data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی:۔ ملک بھر کے تعلیمی بورڈز کے آفیشل یا سرکاری فورم آئی بی سی سی (انٹر بورڈ کوآرڈی نیشن کمیشن) نے نئی گریڈنگ پالیسی کے اطلاق کا نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے جو مرحلہ وار آئندہ برس 2026ءسے میٹرک اور انٹر کے سالانہ امتحانات میں قابل عمل ہوگا۔

تاہم نئی گریڈنگ پالیسی سے “جی پی اے اور سی جی پی اے” کو نکال دیا گیا ہے جو اس سے قبل نئی گریڈنگ پالیسی کا حصہ تھی۔ یہ فیصلہ کراچی میں گزشتہ ماہ ملک بھر کے تمام تعلیمی بورڈز کے سربراہوں کے منعقدہ اجلاس میں کیا گیا اور فیصلے پر عمل درآمد کے سلسلے میں اب آئی بی سی سی نے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے۔

آئی بی سی سی کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر ڈاکٹر غلام علی ملاح نے بتایا کہ کراچی میں منعقدہ فورم کے اجلاس میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ ملک کی کئی جامعات فی الحال جی پی اے کی بنیاد پر یونیورسٹیوں میں داخلہ دینے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

انہوں نے کہاکہ جامعات کا کہنا ہے کہ نئی گریڈنگ پالیسی میں فی الوقت گریڈ پوائنٹ ایوریج کو شامل نہ کیا جائے جبکہ اس رائے سے تعلیمی بورڈز بھی متفق تھے، لہٰذا اب نئی گریڈنگ پالیسی سال 2026سے جی پی اے کے بغیر نافذ ہوگی۔

Aleem uddin.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: نئی گریڈنگ پالیسی جی پی اے

پڑھیں:

کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے

کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔

حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔ 

محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔ 

مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔

ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔

محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔

جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔ 

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
  • کراچی میں کھلے مین ہول میں گر کر 7 سالہ بچہ جاں بحق
  • حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کر دیا، نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری
  • خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • خیبرپختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • کراچی میں موٹر سائيکل چوری میں ملوث خاتون گرفتار