وفاقی کابینہ کا اجلاس آج ہوگا، ٹی ایل پی پر پابندی کی سفارش پر غور کا امکان
اشاعت کی تاریخ: 23rd, October 2025 GMT
اسلام آباد:
وفاقی کابینہ کا اہم اجلاس آج ہوگا، جس میں ٹی ایل پی پر پابندی کی سفارش پر غور کا امکان ہے۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کا اہم اجلاس آج ہوگا، جس میں تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) پر پابندی سے متعلق کیے گئے فیصلے پر غور کا امکان ہے۔
اہم اجلاس میں وزارت داخلہ کی جانب سے کابینہ کو ٹی ایل پی سے متعلق تفصیلی بریفنگ بھی دی جائے گی۔
وفاقی کابینہ کے وزیراعظم کی صدارت میں ہونے والے اجلاس میں ملک کی اقتصادی اور سیاسی صورت حال پر غور کیا جائے گا۔ اجلاس میں افغانستان کے ساتھ حالیہ سیز فائر معاہدے کے بعد کی صورتحال بھی زیرغور آئے گی۔ اس کے علاوہ وزیر دفاع افغانستان کے ساتھ ہونے والے معاہدے پر بریفنگ دیں گے۔
اجلاس میں ای سی سی، کابینہ کمیٹی قانون سازی کے فیصلوں کی توثیق کیے جانے کا بھی امکان ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: وفاقی کابینہ اجلاس میں ٹی ایل پی
پڑھیں:
شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔
ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔
کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔
ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔
ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔
دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔
قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔