WE News:
2026-06-03@03:46:37 GMT

کیا نواز شریف نے اپنا کردار محدود کرلیا؟

اشاعت کی تاریخ: 21st, October 2025 GMT

21 اکتوبر 2023 کو وطن واپسی کے بعد نواز شریف کا نیا سفر جلاوطنی کی تلخیوں سے نکل کر قانونی فتوحات، انتخابی کامیابیوں، اور اتحادی سیاست کی طرف بڑھا ہے لیکن دھاندلی کے الزامات اور معاشی چیلنجز نے اسے متنازع بنایا۔

 پاکستان کی سیاسی تاریخ میں نواز شریف ایک ایسے رہنما ہیں جنہوں نے نشیب و فراز کا سامنا کرتے ہوئے 3 بار وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالا، جلاوطنی کی زندگی گزاری، اور ایک بار پھر واپسی کے ذریعے اپنے سیاسی سفر کو نئی سمت دی۔

یہ بھی پڑھیے: وزیراعظم کی نواز شریف سے ملاقات، پاک افغان مذاکرات پر بریفنگ

2019 میں علاج کی غرض سے لندن روانہ ہونے والے سابق وزیراعظم نواز شریف نے 21 اکتوبر 2023 کو پاکستان واپس آ کر ایک نئی سیاسی اننگ کا آغاز کیا۔

یہ واپسی نہ صرف ان کی ذاتی جدوجہد کی عکاسی کرتی ہے بلکہ پاکستان کی پیچیدہ سیاسی، قانونی اور اداراتی کشمکش کا بھی آئینہ دار ہے۔  نواز شریف کا یہ نیا سفر قانونی بریتوں، انتخابات، اتحادی سیاست، اور علاقائی مسائل کی حل کی کوششوں سے بھرپور رہا ہے۔

21 اکتوبر 2023 وطن واپسی اور قانونی چیلنجز کا آغاز

نواز شریف کی واپسی کو ‘امیدِ پاکستان’کا نام دیا گیا، نواز شریف کی فلائٹ دبئی سے اسلام آباد پہنچی۔ یہ پرواز سعودی عرب سے عمرہ کی ادائیگی کے بعد دبئی کے ذریعے طے پائی، جہاں انہوں نے اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کیں۔ اسلام آباد ایئرپورٹ پر انہیں راہداری ضمانت کی بنیاد پر گرفتاری سے بچایا گیا، جو اسلام آباد ہائی کورٹ نے دی تھی۔

یہ بھی پڑھیے: نواز شریف کا پیپلز پارٹی سے تنازع پر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی حمایت کا اعلان

واپسی کے فوراً بعد، لاہور کے مینارِ پاکستان میں ایک بڑا جلسہ عام منعقد ہوا، جہاں نواز شریف نے اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ‘میرے دل میں انتقام کی رتی بھر بھی خواہش نہیں’، اور وعدہ کیا کہ وہ سب کو ساتھ لے کر چلیں گے۔

یہ جلسہ مسلم لیگ (ن) کی انتخابی مہم کا آغاز ثابت ہوا، جہاں نواز شریف نے عمران خان کی حکومت کے دور کو تنقید کا نشانہ بنایا اور اپنی سابقہ حکومت کی ترقیاتی پالیسیوں کا ذکر کیا۔

تاہم، واپسی کے ساتھ ہی قانونی مقدمات کا سلسلہ شروع ہوا۔ نواز شریف پر العزیزیہ اسٹیل ملز، ایون فیلڈ، اور فلیگ شپ ریفرنسز سمیت متعدد بدعنوانی کے الزامات تھے، جن میں انہیں 2018 میں 7 سال قید کی سزا سنائی جا چکی تھی۔اسلام آباد ہائی کورٹ نے فوری طور پر انہیں بری کر دیا، جسے مسلم لیگ ن نے ‘عدالتی انصاف’ قرار دیا، جبکہ مخالفین نے ‘ڈیل کی سیاست’ کا الزام لگایا۔

وی نیوز سے بات کرتے ہوئے سینیئر تجزیہ نگار سلمان غنی کے مطابق نواز شریف کو 21 اکتوبر کو پاکستان واپس انہیں ان کی پارٹی نے بلایا ،پارٹی ان سے ان کی سیاسی طاقت لینا چاہتی تھی کیونکہ مسلم لیگ ن، میں ن نواز شریف ہیں، حالانکہ ووٹ کو عزت دو کے نعرے کی وجہ سے انہوں نے عمران خان کی حکومت کو دیوار سے لگایا تھا۔

یہ بھی پڑھیے: مریم نواز معافی نہیں مانگیں گی لیکن وزیراعلٰی کے منصب سے بیان بازی کو طول نہ دیا جائے: نواز شریف کی ہدایت

انہوں نے کہا کہ نواز شریف کی مفاہمت کی پالیسی نے انہیں وہاں کھڑا کر دیا جہاں کبھی عمران خان تھا ، 21 اکتوبر کو نواز شریف واپس آتے ہیں اور 23 اکتوبر 2023 کو میری نواز شریف سے ملاقات ہوتی ہے مجھے سے نواز شریف نے پوچھا کہ آپ بار بار کہہ رہے ہیں کہ آنے والی حکومت ایک بندوبست ہوگی جس میں شہباز شریف وزیر اعظم اور آصف زرداری صدر ہوں گے تو میں نے کہا میاں صاحب! میں جس شخص سے بات کر رہا ہوں اس کو سب کچھ پتا ہے، میاں نواز شریف کو اس نئے سیاسی بندوبست کا پہلے سے پتا تھا۔

سلمان غنی نے بتایا کہ نواز شریف اس وقت خاموش ہیں اور انہوں نے اپنے آپ کو جاتی عمرہ تک محدود ضرور کر لیا ہے ، لیکن ان کی نظر زمین حقائق اور اسلام آباد میں بدلتی صورتحال پر بھی ہے ، نواز شریف کے نئے سیاسی سفر  سے نواز شریف اور ان کی جماعت کو دھچکا ضرور لگا ہے، اس دھچکے کا کیا وہ سدباب کر پائیں گے یہ تو وقت ہی بتائے گا، جب ووٹ کو عزت دو کا نعرہ لگایا گیا ،اس نعرے سے جماعت کو بہت  پذرائی ملی  اس وقت مسلم لیگ ن کا ٹکٹ بکتا تھا لیکن جیسے ہی  جماعت اپنے بیانیے  پیچھے ہٹیں اب ٹکٹ لینے کو کوئی تیار نہیں، یہ وہ وجوہات جس پر مسلم لیگ ن کو سوچنا ہوگا۔

پاکستان کو نواز دو

 جنوری 2024انتخابی مہم  ووٹ کو عزت دو کے بعد نیا انتخابی نعرہ لگایا گیا ‘پاکستان کو نواز دو’۔ نواز شریف لاہور سے قومی اسمبلی کی نشست NA-130 پر الیکشن لڑنے کا اعلان کیا، جہاں ان کا مقابلہ پی ٹی آئی کی یاسمین راشد سے تھا۔ مہم کے دوران، نواز شریف نے جی ٹی روڈ کے اضلاع کا دورہ کیا، جہاں مسلم لیگ (ن) کا روایتی ووٹ بینک ہے اور ‘عمران فیکٹر’ کا مقابلہ کرنے کی کوشش کی۔ان کی تقریروں میں معاشی بحالی، انفراسٹرکچر، اور کرپشن کے خاتمے پر زور دیا گیا۔ یہ مہم چار سال کی جلاوطنی کے بعد ن لیگ کی کھوئی ہوئی مقبولیت بحال کرنے کی کوشش تھی۔

مسلم لیگ (ن) کو اکثریت نہ ملی، لیکن پیپلز پارٹی (پی پی پی) اور دیگر اتحادیوں کے ساتھ مل کر شہباز شریف کو وزیراعظم بنایا۔ نواز شریف نے بیک ڈور سے اثر و رسوخ برقرار رکھا، اور مریم نواز پنجاب کی پہلی خاتون وزیراعلیٰ بن گئیں ۔نواز شریف کی واپسی کے ایک سال بعد (اکتوبر 2024) تک ان کی خاموشی نے یہ تاثر دیا کہ وہ اب بیک گراؤنڈ میں کام کر رہے ہیں، حالانکہ ابتدائی طور پر چوتھی بار وزیراعظم بننے کی توقعات تھیں۔

یہ بھی پڑھیے: نواز شریف آئی ٹی سٹی میں ایمپیریل کالج لندن کا کیمپس قائم کرنے کا اعلان

وی نیوز سے بات کرتے ہوئے سنئیر صحافی ماجد نظامی نے بتایا کہ نواز شریف جب پاکستان آئے اور انہیں ائرپورٹ پر ہی بائیو میڑک کی سہولت دے دی گئی حالانکہ وہ عدالتوں نے انہیں اشہتاری قرار دے رکھا تھا ،اسٹلشمنٹ کی اس سہولت کاری کے بعد ووٹ کو عزت دو کا بیانیہ دفن ہوگیا ۔نواز شریف کے اس نئے سیاسی سفر میں انہوں ابھی تک اپنے ووٹر کو جواب نہیں دیا کہ انکا ووٹ کو عزت دو کا بیانیہ کدھر گیا ،نواز شریف اب گوشہ تہنائی میں نصرت بھٹو کی طرح زندگی گزار رہے ہیں ،اپنے بیانیے سے ہٹانے کی وجہ سے جماعت کو سیاسی نقصان اٹھانا پڑا۔

28 مئی 2024 کو نواز شریف نے مسلم لیگ (ن) کی صدارت دوبارہ سنبھالی، جو پہلے شہباز شریف کے پاس تھی۔

16 مارچ 2025 کو، نواز شریف کو لاہور ہیریٹیج ریوائیول اتھارٹی کا پیٹرن ان چیف مقرر کیا گیا، جہاں انہوں نے لاہور کی تاریخی وراثت کی بحالی کا پروگرام شروع کیا۔

اپریل 2025 کو، نیشنل پارٹی (این پی) کے وفد نے لاہور میں نواز شریف سے ملاقات کی، جہاں بلوچستان کیسز، ماہ رنگ بلوچ کی گرفتاریوں، اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کے احتجاج پر بات ہوئی۔ نواز شریف نے وفاقی اثر و رسوخ استعمال کرنے کا وعدہ کیا، اور خواجہ سعد رفیق نے تصدیق کی کہ وہ علاقائی سیاستدانوں سے رابطے کریں گے۔یہ ملاقات بلوچستان بحران کی حل کی کوششوں کا حصہ تھی، لیکن نواز شریف آج تک نہ جاسکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ووٹ کو عزت دو نواز شریف نے نواز شریف کی اسلام آباد مسلم لیگ ن کرتے ہوئے سے ملاقات اکتوبر 2023 واپسی کے انہوں نے شریف کو کو نواز کے بعد

پڑھیں:

واپڈا صارفین کے لیے خوشخبری، جون میں 20 پیسے فی یونٹ ریلیف برقرار

اسلام آباد،بجلی صارفین(awais laghari) کے لیے اچھی خبر سامنے آئی ہے کیونکہ جون 2026 کے دوران صارفین کو فی یونٹ 20 پیسے کا خالص ریلیف ملے گا جبکہ بجلی کی مجموعی قیمتوں میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا۔

حکومتی ذرائع کے مطابق اس ریلیف کے نتیجے میں جون 2026 کے بجلی نرخ جنوری سے مئی 2026 کے مقابلے میں برقرار رہیں گے اور صارفین پر کوئی اضافی مالی بوجھ نہیں پڑے گا۔

پس منظر میں اپریل 2026 کے دوران عالمی توانائی منڈی کو شدید دباؤ کا سامنا رہا۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے باعث آر ایل این جی کی قلت پیدا ہوئی جبکہ برینٹ خام تیل کی قیمت 70 ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔

ماہرین کے مطابق اگر بروقت اقدامات نہ کیے جاتے تو صارفین پر 5 سے 6 روپے فی یونٹ تک اضافی بوجھ پڑ سکتا تھا۔حکومت نے صورتحال سے نمٹنے کے لیے محدود لوڈ مینجمنٹ، مارکیٹوں کی جلد بندش، مقامی گیس کی اضافی فراہمی اور فرنس آئل کے محدود استعمال سمیت متعدد اقدامات کیے۔

، جس کے نتیجے میں فیول ایڈجسٹمنٹ کا اثر صرف 1.73 روپے فی یونٹ تک محدود رہا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان اقدامات سے تقریباً 38 ارب روپے کا ممکنہ اضافی بوجھ صارفین پر منتقل ہونے سے بچ گیا۔

دوسری جانب بہتر انتظامی اصلاحات، لائن لاسز میں کمی، بجلی کی طلب میں اضافے اور مختلف ٹیرف پیکیجز کے مثبت اثرات کے باعث سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ میں 1.93 روپے فی یونٹ کمی ہوئی۔

مزید پڑھیں:وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی

جس سے صارفین کو مجموعی طور پر 65 ارب روپے کا فائدہ پہنچا۔حکومت کا مؤقف ہے کہ توانائی کے شعبے میں بروقت فیصلوں اور مؤثر انتظامی حکمت عملی کے باعث عالمی اور علاقائی چیلنجز کے باوجود بجلی صارفین کو بڑے مالی بوجھ سے محفوظ رکھا گیا۔

متعلقہ مضامین

  • نواز شریف این او سی لے کر گلگت بلتستان گئے، راناثنا
  • گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، نواز شریف
  • ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا: نواز شریف
  • نواز شریف گلگت بلتستان روانہ، انتخابی مہم میں حصہ لیں گے
  • صدرمسلم لیگ (ن) نواز شریف کل گلگت بلتستان کا ایک روزہ دورہ کریں گے
  • نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے
  • واپڈا صارفین کے لیے خوشخبری، جون میں 20 پیسے فی یونٹ ریلیف برقرار
  • گلگت بلتستان سی پیک کا مرکز ہے: نواز شریف
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟
  • حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے