کیا نواز شریف نے اپنا کردار محدود کرلیا؟
اشاعت کی تاریخ: 21st, October 2025 GMT
21 اکتوبر 2023 کو وطن واپسی کے بعد نواز شریف کا نیا سفر جلاوطنی کی تلخیوں سے نکل کر قانونی فتوحات، انتخابی کامیابیوں، اور اتحادی سیاست کی طرف بڑھا ہے لیکن دھاندلی کے الزامات اور معاشی چیلنجز نے اسے متنازع بنایا۔
پاکستان کی سیاسی تاریخ میں نواز شریف ایک ایسے رہنما ہیں جنہوں نے نشیب و فراز کا سامنا کرتے ہوئے 3 بار وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالا، جلاوطنی کی زندگی گزاری، اور ایک بار پھر واپسی کے ذریعے اپنے سیاسی سفر کو نئی سمت دی۔
یہ بھی پڑھیے: وزیراعظم کی نواز شریف سے ملاقات، پاک افغان مذاکرات پر بریفنگ
2019 میں علاج کی غرض سے لندن روانہ ہونے والے سابق وزیراعظم نواز شریف نے 21 اکتوبر 2023 کو پاکستان واپس آ کر ایک نئی سیاسی اننگ کا آغاز کیا۔
یہ واپسی نہ صرف ان کی ذاتی جدوجہد کی عکاسی کرتی ہے بلکہ پاکستان کی پیچیدہ سیاسی، قانونی اور اداراتی کشمکش کا بھی آئینہ دار ہے۔ نواز شریف کا یہ نیا سفر قانونی بریتوں، انتخابات، اتحادی سیاست، اور علاقائی مسائل کی حل کی کوششوں سے بھرپور رہا ہے۔
21 اکتوبر 2023 وطن واپسی اور قانونی چیلنجز کا آغاز
نواز شریف کی واپسی کو ‘امیدِ پاکستان’کا نام دیا گیا، نواز شریف کی فلائٹ دبئی سے اسلام آباد پہنچی۔ یہ پرواز سعودی عرب سے عمرہ کی ادائیگی کے بعد دبئی کے ذریعے طے پائی، جہاں انہوں نے اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کیں۔ اسلام آباد ایئرپورٹ پر انہیں راہداری ضمانت کی بنیاد پر گرفتاری سے بچایا گیا، جو اسلام آباد ہائی کورٹ نے دی تھی۔
یہ بھی پڑھیے: نواز شریف کا پیپلز پارٹی سے تنازع پر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی حمایت کا اعلان
واپسی کے فوراً بعد، لاہور کے مینارِ پاکستان میں ایک بڑا جلسہ عام منعقد ہوا، جہاں نواز شریف نے اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ‘میرے دل میں انتقام کی رتی بھر بھی خواہش نہیں’، اور وعدہ کیا کہ وہ سب کو ساتھ لے کر چلیں گے۔
یہ جلسہ مسلم لیگ (ن) کی انتخابی مہم کا آغاز ثابت ہوا، جہاں نواز شریف نے عمران خان کی حکومت کے دور کو تنقید کا نشانہ بنایا اور اپنی سابقہ حکومت کی ترقیاتی پالیسیوں کا ذکر کیا۔
تاہم، واپسی کے ساتھ ہی قانونی مقدمات کا سلسلہ شروع ہوا۔ نواز شریف پر العزیزیہ اسٹیل ملز، ایون فیلڈ، اور فلیگ شپ ریفرنسز سمیت متعدد بدعنوانی کے الزامات تھے، جن میں انہیں 2018 میں 7 سال قید کی سزا سنائی جا چکی تھی۔اسلام آباد ہائی کورٹ نے فوری طور پر انہیں بری کر دیا، جسے مسلم لیگ ن نے ‘عدالتی انصاف’ قرار دیا، جبکہ مخالفین نے ‘ڈیل کی سیاست’ کا الزام لگایا۔
وی نیوز سے بات کرتے ہوئے سینیئر تجزیہ نگار سلمان غنی کے مطابق نواز شریف کو 21 اکتوبر کو پاکستان واپس انہیں ان کی پارٹی نے بلایا ،پارٹی ان سے ان کی سیاسی طاقت لینا چاہتی تھی کیونکہ مسلم لیگ ن، میں ن نواز شریف ہیں، حالانکہ ووٹ کو عزت دو کے نعرے کی وجہ سے انہوں نے عمران خان کی حکومت کو دیوار سے لگایا تھا۔
یہ بھی پڑھیے: مریم نواز معافی نہیں مانگیں گی لیکن وزیراعلٰی کے منصب سے بیان بازی کو طول نہ دیا جائے: نواز شریف کی ہدایت
انہوں نے کہا کہ نواز شریف کی مفاہمت کی پالیسی نے انہیں وہاں کھڑا کر دیا جہاں کبھی عمران خان تھا ، 21 اکتوبر کو نواز شریف واپس آتے ہیں اور 23 اکتوبر 2023 کو میری نواز شریف سے ملاقات ہوتی ہے مجھے سے نواز شریف نے پوچھا کہ آپ بار بار کہہ رہے ہیں کہ آنے والی حکومت ایک بندوبست ہوگی جس میں شہباز شریف وزیر اعظم اور آصف زرداری صدر ہوں گے تو میں نے کہا میاں صاحب! میں جس شخص سے بات کر رہا ہوں اس کو سب کچھ پتا ہے، میاں نواز شریف کو اس نئے سیاسی بندوبست کا پہلے سے پتا تھا۔
سلمان غنی نے بتایا کہ نواز شریف اس وقت خاموش ہیں اور انہوں نے اپنے آپ کو جاتی عمرہ تک محدود ضرور کر لیا ہے ، لیکن ان کی نظر زمین حقائق اور اسلام آباد میں بدلتی صورتحال پر بھی ہے ، نواز شریف کے نئے سیاسی سفر سے نواز شریف اور ان کی جماعت کو دھچکا ضرور لگا ہے، اس دھچکے کا کیا وہ سدباب کر پائیں گے یہ تو وقت ہی بتائے گا، جب ووٹ کو عزت دو کا نعرہ لگایا گیا ،اس نعرے سے جماعت کو بہت پذرائی ملی اس وقت مسلم لیگ ن کا ٹکٹ بکتا تھا لیکن جیسے ہی جماعت اپنے بیانیے پیچھے ہٹیں اب ٹکٹ لینے کو کوئی تیار نہیں، یہ وہ وجوہات جس پر مسلم لیگ ن کو سوچنا ہوگا۔
پاکستان کو نواز دو
جنوری 2024انتخابی مہم ووٹ کو عزت دو کے بعد نیا انتخابی نعرہ لگایا گیا ‘پاکستان کو نواز دو’۔ نواز شریف لاہور سے قومی اسمبلی کی نشست NA-130 پر الیکشن لڑنے کا اعلان کیا، جہاں ان کا مقابلہ پی ٹی آئی کی یاسمین راشد سے تھا۔ مہم کے دوران، نواز شریف نے جی ٹی روڈ کے اضلاع کا دورہ کیا، جہاں مسلم لیگ (ن) کا روایتی ووٹ بینک ہے اور ‘عمران فیکٹر’ کا مقابلہ کرنے کی کوشش کی۔ان کی تقریروں میں معاشی بحالی، انفراسٹرکچر، اور کرپشن کے خاتمے پر زور دیا گیا۔ یہ مہم چار سال کی جلاوطنی کے بعد ن لیگ کی کھوئی ہوئی مقبولیت بحال کرنے کی کوشش تھی۔
مسلم لیگ (ن) کو اکثریت نہ ملی، لیکن پیپلز پارٹی (پی پی پی) اور دیگر اتحادیوں کے ساتھ مل کر شہباز شریف کو وزیراعظم بنایا۔ نواز شریف نے بیک ڈور سے اثر و رسوخ برقرار رکھا، اور مریم نواز پنجاب کی پہلی خاتون وزیراعلیٰ بن گئیں ۔نواز شریف کی واپسی کے ایک سال بعد (اکتوبر 2024) تک ان کی خاموشی نے یہ تاثر دیا کہ وہ اب بیک گراؤنڈ میں کام کر رہے ہیں، حالانکہ ابتدائی طور پر چوتھی بار وزیراعظم بننے کی توقعات تھیں۔
یہ بھی پڑھیے: نواز شریف آئی ٹی سٹی میں ایمپیریل کالج لندن کا کیمپس قائم کرنے کا اعلان
وی نیوز سے بات کرتے ہوئے سنئیر صحافی ماجد نظامی نے بتایا کہ نواز شریف جب پاکستان آئے اور انہیں ائرپورٹ پر ہی بائیو میڑک کی سہولت دے دی گئی حالانکہ وہ عدالتوں نے انہیں اشہتاری قرار دے رکھا تھا ،اسٹلشمنٹ کی اس سہولت کاری کے بعد ووٹ کو عزت دو کا بیانیہ دفن ہوگیا ۔نواز شریف کے اس نئے سیاسی سفر میں انہوں ابھی تک اپنے ووٹر کو جواب نہیں دیا کہ انکا ووٹ کو عزت دو کا بیانیہ کدھر گیا ،نواز شریف اب گوشہ تہنائی میں نصرت بھٹو کی طرح زندگی گزار رہے ہیں ،اپنے بیانیے سے ہٹانے کی وجہ سے جماعت کو سیاسی نقصان اٹھانا پڑا۔
28 مئی 2024 کو نواز شریف نے مسلم لیگ (ن) کی صدارت دوبارہ سنبھالی، جو پہلے شہباز شریف کے پاس تھی۔
16 مارچ 2025 کو، نواز شریف کو لاہور ہیریٹیج ریوائیول اتھارٹی کا پیٹرن ان چیف مقرر کیا گیا، جہاں انہوں نے لاہور کی تاریخی وراثت کی بحالی کا پروگرام شروع کیا۔
اپریل 2025 کو، نیشنل پارٹی (این پی) کے وفد نے لاہور میں نواز شریف سے ملاقات کی، جہاں بلوچستان کیسز، ماہ رنگ بلوچ کی گرفتاریوں، اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کے احتجاج پر بات ہوئی۔ نواز شریف نے وفاقی اثر و رسوخ استعمال کرنے کا وعدہ کیا، اور خواجہ سعد رفیق نے تصدیق کی کہ وہ علاقائی سیاستدانوں سے رابطے کریں گے۔یہ ملاقات بلوچستان بحران کی حل کی کوششوں کا حصہ تھی، لیکن نواز شریف آج تک نہ جاسکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ووٹ کو عزت دو نواز شریف نے نواز شریف کی اسلام آباد مسلم لیگ ن کرتے ہوئے سے ملاقات اکتوبر 2023 واپسی کے انہوں نے شریف کو کو نواز کے بعد
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔