راولپنڈی:  چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ عمران خان کے مقدمات میں عدالتی شفافیت نہ ہونے کے باعث عوام کا عدلیہ پر اعتماد تیزی سے کم ہو رہا ہے۔

اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ بانی پی ٹی آئی کے ٹرائل میں غیر معمولی تیزی اور بند کمرے کی کارروائی شکوک و شبہات کو جنم دے رہی ہے، جب کہ آئین کے مطابق ان مقدمات کی سماعت اوپن ٹرائل کے طور پر ہونی چاہیے۔

بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ آج ان کی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات ممکن نہیں ہو سکی، تاہم سلمان اکرم راجا، بیرسٹر سیف اور بیرسٹر علی ظفر نے ان سے ملاقات کی ہے اور شام چار بجے پریس کانفرنس میں تفصیلات شیئر کریں گے۔

انہوں نے عدالتی نظام میں تاخیر پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ 2023 اور 2024 کی رپورٹوں کے مطابق 24 لاکھ سے زائد مقدمات ابھی زیرِ التوا ہیں، جن میں عمران خان کے کیسز بھی شامل ہیں۔

القادر ٹرسٹ کیس سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی ضمانت گزشتہ آٹھ ماہ سے التوا میں ہے، جو انصاف کے اصولوں کے منافی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان کی بہنوں کے بارے میں بعض افواہیں گمراہ کن ہیں، ان کا کسی ایجنسی یا ادارے سے کوئی تعلق نہیں۔

بیرسٹر گوہر نے بتایا کہ عمران خان نے پارٹی رہنماؤں کو ہدایت کی ہے کہ جیل کے اندرونی معاملات پر غیر ضروری تبصرے سے گریز کیا جائے تاکہ مزید تنازع نہ پیدا ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ  پی ٹی آئی کا مؤقف واضح ہے کہ دہشتگردی کے خاتمے کے لیے تمام کارروائیاں ملکی سلامتی کے دائرے میں رہتے ہوئے ہونی چاہییں، اور خیبرپختونخوا میں جاری کسی بھی آپریشن میں شہریوں کا نقصان نہ ہو۔

انہوں نے کہا کہ علی امین گنڈا پور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے طور پر اپنے عہدے پر اس وقت تک فائز رہیں گے جب تک انہیں بانی پی ٹی آئی کا اعتماد حاصل ہے۔ توشہ خانہ کیس کے حوالے سے بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ امید ہے کہ حالات بہتر سمت میں جائیں گے اور ہمیں اعلیٰ عدلیہ سے رجوع نہ کرنا پڑے۔

آخر میں انہوں نے سینیٹر مشتاق احمد کی جدوجہد کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے بتایا کہ ان کی اہلیہ نے پیغام بھیجا ہے کہ پوری قوم ان کی آواز بنے۔ ایکس (سابق ٹوئٹر) اکاؤنٹ کے بارے میں سوال پر انہوں نے واضح کیا کہ بانی پی ٹی آئی کا اکاؤنٹ جیل سے نہیں بلکہ باہر سے چلایا جا رہا ہے، جب کہ پلیٹ فارم کی پالیسی سے متعلق انہیں معلومات نہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: بانی پی ٹی آئی پی ٹی آئی کا بیرسٹر گوہر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ

پڑھیں:

5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: 5 اگست کے احتجاج پر پی ٹی آئی کی واضح حکمت عملی اب تک سامنے نہ آسکی

پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔

دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔

بڑی احتجاجی کال پر تحفظات

پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔

ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔

مزید پڑھیے: اڈیالہ جیل کے باہر ہنگامہ آرائی، پی ٹی آئی میں انتشار کھل کر سامنے آگیا، جماعت کے سیاسی کلچر پر سنگین سوالات

پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔

9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا

پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔

26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔

مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کا علیمہ خان اور بشریٰ بی بی کو ایکسپوز کرنے کا فیصلہ، اقبال آفریدی سے عہدہ واپس

اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔

عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل

عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔

پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔

5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟

گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے بڑھتے اندرونی اختلافات سے پشاور کے عوام پریشان

ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اڈیالہ جیل بشریٰ بی بی پاکستان تحریک انصاف پی ٹی آئی پی ٹی آئی کا 5 اگست کو احتجاج علی امین گنڈاپور عمران خان کے قید میں 3 برس

متعلقہ مضامین

  • پانچ اگست کا جلسہ فیصلہ کن ہوگا، آئندہ لائحہ عمل قوم کے سامنے رکھا جائے گا: سہیل آفریدی
  • چیئرمین رویت ہلال کمیٹی کا پنجاب کاؤنٹر نارکوٹکس فورس ہیڈکوارٹر کا دورہ، منشیات کے خلاف مشترکہ اقدامات پر اتفاق
  • چیئرمین وزیراعظم یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خاں کا امریکہ کی معروف یونیورسٹیوں کا دورہ
  • ریاست مخالف ٹوئٹ کیس: پی ٹی آئی کارکن صنم جاوید اور فلک جاوید کے جیل ٹرائل کےلیے دائر درخواست خارج
  • میں نے اپنی قبر تیار کروا رکھی ہے، لیجنڈ گلوکار عطا اللہ عیسیٰ خیلوی کا انکشاف
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر