پی ایم اے کاکول میں پاسنگ آؤٹ پریڈ، فیلڈ مارشل بطور مہمان خصوصی شریک
اشاعت کی تاریخ: 18th, October 2025 GMT
پاکستان ملٹری اکیڈمی (پی ایم اے) کاکول میں 152ویں پی ایم اے لانگ کورس کی پاسنگ آؤٹ پریڈ جاری ہے، فیلڈ مارشل عاصم منیر بطور مہمان خصوصی پاسنگ آؤٹ پریڈ تقریب میں شریک ہیں۔
نجی ٹی وی کے مطابق 37 ویں ٹیکنیکل گریجویٹ کورس، 71 ویں انٹیگریٹڈ کور، 26 ویں لیڈی کیڈٹ کورس کی پاسنگ آؤٹ پریڈ جاری ہے، مہمان خصوصی فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے پاسنگ آؤٹ پریڈ میں بابر کمپنی کو قائد اعظم ایوارڈ سے نوازا۔
پاسنگ آؤٹ پریڈ میں عراق، مالدیپ، یمن، فلسطین سمیت دوست ممالک کے 40 کیڈٹس شریک ہیں، پاس آؤٹ پریڈ میں شریک کیڈٹس نے شاندار مارچ پاسٹ کیا۔
تقریب میں پاک فوج کے سینئر افسران، غیر ملکی سفارتکاروں اور اہم شخصیات کی بڑی تعداد بھی موجود ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: پاسنگ آؤٹ پریڈ
پڑھیں:
روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران کریملن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس یوکرین تنازع کے حل کے لیے مذاکرات پر آمادہ ہے، تاہم یورپی ممالک کی جانب سے کیف حکومت کی مسلسل حوصلہ افزائی کے باعث روس اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔ روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران دیمتری پیسکوف نے کہا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ روسی افواج خصوصی فوجی آپریشن کے دوران مثبت پیش رفت حاصل کر رہی ہیں اور میدانِ جنگ میں صورتحال حوصلہ افزا ہے۔
کریملن کے ترجمان نے بتایا کہ یوکرین کے معاملے پر روس اور امریکا کے درمیان رابطے برقرار ہیں، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ تنازع کے حل کی کوششوں میں کوئی نمایاں پیش رفت یا تیزی آئی ہے۔ دیمتری پیسکوف نے کہا کہ موجودہ ورکنگ چینلز کے ذریعے امریکا کے ساتھ رابطے جاری ہیں اور امید ہے کہ امریکی مذاکرات کار اپنی مصروفیات مکمل ہونے کے بعد ماسکو کا دورہ کریں گے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جا سکے۔
جوہری عدم پھیلاؤ کے حوالے سے روس کے مؤقف پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماسکو جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام کے اصول پر قائم ہے، تاہم ہر ملک کو پُرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس کا مؤقف جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ سے متعلق ہے، جبکہ ایران، سعودی عرب اور دیگر ممالک کو پُرامن جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہے اور اس حق کی ضمانت دی جانی چاہیے۔