data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی میں گرد وغبار، دھوئیں اور زہریلے ذرات کے ساتھ لوگ زندگی بسر کررہے ہیں۔ ائر کوالٹی انڈیکس کے مطابق کراچی کا فضائی معیار ’’انتہائی مضر ِ صحت‘‘ درجے پر پہنچ چکا ہے، اور شہر دنیا کے آلودہ ترین شہروں کی فہرست میں تیسرے نمبر پر ہے۔ کراچی کی فضا میں آلودگی 260 پرٹیکیولیٹ میٹر تک پہنچ گئی ہے، جو عالمی معیار کے لحاظ سے ’’شدید آلودہ‘‘ درجہ تصور کیا جاتا ہے۔ سادہ زبان میں کہا جائے تو یہ فضا ہر سانس کے ساتھ زہر بن چکی ہے۔ ایسے ماحول میں سانس لینے والے شہری دل، پھیپھڑوں اور دماغی امراض کے خطرات سے دوچار ہیں، خاص طور پر بچے، بزرگ اور وہ افراد جو پہلے ہی کسی بیماری کا شکار ہیں۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ یہ صورتِ حال کوئی اچانک پیدا ہونے والا بحران نہیں۔ گزشتہ کئی برسوں سے ماہرین ماحولیات، شہری تنظیمیں اور میڈیا مسلسل خبردار کرتے آرہے ہیں کہ کراچی تیزی سے ماحولیاتی تباہی کی طرف بڑھ رہا ہے۔ لیکن حکومت اور شہری انتظامیہ کی بے حسی اور ناقص پالیسیوں نے اس بحران کو اس حد تک پہنچا دیا ہے کہ اب شہریوں کے لیے صاف ہوا بھی ایک مشکل ہو گئی ہے۔ کراچی میں آلودگی کے بڑے اسباب سب کے سامنے ہیں: سڑکوں پر بے ہنگم ٹریفک، پرانی اور دھواں چھوڑتی گاڑیاں، غیر منظم صنعتی اخراج، کچرا جلانے کا کلچر، تعمیراتی سرگرمیوں میں احتیاطی اصولوں کی خلاف ورزی اور سب سے بڑھ کر درختوں کی کٹائی۔ شہر کا سبزہ تیزی سے ختم ہوتا جارہا ہے، اور اس کے بدلے کنکریٹ کے جنگل اْگائے جا رہے ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ کراچی کی فضا گرد، زہریلے ذرات اور نائٹروجن ڈائی آکسائیڈ جیسے خطرناک مادوں سے بھری ہوئی ہے۔ اس کے باوجود حکومتی اقدامات صرف بیانات اور وقتی مہمات تک محدود ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ فضائی آلودگی کو قومی سلامتی کے مسئلے کے طور پر دیکھا جائے۔ شہر میں صاف توانائی کے ذرائع کو فروغ دیا جائے، صنعتی اخراج کے لیے سخت قوانین نافذ کیے جائیں، اور درختوں کی بڑے پیمانے پر شجرکاری مہم شروع کی جائے۔ اسکولوں اور یونیورسٹیوں میں ماحولیاتی تعلیم کو نصاب کا حصہ بنایا جائے تاکہ نئی نسل فضا کی اہمیت کو سمجھے اور اس کے تحفظ میں کردار ادا کرے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رکن قومی اسمبلی نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہا ہے کہ پاکستان کے خلاف ایک خاموش جنگ لڑی جا رہی ہے جو بارود سے زیادہ نوجوانوں کے ذہنوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
صوبائی وزرا علی مدد جتک اور عاصم کرد گیلو کے ہمراہ کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ دشمن پاکستان اور بلوچستان کو توڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ 2018 میں بشیر زیب نے جب ایک کالعدم تنظیم کی کمان سنبھالی تو حالات مزید خراب ہوئے، جبکہ جنید بشیر زیب کا رائٹ ہینڈ ہے۔
انہوں نے کہاکہ آج کی جنگ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر لڑی جا رہی ہے اور کالعدم تنظیموں کے کارندے زنگی ایپ کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کالعدم تنظیمیں سنگل ایپ کے ذریعے آپریشنل منصوبہ بندی جبکہ ڈیلٹا چیٹ کے ذریعے خفیہ بھرتیاں کرتی ہیں۔
نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ آج دشمن صرف گولی کا استعمال نہیں کر رہا بلکہ سوشل میڈیا پر ٹرینڈز چلا کر بھی اپنا ایجنڈا آگے بڑھا رہا ہے۔ ہم نہیں چاہتے کہ نوجوان پہاڑوں کا رخ کریں۔
انہوں نے دعویٰ کیاکہ کالعدم تنظیموں نے اپنی سرگرمیوں میں خواتین کا استعمال بھی شروع کر دیا ہے۔ شہناز بلوچ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے جلسوں میں شرکت کرتی تھیں اور ان کا باہوٹ کے ذریعے کالعدم تنظیم سے رابطہ ہوا۔
نوابزادہ جمال رئیسانی نے مزید کہاکہ بلوچ یکجہتی کمیٹی بلوچستان کی قیادت ڈاکٹر صبیحہ کر رہی ہیں اور ان کا بھائی ایک کالعدم تنظیم کا حصہ ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے کراچی سیل کی قیادت فوزیہ شاہوانی کررہی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بلوچستان سیاست خاموش جنگ نوابزادہ جمال رئیسانی وی نیوز