پاکستانی پرستار کا شبھمن گل سے ہاتھ ملاتے ہوئے ’پاکستان زندہ باد‘ کا نعرہ، ویڈیو وائرل
اشاعت کی تاریخ: 23rd, October 2025 GMT
آسٹریلیا کے شہر ایڈیلیڈ میں انڈین کرکٹ ٹیم کے کپتان شبھمن گل اور ایک پاکستانی مداح کے درمیان دلچسپ ملاقات کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے۔ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ پاکستانی مداح شبھمن گل سے ہاتھ ملانے کے لیے آگے بڑھتا ہے، اور جب انڈین کپتان ان سے مصافحہ کرتے ہیں تو پاکستانی مداح ’پاکستان زندہ باد‘ کا نعرہ لگاتا ہے۔
اس نعرے پر شبھمن گل ابتدا میں حیرت کا اظہار کرتے ہیں مگر پھر وہ آگے بڑھ جاتے ہیں۔ اس واقعے نے سوشل میڈیا پر کافی توجہ حاصل کی، جہاں پاکستانی صارفین اس لمحے سے لطف اندوز ہوئے وہیں بھارتی صارفین اس پر تنقید کرت نظر آتے ہیں۔
A Pakistani fan met Shubman Gill in Adelaide and said, "Pakistan Zindabad.
— Sheri. (@CallMeSheri1_) October 22, 2025
کئی پاکستانی صارفین کا کہنا تھا کہ پاکستان زندہ باد کے نعرے کے ساتھ 6-0 بھی بول دیتے۔ جبکہ کئی صارفین کا کہنا تھا کہ یہ دیکھ کر مجھے حیرت ہو رہی ہے کہ بھارتی لوگ اس پر کیسے ردعمل دیں گے؟ میں نے سنا تھا کہ وہ بھارتی مسلح افواج کے ساتھ یکجہتی کے طور پر مصافحے سے گریز کر رہے ہیں، لیکن انڈین کپتان کا رویہ کچھ اور ہی ظاہر کرتا ہے۔
واضح رہے کہ انڈین کرکٹ ٹیم 3 ون ڈے میچز کی سیریز کھیلنے کے لیے آسٹریلیا میں موجود ہے۔ سیریز کے پہلے میچ میں آسٹریلیا نے انڈیا کو 7 وکٹوں سے شکست دے کر برتری حاصل کر رکھی ہے۔ سیریز کا دوسرا میچ آج کو کھیلا جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
’پاکستان زندہ باد‘ کا نعرہ انڈین کرکٹ ٹیم شبھمن گل
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاکستان زندہ باد کا نعرہ انڈین کرکٹ ٹیم شبھمن گل پاکستان زندہ باد شبھمن گل
پڑھیں:
بحرین میں ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کا نعرہ لگانے پر پابندی عائد
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین میں قیدیوں کے لیے کام کرنیوالی تنظیم نے میڈیا کو بتایا ہے کہ ملک کے سکیورٹی اداروں نے ماہِ محرم کی آمد کے موقع پر مجالس عزا پڑھنے والے خطباء اور مقررین کو وسیع پیمانے پر طلب کر کے نئی پابندیاں عائد کرتے ہوئے شیعہ مذہبی مراسم پر دباؤ میں اضافہ کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بحرینی سکیورٹی اداروں نے محرم الحرام سے قبل متعدد خطباء اور ذاکرین کو طلب کیا ہے اور عزاداری کی مجالس اور مذہبی شعائر کے انعقاد کے لیے کئی نئی پابندیاں نافذ کی ہیں۔ ان پابندیوں میں مجالسِ عزاء کے لیے چالیس منٹ کی وقت کی حد مقرر کرنا، بعض حسینی نعروں خصوصاً ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کے بلند کرنے یا دہرانے پر پابندی لگانا، نیز خطباء کو ظلم و استبداد کے خلاف جدوجہد سے وابستہ تاریخی اور سیاسی شخصیات کا تذکرہ کرنے سے روکنا شامل ہے۔
ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے ان فیصلوں پر تنقید کرتے ہوئے انہیں بحرین کی شیعہ اکثریتی آبادی کے خلاف اختیار کی جانے والی محدودیت پسند پالیسیوں کا حصہ قرار دیا اور کہا کہ یہ اقدامات مذہبی مناسبتوں پر نگرانی اور کنٹرول بڑھانے کے مقصد سے کیے جا رہے ہیں۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ بیان کے مطابق ایسی پالیسیوں کا تسلسل مذہبی شعائر کی آزادانہ ادائیگی اور بحرینی معاشرے کی دینی و ثقافتی شناخت کے تحفظ پر منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔