سید مصطفیٰ کمال نے کراچی میں منعقدہ 22ویں ہیلتھ ایشیا نمائش کا افتتاح کردیا
اشاعت کی تاریخ: 23rd, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
وفاقی وزیرِ صحت سید مصطفیٰ کمال نے کراچی میں 22ویں ہیلتھ ایشیا نمائش کا افتتاح کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی معاشی تاریخ کا یہ بڑا دن ہے، جہاں 50 سے زاید ممالک کی کمپنیاں اور ماہرینِ صحت ایک چھت تلے جمع ہیں۔
ہیلتھ ایشیا کا انعقاد ملک میں معاشی انقلاب کی کڑی ہے، حکومت کا آج اپنی انڈسٹریز کے ساتھ تعلق کی پہلے کبھی مثال نہیں ملتی، ہم پاکستان میں فارما ایکسپورٹ کو تیس بلین ڈالر تک لے کر جائیں گے۔
افتتاحی تقریب میں ایران، روس، ترکی، اور عمان کے قونصل جنرلز، چیف ایگزیکٹیو آفیسر ڈریپ (DRAP)، جوائنٹ سیکرٹری ہاسپٹلز, ڈی جی ہیلتھ, اور صدر پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (PMDC) سمیت اہم شخصیات نے شرکت کی۔
وفاقی وزیر نے اس موقع پر صحت کے شعبے میں تعاون اور ترقی کے لیے مختلف اسٹالز کا دورہ بھی کیا۔
وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال نے کہا ہے کہ جنگ نے ہمیں موقع دیا ہے کہ ہم خود ویکسین بنائیں، جنگ کے بعد پڑوسی ملک نے ہمیں ادویات یا ویکسین دینا بند کر دیں تھی، پاکستان جلد وہ وقت دیکھے کا جب ہم تمام ویکسین خود بنائیں گے۔
ڈریپ ادویات اورلائسنس کو مانیٹرکرتا ہے، اپنی ادویات کی ایکسپورٹ کو بڑھانے کی کوشش کریں گے، آئندہ 10 سال میں اسپتالوں کی تعداد بڑھانے پر کام کر رہے ہیں۔
وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ حکومت دو ماہ کے اندر جعلی اور مہنگی ادویات کی فروخت پر 99 فیصد قابو پا لے گی۔صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ادویات کے ڈبوں پر بار کوڈ سسٹم نافذ کیا جا رہا ہے تاکہ ہر دوا کی شناخت ممکن بنائی جا سکے اور عوام کو معیاری ادویات میسر ہوں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ فارما ڈیوائسز کی ایکسپورٹ میں اضافے کے لیے انڈسٹریز کے ساتھ اشتراک کیا جا رہا ہے، جبکہ ڈریپ (DRAP) ادویات اور لائسنس کے معیار کی مانیٹرنگ جاری رکھے ہوئے ہے۔
وزیر صحت نے کہا کہ آئندہ 10 برس میں اسپتالوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ کیا جائے گا تاکہ صحت کی سہولیات عام عوام کی دہلیز تک پہنچ سکیں۔
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے سید مصطفیٰ کمال نے مزید کہا کہ ادویات کے ڈبوں پر بار کوڈ لگا کر مارکیٹ میں فروخت پر کام کر رہے ہیں ۔ فارما ڈیوائسزز کی ایکسپورٹ بڑھانے کیلئے انڈسٹریز کیساتھ کام کیا جا رہا ہے۔
وزیر صحت نے کہا کہ ہاکستان کا ہیلتھ کئیر ڈیپارٹمنٹ نئی جدت کو چھو رہا ہے ، مستقل میں معیشیت کی ہڈی ہیلتھ کا سیکٹر ہو گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: وفاقی وزیر کمال نے کہا کہ نے کہا کیا جا رہا ہے
پڑھیں:
امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔
دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔
دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔
دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔