Jasarat News:
2026-07-24@03:27:17 GMT

حماس کا باوقار جواب

اشاعت کی تاریخ: 6th, October 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

غزہ کی جنگ اپنے سب سے نازک اور فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ اسرائیل نے پوری دنیا کے سامنے انسانی المیے کو جنم دیا ہے، لیکن اس کے باوجود فلسطینی مزاحمت نے جس ثابت قدمی، نظم اور وقار کے ساتھ مقابلہ کیا ہے، وہ تاریخ ِ جنگ کا ایک منفرد باب بن چکا ہے۔ ہر دن، ہر رات، بمباری، ملبہ، آنسو، اور خون میں لتھڑا ہوا وجود، مگر ان سب کے باوجود ’’لا الٰہ الا اللہ‘‘ کے نعرے سے لبریز دل دشمن کے سامنے جھکنے سے انکار کر رہے ہیں۔ حالیہ دنوں میں جب اسرائیلی حکومت اور امریکا کی حمایت یافتہ سفارتی کوششوں کے ذریعے جنگ بندی کی باتیں زور پکڑیں، تو دنیا کی نظریں حماس کے جواب پر ٹک گئیں۔ بہت سے مبصرین نے قیاس آرائیاں کیں کہ شاید اب فلسطینی مزاحمت دبائو میں آ جائے گی، کیونکہ حالات ناقابل ِ برداشت ہو چکے ہیں۔ مگر حیرت انگیز طور پر، حماس نے جو جواب دیا، وہ نہ صرف سفارتی اعتبار سے باوقار تھا بلکہ اخلاقی لحاظ سے بھی دنیا کے سامنے ایک نئی مثال بن گیا۔

حماس کا موقف بالکل واضح تھا: ’’ہم جنگ بندی کے خلاف نہیں، لیکن ایسی جنگ بندی کے حامی بھی نہیں جو غلامی کی دستاویز ہو‘‘۔ یہ جملہ غزہ کے ملبے تلے دفن ہر بچے کی صدا بن گیا۔ مزاحمت کی قیادت نے صاف الفاظ میں کہا کہ اگر اسرائیل سنجیدگی سے جنگ بندی چاہتا ہے تو اسے غزہ سے اپنی فوجیں واپس بلانی ہوں گی، ناکہ بندی ختم کرنی ہوگی، اور قیدیوں کا تبادلہ ایک باعزت اور متوازن بنیاد پر کرنا ہوگا۔ یہ جواب صرف ایک سیاسی یا عسکری اعلان نہیں تھا، بلکہ یہ ایک فکری بیانیہ تھا جس نے بتا دیا کہ حماس کے نزدیک ’’امن‘‘ محض فائر بندی کا نام نہیں، بلکہ انصاف پر مبنی توازن کا تقاضا ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں فلسطینی مزاحمت تمام مغربی طاقتوں کے دوغلے پن کو بے نقاب کر دیتی ہے۔ اسرائیل کے جرائم پر خاموش رہنے والے ممالک اس وقت ’’امن‘‘ کے علمبردار بننے کی کوشش کر رہے ہیں، مگر وہ امن دراصل اسرائیلی تسلط کی ضمانت ہے۔

دنیا کے بڑے ذرائع ابلاغ نے حماس کے اس جواب کو مختلف زاویوں سے پیش کیا۔ کوئی اسے سخت مؤقف کہہ رہا ہے، کوئی سیاسی ضد۔ لیکن جو حقیقت میدانِ جنگ سے جھانک رہی ہے، وہ اس کے بالکل برعکس ہے۔ حماس کی قیادت نے دکھا دیا کہ وہ کسی وقتی رعایت یا عارضی سکون کے بدلے اپنی آزادی کا سودا نہیں کرے گی۔ یہ وہی جذبہ ہے جس نے صلاح الدین ایوبی کے لشکروں کو صلیبیوں کے مقابل کھڑا کیا تھا، اور وہی جذبہ آج غزہ کے زیر ِ زمین بنکروں سے ابھر رہا ہے۔ جنگ بندی کی تجویزوں میں سب سے زیادہ بحث کا نکتہ قیدیوں کا تبادلہ ہے۔ اسرائیل چاہتا ہے کہ اپنے فوجی قیدیوں کی رہائی کے بدلے غزہ کے عام شہریوں پر بمباری روک دے، لیکن اس کے بدلے وہ ہزاروں فلسطینی قیدیوں کو آزاد کرنے سے گریزاں ہے۔ حماس نے واضح کیا کہ ’’اگر اسرائیلی قیدی واپس چاہییں تو تمہیں ہمارے قیدی بھی لوٹانے ہوں گے۔ یہ سودا صرف خون کے انصاف پر مبنی ہوگا، ذلت پر نہیں‘‘۔ یہ وہ جملہ ہے جس نے فلسطینی عوام کے دلوں کو تقویت دی، اور دشمن کو بے بسی میں تڑپنے پر مجبور کر دیا۔

یہ جنگ اب محض میزائلوں اور ٹینکوں کی نہیں رہی، بلکہ یہ بیانیے کی جنگ ہے۔ اسرائیل اپنی مظلومیت کا جعلی تاثر دے کر دنیا کو گمراہ کرنا چاہتا ہے، جبکہ حماس مظلومیت نہیں، وقار کا پیغام دے رہی ہے۔ وہ کہہ رہی ہے: ’’ہمیں رحم نہیں، انصاف چاہیے۔ ہمیں روٹی نہیں، آزادی چاہیے‘‘۔ حماس کے اس بیانیے نے مغربی دنیا کے اندر بھی ارتعاش پیدا کر دیا ہے۔ یورپ اور امریکا کے بڑے شہروں میں عوام سڑکوں پر نکل کر فلسطین کے ساتھ کھڑے ہو رہے ہیں۔ یہ وہ عوامی ردِعمل ہے جو شاید اسرائیل نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا۔ دنیا کے سامنے اب یہ حقیقت عیاں ہو چکی ہے کہ غزہ کے لوگ دہشت گرد نہیں، بلکہ وہ اپنی زمین، اپنے وقار اور اپنی نسلوں کے حق ِ زندگی کے لیے لڑ رہے ہیں۔

مزاحمت کی تاریخ میں ایسے مواقع کم ہی آتے ہیں جب کمزور سمجھی جانے والی قوت دشمن کے مقابل نہ صرف عسکری بلکہ اخلاقی برتری حاصل کر لے۔ حماس نے وہ مقام حاصل کر لیا ہے۔ وہ دنیا کو یہ باور کرانے میں کامیاب ہوئی ہے کہ طاقت کا معیار صرف اسلحہ نہیں ہوتا، بلکہ ایمان، عزم، اور حق پر ڈٹے رہنے کی جرأت بھی ایک طاقت ہے۔ اب سوال یہ نہیں کہ جنگ بندی ہوگی یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ اگر جنگ بندی ہوئی تو کس کی شرائط پر؟ اگر یہ اسرائیلی شرائط پر ہوئی تو یہ ایک عارضی وقفہ ہوگا، اور اگر فلسطینی وقار کی بنیاد پر ہوئی تو یہ تاریخ کا نیا موڑ ثابت ہوگی۔

حماس کا باوقار جواب اس امت کے لیے ایک سبق ہے کہ ظلم کے سامنے خاموشی اختیار کرنا دراصل ظلم کی حمایت کے مترادف ہے، اور مزاحمت اگر ایمان سے جنم لے تو وہ کبھی شکست نہیں کھاتی۔ آج غزہ کے ملبے سے جو آوازیں اٹھ رہی ہیں، وہ صرف فلسطین کی نہیں بلکہ پوری امت کی غیرت کو پکار رہی ہیں۔ دنیا کے ایوانِ طاقت یہ سمجھ لیں کہ اگر وہ انصاف کے بغیر ’’امن‘‘ چاہتے ہیں تو وہ دراصل ایک نئی جنگ کی بنیاد رکھ رہے ہیں۔ کیونکہ جس قوم کے بچے اپنے کھنڈرات میں بھی ’’اللہ اکبر‘‘ کے نعرے لگاتے ہیں، اسے طاقت سے نہیں، صرف عدل سے روکا جا سکتا ہے۔ غزہ کے ملبے میں دبی ہوئی وہ ننھی سی آواز شاید دنیا تک پہنچ جائے ’’ہم نے خون سے قیمت ادا کی ہے، اب تم سے انصاف مانگتے ہیں‘‘۔ یہی وہ پیغام ہے جو حماس کے باوقار جواب میں چھپا ہے۔ یہ پیغام آج کے دور کے تمام ظالموں کے لیے ایک چیلنج ہے: کہ اگر تم سمجھتے ہو کہ طاقت جیت جائے گی، تو تاریخ تمہیں یاد دلا دے گی کہ ہمیشہ حق ہی غالب آیا ہے، اور حق ہمیشہ قائم رہے گا۔

 

میر بابر مشتاق.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کے سامنے دنیا کے رہے ہیں حماس کے غزہ کے کہ اگر

پڑھیں:

لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی

لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز

لاہور(آئی پی ایس )لاہور ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ ہاسنگ سوسائٹیوں میں اسکول، پارک، مسجد، ہسپتال اور دیگر عوامی سہولیات (Amenity Sites) کے لیے مختص زمین عوام کی امانت ہے۔ اگرچہ ایسی زمین کا قانونی ٹائٹل بعض حالات میں لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (LDA) کے پاس منتقل ہو سکتا ہے، لیکن LDA اسے اپنی ملکیت سمجھ کر کمرشل مقاصد کے لیے فروخت یا نیلام نہیں کر سکتی۔

مقدمہ AGRICS Cooperative Housing Society اور LDA کے درمیان تھا۔ سوسائٹی نے مقف اختیار کیا کہ وہ Cooperative Societies Act, 1925 کے تحت قائم ہوئی ہے، اس لیے LDA کے بعض قوانین اس پر لاگو نہیں ہوتے، جبکہ LDA کا مقف تھا کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین اس کے نام منتقل کیے بغیر اسکول کا بلڈنگ پلان منظور نہیں کیا جا سکتا۔

لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ Cooperative Societies Act سوسائٹی کے اندرونی معاملات سے متعلق ہے، جبکہ LDA Act لاہور میں شہری منصوبہ بندی (Urban Planning) اور ہاسنگ اسکیموں کو منظم کرنے والا خصوصی قانون ہے، اس لیے پلاننگ اور ترقیاتی معاملات میں LDA کے قوانین پر عمل کرنا تمام ہاسنگ سوسائٹیوں کے لیے لازم ہے۔

عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ 1990 کی Mortgage Deed اور سوسائٹی کے اپنے سابقہ ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ متعلقہ عوامی سہولیات کی زمین LDA کے نام منتقل ہو چکی تھی، لہذا سوسائٹی کئی دہائیوں بعد اس مقف سے انکار نہیں کر سکتی۔

فیصلے کا سب سے اہم حصہ Doctrine of Public Trust (پبلک ٹرسٹ ڈاکٹرائن) سے متعلق ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگرچہ زمین کا قانونی ٹائٹل LDA کے پاس ہے، لیکن وہ اس کا مطلق مالک نہیں بلکہ صرف Trustee (امین) ہے۔ اس لیے اسکول، پارک، مسجد یا دیگر عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کو کسی اور مقصد، خصوصا تجارتی استعمال یا فروخت کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی زمین صرف اسی مقصد کے لیے استعمال ہوگی جس کے لیے اسے مختص کیا گیا تھا۔

عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ 30 سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود اسکول کے لیے مختص پلاٹ پر اسکول تعمیر نہیں کیا گیا، جس سے علاقے کے رہائشیوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوئے۔ اسی بنیاد پر لاہور ہائی کورٹ نے LDA کو تین ماہ کے اندر قانونی طریقہ کار کے مطابق اس پلاٹ کو ایسے ادارے یا فریق کے حوالے کرنے کا حکم دیا جو وہاں اسکول تعمیر کرے، اور مقررہ مدت میں تعمیر نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

یہ فیصلہ ہاسنگ سوسائٹیوں کے رہائشیوں کے لیے ایک اہم نظیر ہے، جو اس اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کسی بھی سرکاری یا نجی ادارے کی تجارتی ملکیت نہیں بلکہ عوام کی امانت ہے، اور اسے صرف عوامی مفاد کے اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جس کے لیے وہ مختص کی گئی ہو۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookX پچھلی خبروزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال اگلی خبرمقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2026, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف