحیت کا اظہار بھی ہے، تا کہ کوئی بھی غلط حساب یا مہم جوئی کرنے سے پہلے بار بار سوچے۔ اس میں کوئی تعجب کی بات نہیں کہ ایک خود مختار ریاست اپنے دفاع کے طریقہ کار کو مضبوط کرے، یہ اس کی بنیادی ذمے داری ہے۔
مزید یہ بھی واضح کرنا ہوگا کہ عسکری ردعمل اور سفارتی مکالمہ ایک دوسرے کے متضاد نہیں بلکہ پورے قومی مفاد کا حصہ ہیں۔ مضبوط دفاعی پوزیشن مذاکراتی طاقت کو بڑھاتی ہے، ایک ایسے میز پر جہاں فریقین خود کو برابر محسوس کریں، مسئلے کا حل ممکن ہوتا ہے۔ پاکستان کو چاہیے کہ وہ علاقائی سلامتی کے لیے پرعزم رہے اور اسی کے ساتھ سفارتی محاذ پر بھی مستعدی دکھائے۔ چین، روس، ایران، اور دیگر بین الاقوامی پارٹنرز کے ساتھ استحکام اور باہمی احترام کی بنیاد پر تعلقات کو فروغ دینا بھی اس وقت لازمی حکمت عملی ہے تاکہ جو کسی بھی طرح کی کشیدگی ہو، اسے باہمی مشاورت اور ثالثی کے ذریعے کم کیا جائے۔
اگر ہم مستقبل کی سمت کا جائزہ لیں تو ایک حقیقت واضح ہے۔ جنگ کسی بھی طرح سے کسی بھی قوم کے لیے مسئلے کا حل نہیں۔ جیت اور ہار کے روایتی معنی آج کے دور میں ناقابلِ اعتبار ہیں کیونکہ جنگ کے اثرات لاکھوں انسانوں پر پڑتے ہیں، انفرااسٹرکچر تباہ ہوتا ہے، معیشتیں متاثر ہوتی ہیں اور ترقی کے دیرینہ راستے مسدود ہو جاتے ہیں۔ اس لیے بحرانوں کو حل کرنے کا واحد قابل قبول راستہ مذاکرات، اعتماد سازی کے اقدامات اور مشترکہ سیکیورٹی میکنزم کا قیام ہے۔ خطے میں طویل مدتی امن صرف اسی صورت ممکن ہے جب تمام فریقین عسکری حل کوِ قرونِ وسطیٰ سمجھ کر چھوڑ دیں اور جدید بین الاقوامی اصولوں کے مطابق امن کے راستے اختیار کریں۔
پاکستان کی طرف سے جو موقف اختیار کیا گیا ہے اس میں دعویٰ یہ بھی شامل ہے کہ بھارتی بیانات ’’ من گھڑت بہانے تراشنے‘‘ کی کوشش ہیں، لہذا اس حقیقت کو بے نقاب کرنا ضروری ہے، اس طرح کے بیانیے جب روشن کیے جاتے ہیں تو عالمی رائے عامہ اور بین الاقوامی ادارے بھی ان کا نوٹس لیتے ہیں۔ شفافیت، دستاویزات اور بین الاقوامی قانونی تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے پاکستان کو اپنی بات عالمی فورمز پر مضبوط انداز میں پیش کرنا چاہیے تاکہ حقائق عوامی اور بین الاقوامی سطح پر واضح ہوں اور بھارت کی یک طرفہ مہم جوئی کے پیچھے چھپے سیاسی مقاصد عیاں ہو جائیں۔
اہم نکتہ یہ ہے کہ عوامی شعور اور ریاستی موقف کا تسلسل امن کی ضمانت کے لیے ضروری ہے۔ پاکستانی قوم میں اپنے دفاع کے جذبے کے ساتھ ساتھ امن کے لیے قوتِ ارادی بھی موجود ہے۔ اس قوت کا استعمال یوں کیا جائے کہ ہم اپنے خطے کو تباہی کے دہانے سے واپس لائیں۔ معاشی تعاون، تجارتی رابطے، عوامی تبادلے اور ثقافتی روابط خطے کو قریب لا سکتے ہیں اور جنگی جذبات کو کمزور کر سکتے ہیں۔ جنوبی ایشیا کو پہچاننا چاہیے کہ باہمی انحصار نے دنیا کے کئی خطوں میں پائیدار امن قائم کیا ہے، اسی سوچ کو اپنانا ہم سب کا مشترکہ فائدہ ہوگا۔
آخر میں ایک بات قطعی اور لازمی طور پر کہنی ہوگی کہ پاکستان نے واضح انداز میں کہا ہے کہ کسی بھی مہم جوئی کی صورت میں وہ جواب دینے سے نہیں ہچکچائے گا۔ یہ موقف دفاعی عزم کا آئینہ دار ہے، مگر ساتھ ہی پاکستان نے ہمیشہِ کہا ہے کہ وہ امن کا خواہاں ہے۔ امن اور دفاع کے اس توازن کو برقرار رکھنا، فریقین کے لیے مفید فہم و فراست اور بین الاقوامی برادری کے تعاون کے بغیر ممکن نہیں۔ بھارت کو بھی چاہیے کہ وہ اپنی پالیسیوں کا ازسرِ نو جائزہ لے، جارحانہ زبان ترک کرے اور بات چیت کے ذریعے تنازعات کا حل تلاش کرے۔ ورنہ خطے کا سب سے بڑا نقصان اسی اشتعال انگیزی سے ہوگا جس کا آغاز آج کے بیانات میں واضح دکھائی دیتا ہے۔
امن صرف نعروں سے یا جارحیت کے جواب میں جارحیت سے قائم نہیں رہ سکتا۔ امن وہ راستہ ہے جو حکمت، بردباری، مضبوط دفاع اور دیانتدارانہ مذاکراتی عمل کے ذریعے ممکن ہوتا ہے۔ پاکستان نے اپنی صفِ اول کی حفاظت کا عزم ظاہرکیا ہے، اب بین الاقوامی برادری، خطے کے دوسرے ممالک اور خصوصاً بھارت کی ذمے داری ہے کہ وہ اسی شعوری اور عملی سطح پر قدم بڑھائے، تا کہ جنوبی ایشیا کے عوام کو مزید ایک ایسے دور کا سامنا نہ کرنا پڑے جس میں ان کے بچوں کے مستقبل کے خواب تباہ ہو جائے۔ امن ممکن ہے، مگر اس کے لیے گروہِ حاکم اور عوامی شعور دونوں کو زمینی حقائق کا ادراک رکھتے ہوئے عمل کرنا ہوگا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اور بین الاقوامی پاکستان نے کے ذریعے بھارت کی ہے کہ وہ کسی بھی ہوتا ہے اور اس کیا ہے کی طرف کے لیے
پڑھیں:
بھارتی سرپرستی میں ملک دشمن پروپیگنڈا، کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ حبیبہ پیرجان کی گرفتاری کے لیے 10 لاکھ روپے انعام کا اعلان
سیکیورٹی اداروں نے کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) سے منسلک ملک دشمن شاعرہ حبیبہ پیرجان کی گرفتاری کے لیے معلومات فراہم کرنے والے شخص کے لیے 10 لاکھ روپے انعام کا اعلان کیا ہے، جبکہ ان کی تلاش کے لیے مختلف علاقوں میں کارروائیاں جاری ہیں۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق کارروائی کے دوران حبیبہ پیرجان کی رہائش گاہ سے ڈائریاں، کالعدم بی ایل اے کے ہلاک دہشتگردوں سے متعلق ریکارڈ، ریاست مخالف مواد اور بھارتی فنڈنگ کے شواہد برآمد ہوئے۔ تحقیقات سے حبیبہ پیرجان کے کالعدم بی ایل اے کے اہم کمانڈروں، خصوصاً رستم پیرجان، کے ساتھ روابط سامنے آئے۔
مزید پڑھیں: آسٹریلیا کی جانب سے بی ایل اے اور 3 سینیئر رہنماؤں پر دہشتگردی کے الزامات کے تحت پابندیاں عائد
سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ ان کی پروپیگنڈا شاعری اور زہریلی سوشل میڈیا سرگرمیاں معصوم نوجوانوں میں ریاست مخالف بیانیے اور باغیانہ سوچ کو فروغ دینے کے لیے استعمال کی جاتی رہی ہیں۔
حبیبہ پیرجان، زوجہ حنیف ضلع کیچ کے علاقے دشت کی رہائشی ہیں۔ انہیں 25 مئی 2026 کو کراچی کے علاقے گلشنِ مزدور میں ایک مشترکہ انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن (آئی بی او) کے دوران ٹریس کیا گیا تھا، تاہم علاقے کا محاصرہ مکمل ہونے سے قبل وہ فرار ہونے میں کامیاب ہوگئیں۔
کارروائی کے دوران ان کی رہائش گاہ کی تلاشی لی گئی جہاں سے ڈائریاں، کالعدم بی ایل اے کے ہلاک شدہ عسکریت پسندوں سے متعلق تحریری ریکارڈ اور دیگر مواد برآمد ہوا۔ سیکیورٹی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ برآمد شدہ مواد میں بھارتی مالی معاونت اور ریاست مخالف سرگرمیوں سے متعلق بعض اہم شواہد بھی شامل ہیں جن کا مزید تجزیہ کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات اور انٹیلیجنس معلومات سے حبیبہ پیرجان کے کالعدم بی ایل اے کے متعدد اہم کمانڈروں، بالخصوص رستم پیرجان، کے ساتھ مبینہ قریبی روابط کی نشاندہی ہوئی ہے۔ انہوں نے ضلع کیچ کے دشت کے پہاڑی علاقوں میں رستم پیرجان سے کم از کم 2 ملاقاتیں کیں، جن میں ایک ملاقات رواں سال 14 فروری کو ہونے کا دعویٰ کیا گیا۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق دستیاب ریکارڈ سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ وہ اسلحہ اور دیگر سامان کی ترسیل میں سہولت کاری، بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) سے وابستہ متعدد شخصیات سے روابط اور سوشل میڈیا پر بی ایل اے سے منسلک پلیٹ فارمز کے ذریعے ریاست مخالف مواد کی تشہیر میں سرگرم کردار ادا کرتی رہی ہیں۔
ذرائع کے مطابق حبیبہ پیرجان کی شاعری اور تحریروں کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔ سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ دستیاب مواد میں ایسی نظمیں اور اشعار شامل ہیں جن میں مسلح عناصر کی تعریف، ریاستی اداروں کے خلاف بیانیے کی ترویج اور نوجوانوں کو باغیانہ سوچ کی جانب راغب کرنے کے عناصر پائے جاتے ہیں۔
ان کی اکثر نظموں میں مسلح گروہوں اور شدت پسندوں کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا ہے، جبکہ بعض تحریروں میں نوجوانوں کو انتخابی عمل سے دور رہنے، ریاستی اداروں کے خلاف نفرت پیدا کرنے اور مسلح جدوجہد کی حمایت پر آمادہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ کالعدم بی ایل اے کے ایک گروپ کے اشتہاری سربراہ حربیار مری کی تحسین میں بھی ایک نظم لکھی گئی ہے، جس کا اردو ترجمہ اور عکس بھی موجود ہے:
حربیار مری کے نام
ٹوٹا ہوا وطن کا آواز ہے حربیار
کالی رات کا خوف ہے حربیار
پہاڑوں میں کھڑا ہوا ہے اپنی بات کہ اوپر
ایک آگ کی طرح ہے حربیار
اسکو خبر ہے اس راستہ کا
آجاؤ ہمسفر ہماری آواز ہے حربیار
حبیبہ سو دفعہ سوچ چکی ہے
ہر بلوچ کا درد وار ہے حربیار
حکام کے مطابق ایسے مواد کو شدت پسندی اور دہشتگردی کے لیے ہمدردی پیدا کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں: بی ایل اے کی محدود کارروائیاں اور سوشل میڈیا پر بڑا تاثر دینے کی ناکام حکمت عملی
سیکیورٹی اداروں کا کہنا ہے کہ حبیبہ پیرجان کے خلاف دستیاب شواہد اور برآمد شدہ مواد کا فرانزک و قانونی جائزہ جاری ہے، جبکہ ان کی گرفتاری کے لیے مختلف علاقوں میں کارروائیاں تیز کر دی گئی ہیں۔ حکام کے مطابق مطلوب خاتون کے بارے میں مصدقہ معلومات فراہم کرنے والے شخص کے لیے 10 لاکھ روپے انعام مقرر کیا گیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
10 لاکھ روپے انعام انٹیلیجنس معلومات بلوچ یکجہتی کمیٹی پروپیگنڈا شاعری حبیبہ پیرجان رستم پیرجان سیکیورٹی ادارے عسکریت پسند کالعدم بلوچ لبریشن آرمی کالعدم بی ایل اے