Jasarat News:
2026-06-03@02:29:24 GMT

حماس کا باوقار جواب

اشاعت کی تاریخ: 6th, October 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

غزہ کی جنگ اپنے سب سے نازک اور فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ اسرائیل نے پوری دنیا کے سامنے انسانی المیے کو جنم دیا ہے، لیکن اس کے باوجود فلسطینی مزاحمت نے جس ثابت قدمی، نظم اور وقار کے ساتھ مقابلہ کیا ہے، وہ تاریخ ِ جنگ کا ایک منفرد باب بن چکا ہے۔ ہر دن، ہر رات، بمباری، ملبہ، آنسو، اور خون میں لتھڑا ہوا وجود، مگر ان سب کے باوجود ’’لا الٰہ الا اللہ‘‘ کے نعرے سے لبریز دل دشمن کے سامنے جھکنے سے انکار کر رہے ہیں۔ حالیہ دنوں میں جب اسرائیلی حکومت اور امریکا کی حمایت یافتہ سفارتی کوششوں کے ذریعے جنگ بندی کی باتیں زور پکڑیں، تو دنیا کی نظریں حماس کے جواب پر ٹک گئیں۔ بہت سے مبصرین نے قیاس آرائیاں کیں کہ شاید اب فلسطینی مزاحمت دبائو میں آ جائے گی، کیونکہ حالات ناقابل ِ برداشت ہو چکے ہیں۔ مگر حیرت انگیز طور پر، حماس نے جو جواب دیا، وہ نہ صرف سفارتی اعتبار سے باوقار تھا بلکہ اخلاقی لحاظ سے بھی دنیا کے سامنے ایک نئی مثال بن گیا۔

حماس کا موقف بالکل واضح تھا: ’’ہم جنگ بندی کے خلاف نہیں، لیکن ایسی جنگ بندی کے حامی بھی نہیں جو غلامی کی دستاویز ہو‘‘۔ یہ جملہ غزہ کے ملبے تلے دفن ہر بچے کی صدا بن گیا۔ مزاحمت کی قیادت نے صاف الفاظ میں کہا کہ اگر اسرائیل سنجیدگی سے جنگ بندی چاہتا ہے تو اسے غزہ سے اپنی فوجیں واپس بلانی ہوں گی، ناکہ بندی ختم کرنی ہوگی، اور قیدیوں کا تبادلہ ایک باعزت اور متوازن بنیاد پر کرنا ہوگا۔ یہ جواب صرف ایک سیاسی یا عسکری اعلان نہیں تھا، بلکہ یہ ایک فکری بیانیہ تھا جس نے بتا دیا کہ حماس کے نزدیک ’’امن‘‘ محض فائر بندی کا نام نہیں، بلکہ انصاف پر مبنی توازن کا تقاضا ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں فلسطینی مزاحمت تمام مغربی طاقتوں کے دوغلے پن کو بے نقاب کر دیتی ہے۔ اسرائیل کے جرائم پر خاموش رہنے والے ممالک اس وقت ’’امن‘‘ کے علمبردار بننے کی کوشش کر رہے ہیں، مگر وہ امن دراصل اسرائیلی تسلط کی ضمانت ہے۔

دنیا کے بڑے ذرائع ابلاغ نے حماس کے اس جواب کو مختلف زاویوں سے پیش کیا۔ کوئی اسے سخت مؤقف کہہ رہا ہے، کوئی سیاسی ضد۔ لیکن جو حقیقت میدانِ جنگ سے جھانک رہی ہے، وہ اس کے بالکل برعکس ہے۔ حماس کی قیادت نے دکھا دیا کہ وہ کسی وقتی رعایت یا عارضی سکون کے بدلے اپنی آزادی کا سودا نہیں کرے گی۔ یہ وہی جذبہ ہے جس نے صلاح الدین ایوبی کے لشکروں کو صلیبیوں کے مقابل کھڑا کیا تھا، اور وہی جذبہ آج غزہ کے زیر ِ زمین بنکروں سے ابھر رہا ہے۔ جنگ بندی کی تجویزوں میں سب سے زیادہ بحث کا نکتہ قیدیوں کا تبادلہ ہے۔ اسرائیل چاہتا ہے کہ اپنے فوجی قیدیوں کی رہائی کے بدلے غزہ کے عام شہریوں پر بمباری روک دے، لیکن اس کے بدلے وہ ہزاروں فلسطینی قیدیوں کو آزاد کرنے سے گریزاں ہے۔ حماس نے واضح کیا کہ ’’اگر اسرائیلی قیدی واپس چاہییں تو تمہیں ہمارے قیدی بھی لوٹانے ہوں گے۔ یہ سودا صرف خون کے انصاف پر مبنی ہوگا، ذلت پر نہیں‘‘۔ یہ وہ جملہ ہے جس نے فلسطینی عوام کے دلوں کو تقویت دی، اور دشمن کو بے بسی میں تڑپنے پر مجبور کر دیا۔

یہ جنگ اب محض میزائلوں اور ٹینکوں کی نہیں رہی، بلکہ یہ بیانیے کی جنگ ہے۔ اسرائیل اپنی مظلومیت کا جعلی تاثر دے کر دنیا کو گمراہ کرنا چاہتا ہے، جبکہ حماس مظلومیت نہیں، وقار کا پیغام دے رہی ہے۔ وہ کہہ رہی ہے: ’’ہمیں رحم نہیں، انصاف چاہیے۔ ہمیں روٹی نہیں، آزادی چاہیے‘‘۔ حماس کے اس بیانیے نے مغربی دنیا کے اندر بھی ارتعاش پیدا کر دیا ہے۔ یورپ اور امریکا کے بڑے شہروں میں عوام سڑکوں پر نکل کر فلسطین کے ساتھ کھڑے ہو رہے ہیں۔ یہ وہ عوامی ردِعمل ہے جو شاید اسرائیل نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا۔ دنیا کے سامنے اب یہ حقیقت عیاں ہو چکی ہے کہ غزہ کے لوگ دہشت گرد نہیں، بلکہ وہ اپنی زمین، اپنے وقار اور اپنی نسلوں کے حق ِ زندگی کے لیے لڑ رہے ہیں۔

مزاحمت کی تاریخ میں ایسے مواقع کم ہی آتے ہیں جب کمزور سمجھی جانے والی قوت دشمن کے مقابل نہ صرف عسکری بلکہ اخلاقی برتری حاصل کر لے۔ حماس نے وہ مقام حاصل کر لیا ہے۔ وہ دنیا کو یہ باور کرانے میں کامیاب ہوئی ہے کہ طاقت کا معیار صرف اسلحہ نہیں ہوتا، بلکہ ایمان، عزم، اور حق پر ڈٹے رہنے کی جرأت بھی ایک طاقت ہے۔ اب سوال یہ نہیں کہ جنگ بندی ہوگی یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ اگر جنگ بندی ہوئی تو کس کی شرائط پر؟ اگر یہ اسرائیلی شرائط پر ہوئی تو یہ ایک عارضی وقفہ ہوگا، اور اگر فلسطینی وقار کی بنیاد پر ہوئی تو یہ تاریخ کا نیا موڑ ثابت ہوگی۔

حماس کا باوقار جواب اس امت کے لیے ایک سبق ہے کہ ظلم کے سامنے خاموشی اختیار کرنا دراصل ظلم کی حمایت کے مترادف ہے، اور مزاحمت اگر ایمان سے جنم لے تو وہ کبھی شکست نہیں کھاتی۔ آج غزہ کے ملبے سے جو آوازیں اٹھ رہی ہیں، وہ صرف فلسطین کی نہیں بلکہ پوری امت کی غیرت کو پکار رہی ہیں۔ دنیا کے ایوانِ طاقت یہ سمجھ لیں کہ اگر وہ انصاف کے بغیر ’’امن‘‘ چاہتے ہیں تو وہ دراصل ایک نئی جنگ کی بنیاد رکھ رہے ہیں۔ کیونکہ جس قوم کے بچے اپنے کھنڈرات میں بھی ’’اللہ اکبر‘‘ کے نعرے لگاتے ہیں، اسے طاقت سے نہیں، صرف عدل سے روکا جا سکتا ہے۔ غزہ کے ملبے میں دبی ہوئی وہ ننھی سی آواز شاید دنیا تک پہنچ جائے ’’ہم نے خون سے قیمت ادا کی ہے، اب تم سے انصاف مانگتے ہیں‘‘۔ یہی وہ پیغام ہے جو حماس کے باوقار جواب میں چھپا ہے۔ یہ پیغام آج کے دور کے تمام ظالموں کے لیے ایک چیلنج ہے: کہ اگر تم سمجھتے ہو کہ طاقت جیت جائے گی، تو تاریخ تمہیں یاد دلا دے گی کہ ہمیشہ حق ہی غالب آیا ہے، اور حق ہمیشہ قائم رہے گا۔

 

میر بابر مشتاق.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کے سامنے دنیا کے رہے ہیں حماس کے غزہ کے کہ اگر

پڑھیں:

سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک

حکمران اکثر یہ بات کرتے رہتے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں سرمایہ کاری درکار ہے بلکہ ایسے بیانات مسلسل آتے رہے ہیں اور آئی ایم ایف کے مطالبات پر حکومت فوری رضامندی بھی ظاہر کر دیتی ہے تاکہ قرض کی منظوری میں تاخیر نہ ہو۔ قرض منظوری کے بعد ایسے بیانات جاری ہوتے ہیں جیسے بہت بڑا معرکہ سر کر لیا ہو۔ مطلب یہ ہے کہ ہمیں قرض کے حصول کے لیے آئی ایم ایف کی ہر شرط ماننا اور بے انتہا کوشش کے بعد قرض حاصل کرنے میں کامیابی حاصل ہوتی ہے۔

ملک کو اس حالت میں پہنچایا جا چکا ہے کہ خود انحصاری کی منزل بہت دور ہوگئی ہے ۔ پاکستان کی ہر حکومت نے آئی ایم ایف کی ہر بات مانی لیکن خود انحصاری کی منزل نہ مل سکی۔ غیر سیاسی وزیر خزانہ بھی اس امید پر لائے گئے کہ ان کی کوشش سے ملک خود انحصاری کی طرف بڑھے گا اور غیر ملکی قرضوں کے مزید حصول کی کوشش نہیں ہوگی لیکن سب نے اپنا اولین مقصد مزید قرضے حاصل کرنا بنا رکھا ہے اور آئی ایم ایف کو ہر ممکن طریقے سے مزید قرض دینے پر آمادہ کرنا رہ گیا ہے ۔

اب بھی پاکستان کے لیے آئی ایم ایف کا مزید قرضہ منظور کرا لیا گیا ہے جس کا حکومتی حلقے پرجوش خیر مقدم کررہے ہیں۔ ہر وزیر خزانہ کے بارے میں یہ دعویٰ سننے میں آتا رہاکہ وہ آئی ایم ایف سے معاملات طے کرنے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں، لیکن معاملہ مرض بڑھتا ہی گیا جوں جوں دوا کی جیسا ہی رہا۔ آئی ایم ایف سے جان نہیں چھوٹ رہی بلکہ آئی ایم ایف مزید شرائط سخت کرتا جا رہا ہے اور حکومت کو پرانے قرضوں پر سود ادا کرنے کے لیے مزید قرضے لینا پڑ رہے ہیں۔

آئی ایم ایف اپنی ہر شرط منوا رہا ہے اور حال ہی میں آئی ایم ایف نے پٹرولیم لیوی ہدف میں 18 فی صد اضافے کا کہا ہے جب کہ حکومت نے یہ لیوی آئی ایم ایف کے مطالبے سے بھی بہت زیادہ بڑھا رہی ہے مگر آئی ایم ایف ہے کہ مطمئن ہی نہیں ہوتا۔ آئی ایم ایف نے قرض دینے کے لیے کبھی یہ شرط نہیں رکھی کہ پاکستانی حکومت اپنے شاہانہ اخراجات اور حکومتی افراد کے غیر ملکی دورے کم کرکے اپنی آمدنی کے مطابق اخراجات کم کرے تاکہ اسے مزید قرضے نہ لینا پڑیں۔

موجودہ حکومت کی طرف سے پی ٹی آئی حکومت پر الزام لگایا جاتا ہے کہ اس نے سب سے زیادہ غیر ملکی قرضے لیے اور اقتدار جاتا دیکھ کر آئی ایم ایف کو مزید ناراض کرنے کے فیصلے کیے تھے جس پر نئی حکومت کو غیر ملکی قرضوں کے حصول کے لیے سخت محنت کرنا پڑی تھی اور چار سال سے عوام سرکاری طور یہ دعوے ہی سنتے آ رہے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں غیر ملکی سرمایہ کاری چاہیے۔

یہ دعوے صرف دکھاوے کے لیے ہیں اور حکومت کی اولین ترجیح غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول رہی ہے۔ حکومت پاکستان کو قرضے مانگنے کی عادت چھوڑدینی چاہیے اور اپنے پیروں پر کھڑے ہونے اور اپنے حاصل مالی وسائل استعمال کرکے خود انحصاری کی عملی کوشش کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔ ملکی صنعتوں اور غریبوں پر ٹیکسوں کی بھرمار ہے اور جو تنخواہ دار طبقہ ٹیکسز کے شکنجے میں پہلے سے پھنسا ہوا ہے اس پر اور عوام پر مزید ٹیکس بڑھا دیے گئے ہیں۔

حکومتی ٹیکسوں کی بھرمار، مہنگی بجلی و گیس پر فکسڈ چارجز لگا کر بھی حکومت مطمئن نہیں۔ عوام بجلی نہ بھی استعمال کریں اور سولر سسٹم لگائیں وہ بھی حکومت کو قبول نہیں۔ بجلی پر پہلے ہی بے شمار ٹیکس لگے ہوئے ہیں اس پر کم سے کم بجلی استعمال پر فکسڈ چارجز دو ماہ بعد ہی چھ سو سے نو سو روپے ماہانہ کر دیے گئے ہیں۔ فکسڈ چارجز سے آمدنی بڑھانے کا نیا طریقہ ایجاد کر لیا گیا ہے۔

عوام سانس لینے اور سڑکیں ضرور مفت استعمال کر رہے ہیں اور ہر چیز پر ٹیکس متعلقہ اداروں کو ادا کر رہے ہیں اور وزارت خزانہ ایک ہزار روپے معاوضہ لینے والوں سے بھی ڈیڑھ سو روپے ٹیکس لے رہا ہے اور بیس ہزار ماہانہ کمانے والوں سے بھی تین ہزار روپے لیے جا رہے ہیں جو حکومتی مظالم کی انتہا ہے پھر بھی حکومتی رونا ختم ہونے میں نہیں آتا اور عوام پر جھوٹا الزام کہ وہ ٹیکس نہیں دیتے۔

بڑے تاجروں سے انکم ٹیکس وصولی اور ہر سال اپنے اہداف وصولی میں ناکامی سرکار کا قصور ہے سرکاری ادارے اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام ثابت ہو چکے ہیں۔ حکومت دکھاوے کی حد تک سرمایہ کاری کو اپنی ترجیح قرار تو دیتی ہے مگر عملی طور ایسا نہیں کر رہی اور اس کی ترجیح اب بھی غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول ہے۔

وزیر توانائی نے کہا ہے کہ قابل تجدید توانائی کے لیے تین سو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہمیں ضرورت ہے۔ ملکی صنعتوں پر پہلے سے ٹیکسوں کی بھرمار ہے ، نئی سرمایہ کاری کہاں سے آئے گی۔ صنعتیں باہر سے کون لائے گا یہاں تو ملکی سرمایہ بیرون ملک منتقل کیا جا رہے ہے تو یہاں بیرونی سرمایہ کار کیوں آنا چاہیں گے۔ نجیبجلی کمپنیوں کو نوازنا جاری ہے ۔ ایک مخصوص طبقے کو ٹیکسوں پر چھوٹ دی جارہی ہے، جب کہ عام لوگوں کو حکومت ریلیف کیا دے گی ،اسے تو طاقتوروں کو ٹیکسوں سے چھوٹ دینے سے ہی فرصت نہیں مل رہی۔

متعلقہ مضامین

  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • ناتمام (آخری قسط)
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • بی ایم ڈبلیو سے 5 لاکھ جرمانہ وصولی، ڈی ایچ اے ویجیلینس سے جواب طلب
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا