سابق سینیٹر مشتاق احمد خان نے جماعت اسلامی سے استعفیٰ دیدیا
اشاعت کی تاریخ: 10th, October 2025 GMT
سابق سینیٹر نے گلوبل صمود فلوٹیلا پر سفر کے دوران 19 ستمبر کو اپنا استعفیٰ بھیجا لیکن انہیں اب تک اس پر کوئی جواب نہیں ملا۔ جس رات انہوں نے استعفیٰ دیا، اس رات وہ اسی طرح روئے جس طرح اپنی والدہ کی وفات پر روئے تھے۔ مشتاق احمد خان نے استعفے کی وجوہات بتاتے ہوئے کہا تنظیم کی اپنی حدود ہوتی ہیں اور بعض اوقات آپ آزادانہ کام کرتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ سابق سینیٹر مشتاق احمد خان نے جماعت اسلامی سے استعفیٰ دینے کی تصدیق کر دی۔ خصوصی گفتگو کرتے ہوئے سابق سینیٹر نے اپنے استعفیٰ کی تصدیق کی اور کہا کہ انہوں نے گلوبل صمود فلوٹیلا پر سفر کے دوران 19 ستمبر کو اپنا استعفیٰ بھیجا لیکن انہیں اب تک اس پر کوئی جواب نہیں ملا۔ جس رات انہوں نے استعفیٰ دیا، اس رات وہ اسی طرح روئے جس طرح اپنی والدہ کی وفات پر روئے تھے۔ مشتاق احمد خان نے استعفے کی وجوہات بتاتے ہوئے کہا تنظیم کی اپنی حدود ہوتی ہیں اور بعض اوقات آپ آزادانہ کام کرتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ آزادانہ طور پر کھل کر انسانی حقوق کا کام کریں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: مشتاق احمد خان نے سابق سینیٹر
پڑھیں:
ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران جنگ کے طول پکڑنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ الجزیرہ ٹی وی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو میڈیا اور ممکنہ طور پر اپنی ہی انتظامیہ کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے، خاص طور پر اس حوالے سے کہ وہ بارہا یہ پیش گوئی کرتے رہے ہیں کہ موجودہ تنازع جلد ہی حل ہو جائے گا۔ تنازع کے آغاز پر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ جنگ صرف چند دن جاری رہے گی، بعد ازاں انہوں نے کہا کہ معاملہ چند ہفتوں میں حل ہو جائے گا، تاہم جنگ طویل عرصے سے جاری ہے اور اس کے خاتمے کے آثار تاحال واضح نہیں ہیں، اس کے باوجود ٹرمپ مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ معاہدہ قریب ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا، صدر ٹرمپ روزانہ کی بنیاد پر اس مؤقف کا اعادہ کر رہے ہیں کہ فریقین معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، لیکن اگر بات چیت کسی نتیجے تک نہ پہنچی تو امریکا اپنی فوجی طاقت استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔