Jasarat News:
2026-07-24@01:46:35 GMT

آئی ایم ایف کا انتباہ: حکومت کو اضافی ٹیکس لگانے کی تجویز

اشاعت کی تاریخ: 7th, October 2025 GMT

آئی ایم ایف کا انتباہ: حکومت کو اضافی ٹیکس لگانے کی تجویز

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد :عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف) نے خبردار کیا ہے کہ علاقائی کشیدگی میں ممکنہ اضافہ پاکستان کی معیشت کے لیے سنگین خطرات پیدا کرسکتا ہے جب کہ رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں 194 ارب روپے کے ریونیو شارٹ فال کو پورا کرنے کے لیے اضافی ٹیکس عائد کرنے کی تجویز پیش کر دی گئی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان دوسرے اقتصادی جائزے کے سلسلے میں جاری پالیسی سطح کے مذاکرات اختتامی مرحلے میں داخل ہوگئے ہیں، جہاں فریقین میمورنڈم آف اکنامک اینڈ فنانشل پالیسیز (MEFP) کے مسودے کو حتمی شکل دینے پر مشاورت کر رہے ہیں۔

وفاقی سیکریٹری خزانہ کی سربراہی میں معاشی ٹیم نے آئی ایم ایف مشن سے ملاقات کی جب کہ وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی مشن سے ملاقات بھی متوقع ہے، مذاکرات میں ایف بی آر کے ممبر کسٹمز پالیسی اور دیگر حکام شریک تھے۔

ذرائع نے بتایا کہ مذاکرات کے دوران ٹیکس اہداف، ٹیکس نیٹ میں توسیع، اور آمدنی بڑھانے کے انتظامی اقدامات پر تفصیلی بات چیت ہوئی، اس دوران آئی ایم ایف نے تجویز دی کہ ریونیو شارٹ فال کو پورا کرنے کے لیے کچھ شعبوں پر نئے ٹیکس عائد کیے جائیں اور جہاں رعایتی ٹیکس کی شرحیں لاگو ہیں، انہیں معیاری شرح پر واپس لایا جائے۔

حکومتی ٹیم نے مؤقف اختیار کیا کہ ٹیکس تنازعات میں پھنسے اربوں روپے کے واجبات کی وصولی، بہتر انتظامی اصلاحات، اور انفورسمنٹ اقدامات کے ذریعے شارٹ فال کو پورا کیا جا سکتا ہے، لہٰذا فوری طور پر اضافی ٹیکس عائد کرنا مناسب نہیں ہوگا۔

ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف کو شوگر سیکٹر کی ڈی ریگولیشن، آٹو پالیسی، اور ٹیرف اصلاحات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی، حکومت نے وضاحت کی کہ چینی کی صنعت پر حکومتی کنٹرول کم کرنے اور قیمتوں کے تعین کے لیے مارکیٹ میکانزم کو متعارف کرانے کا مقصد پیداوار میں استحکام اور شفافیت لانا ہے جب کہ آٹو پالیسی کے تحت گاڑیوں کی قیمتوں، ٹیرف، اور پیداوار کو بہتر بنایا جائے گا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ مذاکرات کی کامیابی یقینی بنانے کے لیے وفاقی حکومت نے صوبائی حکومتوں پر زور دیا ہے کہ وہ زیر التوا مالیاتی امور کو فوری حل کریں تاکہ 7 ارب ڈالر کے توسیعی مالیاتی معاہدے (EFF) کے دوسرے جائزے کو بروقت مکمل کیا جا سکے۔

اسی سلسلے میں وزیر اعظم آفس کی جانب سے صوبائی چیف سیکریٹریز اور فنانس سیکریٹریز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ 24 گھنٹوں کے اندر اپنی تازہ پیش رفت کی رپورٹ جمع کرائیں اور اگر کسی ہدف میں تاخیر ہو تو وجوہات واضح طور پر بیان کریں۔

ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے کہا ہے کہ علاقائی تنازعات میں اضافہ معاشی نمو کی رفتار کو مزید سست کر سکتا ہے جب کہ غیر یقینی حالات کی وجہ سے غیر ملکی سرمایہ کاروں کے اعتماد پر بھی منفی اثر پڑ سکتا ہے، ادارے نے متنبہ کیا ہے کہ اگر کشیدگی میں اضافہ ہوا تو اجناس کی قیمتوں میں اضافہ اور بیرونی استحکام میں مزید دباؤ کا خدشہ ہے۔

آئی ایم ایف کے مطابق عالمی سطح پر اقتصادی غیر یقینی کی کیفیت برقرار ہے اور اس صورت حال میں پاکستان کے لیے مالی نظم و ضبط برقرار رکھنا نہایت ضروری ہے تاکہ بیرونی ادائیگیوں، سرمایہ کاری، اور معاشی استحکام پر ممکنہ دباؤ کو کم کیا جا سکے۔

ویب ڈیسک وہاج فاروقی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: آئی ایم ایف کے مطابق کے لیے

پڑھیں:

گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں سے سیلابی تباہی، شاہراہیں اور پل بہہ گئے، ہزاروں افراد محصور : انتباہ جاری

 گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں کے باعث آنے والے سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ نے نظامِ زندگی مفلوج کر دیا، متعدد شاہراہیں، پل اور رابطہ سڑکیں بہہ جانے سے ہزاروں افراد، جن میں سیاح بھی شامل ہیں، مختلف علاقوں میں پھنس گئے۔

محکمہ موسمیات نے 26 جولائی تک گلگت بلتستان میں مزید بارشوں کی پیش گوئی کرتے ہوئے گلیشیائی جھیلیں پھٹنے سے اچانک سیلاب آنے کے خطرے سے خبردار کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پورا ہفتہ موسلا دھار مون سون بارشیں، محکمہ موسمیات کا ملک گیرالرٹ، شہریوں کو احتیاطی تدابیر اپنانے کا انتباہ

گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق قراقرم شاہراہ داسو سے ہنزہ اور نگر تک کئی مقامات پر بند ہے، جبکہ بابوسر روڈ، بلتستان روڈ، نلتر شاہراہ، غذر۔شندور روڈ، استور ویلی روڈ اور دیگر اہم راستے بھی سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے ناقابلِ استعمال ہوگئے ہیں۔

مسلسل سیلابی صورتحال کے باعث امدادی اور بحالی کی سرگرمیاں بھی متاثر ہو رہی ہیں، جبکہ کئی علاقے پل اور رابطہ سڑکیں تباہ ہونے کے بعد ملک کے دیگر حصوں سے منقطع ہو گئے ہیں۔

روندو سب ڈویژن کے تورمک نالہ میں شدید سیلاب سے کم از کم تین اہم پل، جن میں ملان پل بھی شامل ہے، بہہ گئے۔ خرمانگ، گانچھے اور شگر اضلاع میں سڑکوں، پلوں، زرعی زمینوں، فصلوں اور بنیادی ڈھانچے کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے، جبکہ ہراموش میں معلق پل اور بجلی گھر متاثر ہوئے ہیں۔

استور، تانگیر، تھور اور ضلع دیامر کے دیگر علاقوں میں بجلی، پانی اور مواصلاتی نظام معطل ہو گیا ہے۔ پینے کے پانی کی اسکیمیں، آبپاشی کے نہری نظام اور حفاظتی پشتے بھی تباہ ہو گئے، جبکہ کئی دیہات کا زمینی رابطہ منقطع ہوگیا۔

یہ بھی پڑھیں: گلگت بلتستان، خیبرپختونخوا میں شدید بارشوں کی پیشگوئی، گلیشیئر پھٹنے اور سیلابی صورتحال کا الرٹ جاری

استور، تھور ویلی، تانگیر اور دیگر علاقوں میں درجنوں خاندان سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث بے گھر ہو گئے ہیں۔

ضلع غذر میں متعدد مقامات پر سڑکیں بند، مقامی سطح پر سیلابی صورتحال اور دو گھروں کو جزوی نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں، جبکہ احتیاطی تدابیر کے تحت حساس علاقوں سے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔

ہنزہ نگر دریا میں پانی کی سطح بلند ہونے سے گلگت کے جوتل علاقے میں آٹھ گھروں کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے، جبکہ یاسین ویلی، شیلی آباد، امیت اور دیگر علاقوں میں دریا کے کٹاؤ سے زرعی اراضی اور درختوں کو نقصان پہنچا ہے۔ غذر۔شندور اور غذر۔گلگت سڑکیں بھی تاحال بند ہیں۔

حکام نے شہریوں اور سیاحوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے۔

گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق ضلعی انتظامیہ، ریسکیو 1122 اور دیگر ادارے مشترکہ طور پر امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ متاثرہ خاندانوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جارہا ہے اور انہیں خیمے، راشن، ادویات اور صاف پانی فراہم کیا جارہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: 6 سے 10 اپریل کے دوران بارشیں اور ژالہ باری، این ڈی ایم اے کا الرٹ جاری

وزیراعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین نے متاثرہ علاقوں میں امدادی اور بحالی کے کام تیز کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے تمام متعلقہ اداروں کو چوبیس گھنٹے الرٹ رہنے کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے خوراک، صحت، پینے کے پانی، ادویات اور دیگر ضروری اشیاء کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے اور تباہ شدہ سڑکوں، پلوں اور بنیادی ڈھانچے کی فوری بحالی کے لیے بھاری مشینری استعمال کرنے کی بھی ہدایت کی۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ گلگت بلتستان کی حکومت متاثرہ عوام کو تنہا نہیں چھوڑے گی اور تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا کر متاثرین کی بحالی اور ہر ممکن امداد فراہم کی جائے گی۔

انہوں نے اسلام آباد میں قومی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے ہیڈکوارٹرز کا دورہ بھی کیا، جہاں چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک نے انہیں بتایا کہ گلگت بلتستان میں گلیشیئرز کی جدید سائنسی طریقوں سے مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے اور ہر گلیشیئر کو منفرد شناختی کوڈ دیا گیا ہے تاکہ ممکنہ خطرات کا بروقت اندازہ لگایا جا سکے۔

وزیراعلیٰ امجد حسین نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات اب ایک حقیقت بن چکے ہیں اور گلگت بلتستان ان سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں میں شامل ہے، جہاں گلیشیائی جھیلیں پھٹنے، اچانک سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے خطرات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے وفاقی اور صوبائی اداروں کے درمیان مؤثر تعاون پر زور دیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news بارش تباہی سیلاب گلگت بلتستان

متعلقہ مضامین

  • سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں 3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ
  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ، شہری پھٹ پڑے
  • حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کر دیا، نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری
  • 24 جولائی کیلئے بھی ڈیزل اور پیٹرول کی قیمت میں اضافہ کردیا گیا
  • گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں سے سیلابی تباہی، شاہراہیں اور پل بہہ گئے، ہزاروں افراد محصور : انتباہ جاری
  • اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مرکزی بینک کے ذخائر 17.25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
  • سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
  • آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے، وزیراعظم شریف
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن