آئی ایم ایف کا انتباہ: حکومت کو اضافی ٹیکس لگانے کی تجویز
اشاعت کی تاریخ: 7th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد :عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف) نے خبردار کیا ہے کہ علاقائی کشیدگی میں ممکنہ اضافہ پاکستان کی معیشت کے لیے سنگین خطرات پیدا کرسکتا ہے جب کہ رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں 194 ارب روپے کے ریونیو شارٹ فال کو پورا کرنے کے لیے اضافی ٹیکس عائد کرنے کی تجویز پیش کر دی گئی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان دوسرے اقتصادی جائزے کے سلسلے میں جاری پالیسی سطح کے مذاکرات اختتامی مرحلے میں داخل ہوگئے ہیں، جہاں فریقین میمورنڈم آف اکنامک اینڈ فنانشل پالیسیز (MEFP) کے مسودے کو حتمی شکل دینے پر مشاورت کر رہے ہیں۔
وفاقی سیکریٹری خزانہ کی سربراہی میں معاشی ٹیم نے آئی ایم ایف مشن سے ملاقات کی جب کہ وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی مشن سے ملاقات بھی متوقع ہے، مذاکرات میں ایف بی آر کے ممبر کسٹمز پالیسی اور دیگر حکام شریک تھے۔
ذرائع نے بتایا کہ مذاکرات کے دوران ٹیکس اہداف، ٹیکس نیٹ میں توسیع، اور آمدنی بڑھانے کے انتظامی اقدامات پر تفصیلی بات چیت ہوئی، اس دوران آئی ایم ایف نے تجویز دی کہ ریونیو شارٹ فال کو پورا کرنے کے لیے کچھ شعبوں پر نئے ٹیکس عائد کیے جائیں اور جہاں رعایتی ٹیکس کی شرحیں لاگو ہیں، انہیں معیاری شرح پر واپس لایا جائے۔
حکومتی ٹیم نے مؤقف اختیار کیا کہ ٹیکس تنازعات میں پھنسے اربوں روپے کے واجبات کی وصولی، بہتر انتظامی اصلاحات، اور انفورسمنٹ اقدامات کے ذریعے شارٹ فال کو پورا کیا جا سکتا ہے، لہٰذا فوری طور پر اضافی ٹیکس عائد کرنا مناسب نہیں ہوگا۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف کو شوگر سیکٹر کی ڈی ریگولیشن، آٹو پالیسی، اور ٹیرف اصلاحات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی، حکومت نے وضاحت کی کہ چینی کی صنعت پر حکومتی کنٹرول کم کرنے اور قیمتوں کے تعین کے لیے مارکیٹ میکانزم کو متعارف کرانے کا مقصد پیداوار میں استحکام اور شفافیت لانا ہے جب کہ آٹو پالیسی کے تحت گاڑیوں کی قیمتوں، ٹیرف، اور پیداوار کو بہتر بنایا جائے گا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ مذاکرات کی کامیابی یقینی بنانے کے لیے وفاقی حکومت نے صوبائی حکومتوں پر زور دیا ہے کہ وہ زیر التوا مالیاتی امور کو فوری حل کریں تاکہ 7 ارب ڈالر کے توسیعی مالیاتی معاہدے (EFF) کے دوسرے جائزے کو بروقت مکمل کیا جا سکے۔
اسی سلسلے میں وزیر اعظم آفس کی جانب سے صوبائی چیف سیکریٹریز اور فنانس سیکریٹریز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ 24 گھنٹوں کے اندر اپنی تازہ پیش رفت کی رپورٹ جمع کرائیں اور اگر کسی ہدف میں تاخیر ہو تو وجوہات واضح طور پر بیان کریں۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے کہا ہے کہ علاقائی تنازعات میں اضافہ معاشی نمو کی رفتار کو مزید سست کر سکتا ہے جب کہ غیر یقینی حالات کی وجہ سے غیر ملکی سرمایہ کاروں کے اعتماد پر بھی منفی اثر پڑ سکتا ہے، ادارے نے متنبہ کیا ہے کہ اگر کشیدگی میں اضافہ ہوا تو اجناس کی قیمتوں میں اضافہ اور بیرونی استحکام میں مزید دباؤ کا خدشہ ہے۔
آئی ایم ایف کے مطابق عالمی سطح پر اقتصادی غیر یقینی کی کیفیت برقرار ہے اور اس صورت حال میں پاکستان کے لیے مالی نظم و ضبط برقرار رکھنا نہایت ضروری ہے تاکہ بیرونی ادائیگیوں، سرمایہ کاری، اور معاشی استحکام پر ممکنہ دباؤ کو کم کیا جا سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: آئی ایم ایف کے مطابق کے لیے
پڑھیں:
بحرین میں ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کا نعرہ لگانے پر پابندی عائد
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین میں قیدیوں کے لیے کام کرنیوالی تنظیم نے میڈیا کو بتایا ہے کہ ملک کے سکیورٹی اداروں نے ماہِ محرم کی آمد کے موقع پر مجالس عزا پڑھنے والے خطباء اور مقررین کو وسیع پیمانے پر طلب کر کے نئی پابندیاں عائد کرتے ہوئے شیعہ مذہبی مراسم پر دباؤ میں اضافہ کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بحرینی سکیورٹی اداروں نے محرم الحرام سے قبل متعدد خطباء اور ذاکرین کو طلب کیا ہے اور عزاداری کی مجالس اور مذہبی شعائر کے انعقاد کے لیے کئی نئی پابندیاں نافذ کی ہیں۔ ان پابندیوں میں مجالسِ عزاء کے لیے چالیس منٹ کی وقت کی حد مقرر کرنا، بعض حسینی نعروں خصوصاً ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کے بلند کرنے یا دہرانے پر پابندی لگانا، نیز خطباء کو ظلم و استبداد کے خلاف جدوجہد سے وابستہ تاریخی اور سیاسی شخصیات کا تذکرہ کرنے سے روکنا شامل ہے۔
ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے ان فیصلوں پر تنقید کرتے ہوئے انہیں بحرین کی شیعہ اکثریتی آبادی کے خلاف اختیار کی جانے والی محدودیت پسند پالیسیوں کا حصہ قرار دیا اور کہا کہ یہ اقدامات مذہبی مناسبتوں پر نگرانی اور کنٹرول بڑھانے کے مقصد سے کیے جا رہے ہیں۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ بیان کے مطابق ایسی پالیسیوں کا تسلسل مذہبی شعائر کی آزادانہ ادائیگی اور بحرینی معاشرے کی دینی و ثقافتی شناخت کے تحفظ پر منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔