لاہور:

شہر سے تقریباً 20 سے 25 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع تاریخی کانا کاچھا ریلوے اسٹیشن ویرانی اور خستہ حالی کے باعث کھنڈرات میں تبدیل ہو چکا ہے۔

100 سال سے زائد پرانا یہ ریلوے اسٹیشن اب کسی بھوت بنگلے کا منظر پیش کر رہا ہے۔ کبھی مسافروں سے آباد رہنے والا یہ اسٹیشن اب مکمل طور پر سنسان ہے۔ یہاں کے رہائشیوں کے مطابق ماضی میں کانا کاچھا ریلوے اسٹیشن سے ملک کے مختلف حصوں کے لیے درجنوں ٹرینیں چلا کرتی تھیں۔ لوگ اپنے مال مویشی، زرعی اجناس اور پھل فروٹ سمیت مختلف اشیا کے ساتھ سفر کیا کرتے تھے۔ رش اس قدر ہوتا تھا کہ مسافروں کو ٹرینوں کی چھتوں پر بیٹھ کر سفر کرنا پڑتا تھا۔

تاہم وقت گزرنے کے ساتھ اسٹیشن کی رونقیں ماند پڑ گئیں۔ آج یہ تاریخی اسٹیشن کھنڈرات میں تبدیل ہو چکا ہے۔ عمارت کے دروازے اور کھڑکیاں غائب ہیں، جبکہ اسٹیشن ماسٹر کے کمرے اور انتظار گاہوں میں نشئیوں نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں۔ وی آئی پی لاؤنج کو تالا لگا کر بند کر دیا گیا ہے جو اب زنگ آلود ہو چکا ہے۔

مقامی افراد کا کہنا ہے کہ ماضی میں اسٹیشن کے قریب سینما، سبزی منڈی اور دودھ فروشوں کی سرگرمیاں ہوا کرتی تھیں، جہاں سے دودھ لاہور سمیت دیگر شہروں کو بھیجا جاتا تھا۔ تاہم اب اسٹیشن کے اطراف قبضے ہو چکے ہیں، گوالوں نے بھینسیں باندھ رکھی ہیں، اور عمارت کے اوپر گھاس پوس اور جھاڑیاں اگ آئی ہیں۔

علاقہ مکین بابا سراج اور بابا اسحاق کے مطابق انہوں نے اپنے بچپن میں اس اسٹیشن سے ایک آنہ یا ایک روپے میں سفر کیا، مگر اب یہاں صرف ویرانی اور خستہ حالی باقی رہ گئی ہے۔

ریلوے انتظامیہ کے مطابق کانا کاچھا اسٹیشن مسافروں کی کمی کے باعث بند کیا گیا تھا۔ اگر مستقبل میں مسافروں کی تعداد میں اضافہ ہوا تو اسے دوبارہ فعال کیا جا سکتا ہے۔ تاہم موجودہ صورتحال دیکھ کر یہ کہنا مشکل نہیں کہ اسٹیشن کی عمارت آئندہ چند برسوں میں مکمل طور پر زمین بوس ہو سکتی ہے۔

مقامی افراد کا کہنا ہے کہ اگر اس اسٹیشن کو بحال کر دیا جائے تو نہ صرف عوام کو سفری سہولت میسر آئے گی بلکہ دودھ فروشوں اور تاجروں کو بھی اپنی مصنوعات کی ترسیل میں آسانی ہوگی۔

https://www.

facebook.com/reel/815394621039061

 

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ریلوے اسٹیشن

پڑھیں:

لاہور میں موسلا دھار بارش، سڑکیں زیر آب، معمولات زندگی متاثر

لاہور میں مون سون کی شدید بارشوں نے معمولات زندگی متاثر کر دیے، کئی علاقوں میں سڑکیں، چوراہے اور انڈر پاسز پانی میں ڈوب گئے جبکہ ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی۔ محکمہ موسمیات کے مطابق گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران شہر میں 343 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جس کے باعث متعدد نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہوگیا۔

لاہور کے مختلف علاقوں میں بارش کا پانی جمع ہونے سے شہریوں کو آمدورفت میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ بعض سڑکوں اور گلیوں میں 3  سے 4 فٹ تک پانی کھڑا رہا، جبکہ کئی مقامات پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔

یہ بھی پڑھیں: لاہور میں بارش کے بعد کئی علاقے زیر آب، ’اب آفس جانےکے لیے کشتی کی ضرورت ہوگی‘

ڈیفنس کے فیز ون سے فیز فائیو تک مختلف مقامات پر پانی جمع ہونے سے ٹریفک متاثر ہوئی، جبکہ غازی انڈر پاس اور مسجد چوک انڈر پاس کو پانی بھرنے کے باعث بند کرنا پڑا اور ٹریفک کو متبادل راستوں پر منتقل کیا گیا۔

حربنس پورہ، مال روڈ، کوپر روڈ، لکشمی چوک اور چوبرجی چوک سمیت متعدد علاقوں میں بھی پانی جمع ہونے کی اطلاعات ملیں، جہاں واسا کی ٹیمیں نکاسی آب میں مصروف رہیں۔

شدید بارش کے باعث شہر کی کئی سڑکوں پر گڑھے بھی پڑ گئے۔ کینال روڈ، جوہر ٹاؤن مین بلیوارڈ اور بھیکے والا موڑ سمیت مختلف مقامات پر سڑکیں متاثر ہوئیں، جس کے بعد ٹریفک پولیس نے متاثرہ علاقوں کو بند کرکے متبادل راستے فراہم کیے۔

یہ بھی پڑھیں: مون سون سیزن: لاہور سے ایک گھنٹے میں بارش کا پانی نکالنا ہدف ہے، ڈی ایم ڈی واسا

صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق پنجاب میں حالیہ مون سون بارشوں کے دوران مختلف حادثات میں اب تک 21 افراد جاں بحق اور 154 زخمی ہو چکے ہیں۔ جاں بحق ہونے والوں میں 15 افراد مکانات گرنے، 2 آسمانی بجلی گرنے، 3 کرنٹ لگنے جبکہ ایک شخص ڈوبنے سے جاں بحق ہوا۔

واسا لاہور کے مطابق شہر میں ہنگامی بنیادوں پر نکاسی آب کا عمل جاری ہے، تمام ڈسپوزل اسٹیشن مکمل استعداد کے ساتھ کام کر رہے ہیں جبکہ متاثرہ مقامات پر اضافی مشینری اور عملہ تعینات کیا گیا ہے۔

ضلعی انتظامیہ اور واسا نے شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے، نشیبی علاقوں اور بجلی کے کھمبوں سے دور رہنے کی ہدایت کی ہے۔ شہریوں نے تاہم ہر سال بارشوں کے دوران پانی جمع ہونے کے مسئلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے نکاسی آب کے نظام کو بہتر بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news بارش پانی زیر آب لاہور

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • لاہور ڈی ایچ اے میں بارش کے بعد پانی بھرگیا، رابی پیرزادہ کا مریم نواز سے شکوہ
  • لاہور میں موسلا دھار بارش، سڑکیں زیر آب، معمولات زندگی متاثر
  • دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
  • مون سون کا طاقتورسپیل ، جھل تھل ایک ہوگیا،2 وکلاء کے چیمبر گرگئے
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • لاہور میں 6 گھنٹے تک طوفانی بارش سے شہر پانی میں ڈوب گیا
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل