بنگلادیش: حسینہ واجد کے دور کی جبری گمشدگیوں پر اعلیٰ فوجی افسران کے وارنٹ گرفتاری جاری
اشاعت کی تاریخ: 8th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ڈھاکا: بنگلادیش کی عدالت نے برطرف وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد کی حکومت کے دوران ہونے والی جبری گمشدگیوں کے سنگین الزامات پر دو درجن سے زائد فوجی افسران کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے ہیں ۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق تحقیقاتی کمیشن نے تصدیق کی ہے کہ حسینہ واجد کے پندرہ سالہ دورِ اقتدار کے دوران سکیورٹی فورسز کی جانب سے کم از کم 250 جبری گمشدگیوں کے واقعات پیش آئے، ان واقعات میں سیاسی مخالفین، طلبہ رہنما، سماجی کارکنان اور بعض صحافی بھی شامل تھے۔
ذرائع کے مطابق کمیشن کو اب تک جبری گمشدگیوں کی تقریباً 1700 شکایات موصول ہو چکی ہیں، جن میں سے درجنوں کیسز ایسے ہیں جن میں متاثرہ خاندانوں نے براہ راست فوج اور انٹیلی جنس اداروں پر ذمہ داری عائد کی ہے۔
عدالتی حکم کے مطابق جن فوجی افسران کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے ان میں کم از کم 16 جنرل سطح کے عہدیدار بھی شامل ہیں جو حسینہ واجد کے دور میں مختلف حساس اداروں میں تعینات تھے، یہ پہلا موقع ہے کہ اس بڑی تعداد میں اعلیٰ فوجی افسران کو سول عدالت میں مقدمات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
چیف پراسیکیوٹر محمد تاج الاسلام نے عدالتی سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ عدالتی عمل اس بات کو نہیں دیکھتا کہ مجرم کون ہیں یا ان کا عہدہ کیا ہے، جن لوگوں نے ریاست، آئین اور عوام کے اعتماد کے خلاف کام کیا، اب انہیں اپنے اعمال کا جواب دینا ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ کیس صرف ماضی کے ظلم کا نہیں بلکہ مستقبل کے لیے انصاف کی بنیاد ہے تاکہ کوئی طاقت عوامی حقوق کو پامال کرنے کی جرات نہ کرے۔
یاد رہے کہ سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کو اگست 2024 میں طلبہ کی قیادت میں ہونے والے ملک گیر عوامی مظاہروں کے بعد اقتدار سے ہٹا دیا گیا تھا۔ عوامی غصے اور احتجاجی لہر کے دوران وہ ہیلی کاپٹر کے ذریعے ڈھاکا سے بھارت فرار ہو گئی تھیں۔
اس وقت حسینہ واجد کو بنگلادیش کے انٹرنیشنل کرائمز ٹریبونل میں جبری گمشدگیوں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے متعلق مقدمات میں شریک ملزم کے طور پر نامزد کیا گیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق یہ ٹریبونل حسینہ واجد کی برطرف شدہ حکومت اور ان کی اب کالعدم قرار دی جانے والی جماعت عوامی لیگ سے وابستہ متعدد سابق وزرا، اعلیٰ حکومتی اہلکاروں اور فوجی عہدیداروں کے خلاف بھی کارروائی کر رہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جبری گمشدگیوں فوجی افسران حسینہ واجد کے مطابق
پڑھیں:
خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطاق 19 جولائی سے اب تک خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں بارشوں اور فلش فلڈز سے مجموعی طور پر 9 مرد، 10 بچے اور تین خواتین جاں بحق ہوئیں۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا میں ہونے والی بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 5 روز کے دوران 22 شہری جاں بحق جبکہ 23 زخمی ہوگئے۔ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطاق 19 جولائی سے اب تک خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں بارشوں اور فلش فلڈز سے مجموعی طور پر 9 مرد، 10 بچے اور تین خواتین جاں بحق ہوئیں۔ اعلامیے کے مطابق زخمیں میں 11 مرد، 5 خواتین 7 بچے شامل ہیں جبکہ تیز بارشوں اور فلش فلڈ کے باعث مجموعی طور پر 37 گھروں کو نقصان پہنچا جس میں 29 گھروں کو جزوی جبکہ 8 گھر مکمل منہدم ہوگئے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق حادثات پشاور، نوشہرہ، خیبر، مردان , بونیر، باجوڑ، شانگلہ، صوابی، چترال لوئر، دیر لوئر اور اپر، ایبٹ آباد، مانسہرہ،ہری پور، ٹانک، تور غر اور کرم اور شمالی و جنوبی وزیرستان میں پیش آئے۔
اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ پی ڈی ایم اے، ریسکیو 1122، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداراے آپس میں رابطے میں اور امدادی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں جبکہ متاثرہ اضلاع کی انتظامیہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ متاثرین میں جلد امدادی سامان تقسیم کردے۔ ڈی جی پی ڈی ایم اے نے ضلعی انتظامیہ کو امدادی سرگرمیاں تیز کرنے اور متاثرین کو فوری معاونت فراہم کرنے کی ہدایت کی اور بتایا کہ صوبہ کے تمام دریاؤں اور ندی نالوں میں پانی کی سطح اور بہاو معمول کے مطابق ہے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق تیز بارشوں کا یہ سلسلہ آج تک وقفے وقفے سے جاری رہنے کا امکان ہے۔ پی ڈی ایم اے نے عوام سے اپیل کی کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور حساس سیاحتی مقامات کا رخ نہ کریں جبکہ حکومتی اداروں کی جانب سے الرٹس/ اور ایڈوائزری پر عمل کریں۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے کے مطابق ایمرجنسی آپریشن سینٹر مکمل طور پر فعال ہے، عوام کسی بھی نا خوشگوار واقعے کی اطلاع ، موسمی صورتحال سے آگائی اور معلومات کے لیے فری ہیلپ لائن 1700 پر رابطہ کریں۔