فائل فوٹوز

چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ نے مقبوضہ جموں و کشمیر پر بھارتی غاصبانہ قبضے کے خلاف یومِ سیاہ کے موقع پر اپنے پیغامات میں کشمیری عوام سے اظہارِ یکجہتی کیا ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر پر بھارتی غاصبانہ قبضے کا اقدام تاریخِ عالم کا سیاہ باب ہے، 27 اکتوبر کے سیاہ باب کی سیاہی بھارتی قیادت کے چہرے پر نمایاں ہو رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کسی ایک ملک کا نہیں بلکہ اقوامِ عالم کا مسئلہ بن چکا ہے، پاکستان ہمیشہ کشمیری بھائیوں کی اخلاقی اور سفارتی حمایت کرتا رہے گا۔

مریم نواز نے کہا کہ پاکستان نے آپریشن بنیانِ مرصوص میں بھارت کا غرور خاک میں ملا دیا، بھارتی قیادت بنیانِ مرصوص کی شرمندگی کے باعث وزیراعظم شہباز شریف کا سامنا کرنے سے قاصر ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کا وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کو عظیم قرار دینا بھارت کے لیے ایک اور شکست کے مترادف ہے، کشمیر اور پاکستان لازم و ملزوم ہیں، کوئی جدا نہیں کرسکتا۔

انہوں نے کہا کہ ہم کشمیری بھائیوں کے ساتھ ہیں اور ہمیشہ رہیں گے، لاکھوں بے گناہ کشمیریوں کا خون ضرور رنگ لائے گا، مقبوضہ کشمیر میں آزادی کی روشن صبح ضرور طلوع ہوگی۔

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ 27 اکتوبر 1947 کو بھارتی فوج ناپاک عزائم کے ساتھ سرینگر میں داخل ہوئی تھی، جس دن کو آج احتجاج کی علامت کے طور پر منایا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے، ہم اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ ہیں، دنیا کو بھارت کے مظالم پر خاموش نہیں رہنا چاہیے، کشمیر پر بھارتی قبضہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

مراد علی شاہ نے اقوامِ متحدہ سے مطالبہ کیا کہ وہ کشمیری عوام کو حقِ خودارادیت دلائے۔ 

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ 27 اکتوبر 1947ء کو بھارتی فورسز نے جموں و کشمیر پر ناجائز قبضے کا آغاز کیا اور ظلم و جبر کا سلسلہ آج تک جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ آزادی مقبوضہ کشمیر کے عوام کا بنیادی حق ہے، ہم ان کی جدوجہدِ آزادی میں شانہ بشانہ ہیں۔

وزیراعلیٰ نے عالمی انسانی حقوق کے اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ بھارتی مظالم کا نوٹس لیں اور اقوام متحدہ اپنی قراردادوں کے مطابق کشمیریوں کو حقِ خودارادیت دلائے۔

سہیل آفریدی نے کہا کہ خطے کا پائیدار امن مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل سے وابستہ ہے، خیبر پختونخوا کی حکومت اور عوام کشمیری بھائیوں کے ساتھ ہیں، ان کی تحریکِ آزادی کی بھرپور حمایت جاری رکھیں گے۔

وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہا کہ 27 اکتوبر کشمیری عوام پر بھارتی قبضے کی سیاہ یاد دلاتا ہے، یومِ سیاہ کشمیر حقِ خودارادیت کے اُس عہد کی تجدید ہے جو کشمیریوں نے قربانیوں سے نبھایا۔

سرفراز بگٹی نے کہا کہ پاکستان کشمیری عوام کے ساتھ سیاسی، اخلاقی اور سفارتی محاذ پر ہمیشہ کھڑا رہے گا، بھارت کے ظلم و جبر نے وادیِ کشمیر کو قیدخانے میں بدل دیا ہے، عالمی ضمیر کو جاگنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور کشمیری عوام ہماری قومی غیرت و احساس کا حصہ ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ کشمیری بھائیوں کشمیری عوام پر بھارتی کے ساتھ

پڑھیں:

اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی

پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب ملکر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کیساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔ اسلام ٹائمز۔ لداخ کی سیاسی جماعتوں کی جانب سے یکجا طور حکومتِ ہند کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی پیشرفت سے حوصلہ پا کر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو خطوط لکھ کر جموں و کشمیر کے حقوق اور وقار کی بحالی کے لئے متحد ہونے کی اپیل کی ہے۔ اپنے خط میں سابق وزیراعلٰی محبوبہ مفتی نے عمر عبداللہ کو لکھا کہ "لیہہ ایپکس باڈی" اور "کرگل ڈیموکریٹک الائنس" کی جانب سے مرکز کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی حالیہ کامیابیاں ایک اہم سبق فراہم کرتی ہیں کہ بامعنی نتائج صرف بات چیت کے ذریعے ہی حاصل کئے جا سکتے ہیں۔

محبوبہ مفتی نے خط میں کہا کہ جموں و کشمیر ایک بار پھر اپنی تاریخ کے ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے، جہاں مایوسی اور بددلی کا احساس عوام پر غالب ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال سے نکلنے کے لئے سیاسی اور جماعتی اختلافات سے بالاتر ہو کر وسیع اتفاق رائے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر عوام کے وقار اور تحفظ کو بحال کرنا ہے تو حکومت ہند کے ساتھ تعمیری مذاکرات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب مل کر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔

جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کے علاوہ محبوبہ مفتی نے بی جے پی کے قائد حزب اختلاف سنیل شرما، جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر طارق حمید قرہ، سی پی آئی (ایم) رہنما ایم وائی تاریگامی، پیپلز کانفرنس کے چیئرمین سجاد غنی لون، رکن پارلیمان انجینئر رشید، عام آدمی پارٹی کے صدر معراج ملک، پی ڈی ایف کے چیئرمین حکیم محمد یاسین، جموں و کشمیر نیشنل پینتھرس پارٹی کے صدر ہرش دیو سنگھ، شیو سینا (جموں و کشمیر یونٹ) کے صدر منیش ساہنی، کشمیری پنڈت سنگھرش سمیتی کے صدر سنجے ٹکو اور گوردوارہ پربندھک کمیٹی کے چیئرمین جسپال سنگھ کو بھی خطوط ارسال کیے ہیں۔

انہوں نے تمام رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ وزیراعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے مشترکہ اور منظم انداز میں رابطہ قائم کرنے کے لئے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوں۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ ہمیں اپنے اختلافات اور متضاد خیالات کو ایک طرف رکھ کر عوامی مفاد اور اجتماعی فلاح کے لئے متحد ہونا ہوگا۔ یہ سیاسی کریڈٹ لینے یا ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کا معاملہ نہیں بننا چاہیئے بلکہ ان لوگوں کے وسیع تر مفاد میں اتحاد کا موقع ہونا چاہیئے جن کی نمائندگی کا ہم سب دعویٰ کرتے ہیں۔ علاقائی جماعتوں کے درمیان اختلافات اور کشیدگی نے ہمیشہ جموں و کشمیر کے اجتماعی مفادات کو نقصان پہنچایا ہے، اس لئے خاص طور پر 2019ء کے بعد ایک معقول اتفاق رائے ہی واحد راستہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر لداخ ایسا کر سکتا ہے تو ہم بھی کر سکتے ہیں۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے اپیل کی کہ وہ ایک کل جماعتی اجلاس طلب کریں تاکہ مرکز کے ساتھ رابطے کے عمل کا آغاز کیا جا سکے۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ اس سیاسی پلیٹ فارم کی کامیابی کے لئے عمر عبداللہ کی حمایت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ غیر معمولی اور مشکل حالات میں حقیقی اتحاد ہی عوام کے ان حقوق اور وقار کی بحالی کی راہ ہموار کر سکتا ہے جن کی ضمانت بھارتی آئین دیتا ہے۔ محبوبہ مفتی کا یہ خط ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند دن قبل لیہہ ایپکس باڈی اور کرگل ڈیموکریٹک الائنس نے دعویٰ کیا تھا کہ حکومتِ ہند کے ساتھ ان کے مذاکرات میں اہم پیشرفت ہوئی ہے۔

یہ مذاکرات آرٹیکل 371 کے تحت چھٹے شیڈول کا درجہ اور قانون ساز اسمبلی کے مطالبات سے متعلق تھے۔ اگست 2019ء میں سابق ریاست جموں و کشمیر کی تقسیم کے بعد لداخ میں یہ سیاسی اتحاد سامنے آیا تھا۔ پی ڈی پی، نیشنل کانفرنس، پیپلز کانفرنس اور دیگر علاقائی جماعتوں نے 5 اگست 2019ء کو آرٹیکل 370 کی منسوخی سے دو روز قبل پیپلز الائنس فار گپکار ڈیکلریشن (PAGD) قائم کیا تھا۔ تاہم نومبر اور دسمبر 2020ء میں مرکز کی جانب سے ضلع ترقیاتی کونسل (DDC) انتخابات کے انعقاد کے بعد اس اتحاد میں اختلافات نمایاں ہونے لگے۔

متعلقہ مضامین

  • سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم، پاکستانی اعلیٰ سطحی وفد شرکت کریگا
  • ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • میرپور آزاد کشمیر ، مری ، کھاریاں سمیت ملک کے کئی علاقوں میں تیز ہواؤں کیساتھ بارش
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • صدر زرداری کی اٹلی کے صدر ور عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد