فرسٹ ویمن بینک کی نجکاری کے لیے دی گئی بولی منظور
اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد:۔ نائب وزیرِ اعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی زیرِ صدارت کابینہ کمیٹی برائے نجکاری کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں فرسٹ ویمن بینک لمیٹڈ کی نجکاری کے لیے دی گئی بولی کو منظوری دے دی گئی۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ فرسٹ ویمن بینک کی نجکاری کے لیے پیش کی گئی بولی مقررہ ریفرنس پرائس سے زیادہ تھی، اس فیصلے سے متحدہ عرب امارات کی نامزد کمپنی کے ساتھ سرکاری سطح (G2G) پر معاہدے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق اس معاہدے سے غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں مزید بہتری متوقع ہے۔
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے نجکاری کمیشن اور اس عمل سے وابستہ تمام متعلقہ اداروں و افراد کی کوششوں کو سراہا۔انہوں نے اجلاس کے دوران اب تک کی پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا اور حکومت کے معاشی اصلاحات اور شفاف نجکاری کے عزم کو دہرایا۔ اجلاس میں وزرائے پیٹرولیم، نجکاری، ریلویز اور اعلیٰ سرکاری حکام نے شرکت کی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: نجکاری کے
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔