بند کمروں کے فیصلے قبول نہیں، عوام مزید قربانیاں نہیں دیں گے، وزیراعلی خیبر پختونخوا
اشاعت کی تاریخ: 25th, October 2025 GMT
بند کمروں کے فیصلے قبول نہیں، عوام مزید قربانیاں نہیں دیں گے، وزیراعلی خیبر پختونخوا WhatsAppFacebookTwitter 0 25 October, 2025 سب نیوز
باڑہ (سب نیوز)وزیراعلی خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے قبائلی اضلاع میں ممکنہ فوجی آپریشن پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بند کمروں کے فیصلے قبول نہیں، عوام مزید قربانیاں نہیں دیں گے، صوبائی اسمبلی میں بھی امن جرگہ بلا کر دہشتگردی کے خلاف نئی حکمتِ عملی طے کی جائے گی۔خیبر کے علاقے باڑہ میں امن جرگے سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلی سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ ہم امن میں ریاست پاکستان کا ساتھ دینگے اور اس کے لیے سیکیورٹی فورسز کے شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے۔
لیکن ہم کولیٹرل ڈیمجز جیسے ناسور کا ساتھ بالکل نہیں دینگے۔ اس بار کسی بھی معصوم شہری کی جان نہیں جائے گی۔ شہری کی جان جانے پر حساب کتاب ہوگا۔سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ ہمیں ہمارے حقوق دیئے جائیں ہمیں سکینڈ ہینڈ گاڑیاں نہیں چاہییں۔ انھوں نے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ خیبرپختونخوا کے ضم قبائلی اضلاع کے ساڑھے پانچ سو ارب روپے اور این ایف سی ایوارڈ کی مد میں ساڑھے تین سو ارب روپے فوری طور پر دیئے جائیں۔جرگے سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلی خیبر پختونخوا نے کہا ہے کہ نیٹ ہائیڈل پرافیٹ کی مد میں 22 سو اراب روپے سے زائد واجبات ہیں وہ فوری طور پر ادا کیا جائے۔سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ ضم قبائلی اضلاع کے حوالے سے جو بھی فیصلہ سازی ہوگی اس میں صوبائی حکومت، قبائلی عمائدین اور پارلیمنٹرین شامل ہونگے۔ ہمیں بند کمروں کے فیصلے منظور نہیں۔
انھوں نے کہا ہے کہ ایک بار پھر ملٹری آپریشن کی تیاری ہو رہی ہے ہم اس آپریشن کی اجازت نہیں دینگے۔ماضی میں بدامنی کی وجہ سے صوبے کے 80 ہزار عوام نے قربانی دی، پولیس، سی ٹی ڈی ، نیوی فورسز نے قربانیاں دی اس کے بعد یہاں پر امن بحال ہوا۔وزیراعلی خیبر پختونخوا نے یہ بھی کہا ہے کہ ہم امن کے ساتھ ترقی بھی چاہتے ہیں۔ قبائلی اضلاع کو صوبے میں ضم ہونے کے وقت سالانہ سو ارب روپے دینے کا وعدہ کیا تھا جس کو وفاقی حکومت نے ابھی تک پورا نہیں کیا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرگزشتہ 20ماہ میں صدر مملکت نے 3اور وزیراعظم نے 34غیرملکی دورے کیے گزشتہ 20ماہ میں صدر مملکت نے 3اور وزیراعظم نے 34غیرملکی دورے کیے سپریم کورٹ نے گھریلو تشدد اور عورت کو نکاح ختم کرنے کے حق سے متعلق اہم فیصلہ جاری کردیا پولیس لائنز ہیڈکوارٹرز میں ایس پی عدیل اکبر مرحوم کے ایصالِ ثواب کے لیے قرآن خوانی اور خصوصی دعا پنجاب کے سیلاب متاثرہ 27اضلاع کی 72تحصیلیں آفت زدہ قرار،نوٹیفکیشن جاری ایس پی اسلام آباد کی پراسرارموت، متوفی عدیل اکبر کے آپریٹر کا بیان ریکارڈ کرلیا گیا، اہم انکشافات حکومت کا گندم خریداری کا منصوبہ تیار ، 6 اعشاریہ25ملین میٹرک ٹن گندم خریدی جائیگیCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: وزیراعلی خیبر پختونخوا بند کمروں کے فیصلے سہیل آفریدی نے قبائلی اضلاع نے کہا ہے کہ
پڑھیں:
نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ
لاہور ہائی کورٹ---فائل فوٹولاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ باپ نابالغ بچے کے مستقبل کے نان نفقے کا حق کسی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے ختم نہیں کر سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے درخواست پر تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
عدالت نے معاہدے کی بنیاد پر بچے کا نان نفقہ ختم کرنے سے متعلق باپ کی اپیل خارج کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ، فیملی کورٹ اور اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے ہیں۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ درخواست گزار کے مطابق بورڈنگ کارڈ جاری ہونے کے بعد اچانک آف لوڈ کیا گیا اور صرف اس خدشے پر سفر سے روکا گیا کہ شاید دبئی سے واپس نہ آئے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق فریقین کی شادی 2002ء میں ہوئی تھی جبکہ 2005ء میں طلاق ہو گئی، طلاق کے بعد خاندان کے بڑوں نے دونوں فریقین کے درمیان ایک معاہدہ کروایا جس کے تحت شوہر بچے کے نان نفقے کے حوالے سے 60 ہزار روپے ادا کرے گا۔
عدالتی حکم نامے کے مطابق خاتون نے 2019ء میں بچے کے نان نفقے کا دعویٰ دائر کیا جس پر درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ معاہدے کے باوجود دعویٰ دائر کرنا غیر قانونی ہے تاہم عدالت نے قرار دیا کہ مالی تنگی بھی باپ کی نان نفقے کی ذمے داری ختم نہیں کر سکتی اور نابالغ بچے کا نان نفقہ باپ پر مستقل جاری رہنے والا فریضہ ہے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کسی نجی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے نابالغ بچے کا نان نفقے کا حق ختم نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت نے واضح کیا ہے کہ نان نفقہ باپ پر صرف قانونی ہی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمے داری بھی ہے جبکہ غیر ادا شدہ نان نفقہ باپ پر قابلِ نفاذ قرض ہے جو ختم نہیں ہو سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ نے باپ کی درخواست خارج کرتے ہوئے فیصلے کی کاپی لاء اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارتِ قانون و انصاف کو بھی بھیجنے کا حکم دیا ہے۔