data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

وفاقی وزیرِ صحت سید مصطفیٰ کمال نے کراچی میں 22ویں ہیلتھ ایشیا نمائش کا افتتاح کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی معاشی تاریخ کا یہ بڑا دن ہے، جہاں 50 سے زاید ممالک کی کمپنیاں اور ماہرینِ صحت ایک چھت تلے جمع ہیں۔

ہیلتھ ایشیا کا انعقاد ملک میں معاشی انقلاب کی کڑی ہے، حکومت کا آج اپنی انڈسٹریز کے ساتھ تعلق کی پہلے کبھی مثال نہیں ملتی، ہم پاکستان میں فارما ایکسپورٹ کو تیس بلین ڈالر تک لے کر جائیں گے۔

افتتاحی تقریب میں ایران، روس، ترکی، اور عمان کے قونصل جنرلز، چیف ایگزیکٹیو آفیسر ڈریپ (DRAP)، جوائنٹ سیکرٹری ہاسپٹلز, ڈی جی ہیلتھ, اور صدر پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (PMDC) سمیت اہم شخصیات نے شرکت کی۔

وفاقی وزیر نے اس موقع پر صحت کے شعبے میں تعاون اور ترقی کے لیے مختلف اسٹالز کا دورہ بھی کیا۔

وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال نے کہا ہے کہ جنگ نے ہمیں موقع دیا ہے کہ ہم خود ویکسین بنائیں، جنگ کے بعد پڑوسی ملک نے ہمیں ادویات یا ویکسین دینا بند کر دیں تھی، پاکستان جلد وہ وقت دیکھے کا جب ہم تمام ویکسین خود بنائیں گے۔

ڈریپ ادویات اورلائسنس کو مانیٹرکرتا ہے، اپنی ادویات کی ایکسپورٹ کو بڑھانے کی کوشش کریں گے، آئندہ 10 سال میں اسپتالوں کی تعداد بڑھانے پر کام کر رہے ہیں۔

وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ حکومت دو ماہ کے اندر جعلی اور مہنگی ادویات کی فروخت پر 99 فیصد قابو پا لے گی۔صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ادویات کے ڈبوں پر بار کوڈ سسٹم نافذ کیا جا رہا ہے تاکہ ہر دوا کی شناخت ممکن بنائی جا سکے اور عوام کو معیاری ادویات میسر ہوں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ فارما ڈیوائسز کی ایکسپورٹ میں اضافے کے لیے انڈسٹریز کے ساتھ اشتراک کیا جا رہا ہے، جبکہ ڈریپ (DRAP) ادویات اور لائسنس کے معیار کی مانیٹرنگ جاری رکھے ہوئے ہے۔

وزیر صحت نے کہا کہ آئندہ 10 برس میں اسپتالوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ کیا جائے گا تاکہ صحت کی سہولیات عام عوام کی دہلیز تک پہنچ سکیں۔

صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے سید مصطفیٰ کمال نے مزید کہا کہ ادویات کے ڈبوں پر بار کوڈ لگا کر مارکیٹ میں فروخت پر کام کر رہے ہیں ۔ فارما ڈیوائسزز کی ایکسپورٹ بڑھانے کیلئے انڈسٹریز کیساتھ کام کیا جا رہا ہے۔

وزیر صحت نے کہا کہ ہاکستان کا ہیلتھ کئیر ڈیپارٹمنٹ نئی جدت کو چھو رہا ہے ، مستقل میں معیشیت کی ہڈی ہیلتھ کا سیکٹر ہو گا۔

منیر عقیل انصاری.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: وفاقی وزیر کمال نے کہا کہ نے کہا کیا جا رہا ہے

پڑھیں:

نیشنل اسپیشل گیمز: کراچی میں  فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد اختتامی تقریب کا انعقاد

اسپیشل اولمپکس پاکستان کے تحت نیشنل اسپیشل گیمز 2026کے دوسرے اور آخری مرحلہ میں کراچی میں  فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد میڈلز تقسیم  اور اختتامی تقریب کاانعقاد ہوا۔

 اسپیشل اولمپکس پاکستان کی روح رواں رونق لاکھانی نے استقبالی کلمات ادا کیے، ان کا کہنا تھاکہ  گیمز میں ملک بھر سے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہونے والے خصوصی کھلاڑیوں نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کر کے ثابت کیا کہ وہ کسی سے کم نہیں۔

رونق لاکھانی نے گیمز کو کامیاب بنانے میں اسپانسرز اور ڈونرز بشمول میکڈونلڈ، پاکستان او ایم آئی اور فیصل بینک کا خصوصی شکریہ ادا کیا،انہوں نے کہا کہ خصوصی افراد کی سرپرستی کرتے ہوئے ان کو بھرپور اعتماد دینا چاہیے تاکہ وہ  معاشرے کا مضبوط انگ بن سکیں۔

مہمان خصوصی راحل اعجاز کا کہنا تھا کہ سماجی ذمہ داری کے تحت ہم مثبت سرگرمیوں کو فروغ دے رہے ہیں، اسپیشل اولمپکس پاکستان کی خصوصی کھلاڑیوں کے لیے کاوشیں قابل قدر ہیں۔

فٹبال ٹورنامنٹ  کے لیے خصوصی طور پر کینیڈا سے آنے والی فیفا فٹبال کوچ کرن غوری نے کہا کہ ایونٹ میں شریک بوائز اور گرلز کھلاڑیوں نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دل جیت لیے اور ثابت کیا کہ ان کی صلاحیتیں کسی سے ہرگز کم نہیں، جیسمین نے خصوصی کھلاڑیوں کی نمائندگی کرتے ہوئے بہترین سہولیات کی فراہمی پر اسپیشل اولمپکس پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔

  فٹبال چیمپئن شپ کے بوائز ایونٹ کی ایک کیٹگری میں فیڈرل ایریاز نے پہلی خیبر پختونخواہ نے دوسری اور سندھ نے تیسری پوزیشن حاصل کی،بی کیٹگری میں گلگت بلتستان فاتح رہا اور گولڈ میڈل اپنے نام کیا جبکہ بلوچستان نے دوسری پوزیشن کے ساتھ سلور اور سندھ نے سوئم رہ کر برانز میڈل حاصل کیا۔

قبل ازیں گیمز میں شریک ٹیموں نے مارچ پاسٹ کیا اور سلامی دی،آخر میں کامیاب ٹیموں اور ان کے کھلاڑیوں میں میڈلز تقسیم کیے گئے،اگلے گیمز پنجاب میں ہوں گے، گیمز  کا مقصد ذہنی معذوری والے کھلاڑیوں کو صلاحیتوں اور کھیل میں مہارت کا مظاہرہ کرنے کے لیے ایک بہترین پلیٹ فارم فراہم کرنا تھا، گیمز کے ذریعہ چلی کے شہر چسینٹیاگو میں ہونے والے  ورلڈ سمر  اسپیشل گیمز  تیاریوں کا اہم حصہ ہے۔

 نیشنل گیمز کے بعد کھلاڑی سلیکشن کیمپوں میں شرکت کریں گے، جہاں سے 85 کھلاڑیوں کا انتخاب 10 کھیلوں کے لیے کیا جائے گا جو 15 سے 23 اکتوبر 2027 تک سانتیاگو (چلی) میں پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔، خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے  ذہنی معذوری کا شکار 82 کھلاڑیوں نے شرکت کی۔

نیشنل گیمز کے بعد کھلاڑی سلیکشن کیمپوں میں شرکت کریں گے جہاں سے 85 کھلاڑیوں کا انتخاب 10 کھیلوں کے لیے کیا جائے گا جو 15 سے 23 اکتوبر 2027 تک سانتیاگو (چلی) میں پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔

متعلقہ مضامین

  • ازبکستان میں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو نے سفارتی اسناد ازبک وزیر خارجہ کو پیش کردیں
  • کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
  • نیشنل اسپیشل گیمز: کراچی میں  فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد اختتامی تقریب کا انعقاد
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ