کراچی، تیز رفتار کوسٹر نے 2 کمسن موٹرسائیکل سوار کچل ڈالے
اشاعت کی تاریخ: 14th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی:۔ کورنگی نمبر 5 میمن انسٹی ٹیوٹ کے قریب تیز رفتار کوسٹر نے دو کمسن موٹرسائیکل سواروں کو کچل دیا۔ ریسکیو حکام کے مطابق کورنگی نمبر 5 میں میمن انسٹیٹیوٹ کے قریب ٹریفک حادثے میں دو کم سن موٹر سائیکل سوار جاں بحق اور تیسرا زخمی ہوگیا، حادثہ کوسٹر کی موٹر سائیکل کو ٹکر کے نتیجے میں پیش آیا۔
ریسکیو حکام نے بتایا کہ لاشوں کو جناح اسپتال منتقل کیا گیا، جاں بحق موٹر سائیکل سوار لڑکوں کی شناخت 14 سالہ مدثر اور 13 سالہ ایان کے نام سے ہوئی، حادثے میں 16 سالہ رافع زخمی ہوا۔ حادثے کی اطلاع ملتے ہی لواحقین جناح اسپتال پہنچے جہاں انہوں نے بتایا کہ بچے بغیر بتائے گھر سے موٹر سائیکل لے کر نکلے تھے۔
افسوس ناک حادثے میں جاں بحق ہونے والا مدثر تین بہن بھائیوں میں سے سب سے چھوٹا تھا اور موٹر سائیکل چلانے والا ایان پانچ بہن بھائیوں میں تیسرے نمبر پر تھا، دونوں بچے قرآن کریم حفظ کررہے تھے۔ لواحقین نے بتایا کہ دونوں بچوں کا تکمیل قرآن قریب تھا۔
عینی شاہدین نے بتایا کہ حادثہ اس وقت پیش آیا جب تیز رفتار کوسٹر موٹرسائیکل سواروں پر چڑھ دوڑی۔ ایس ایس پی کورنگی طارق نواز نے بتایا کہ حادثے کے ذمہ دار کوسٹر ڈرائیور کے پاس ڈرائیونگ لائسنس نہیں ہے، واقعے کا مقدمہ درج کیا جا رہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: موٹر سائیکل نے بتایا کہ
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔