امریکی بحریہ کا ہیلی کاپٹر اور جنگی طیارہ جنوبی بحیرہ چین میں گر کر تباہ
اشاعت کی تاریخ: 27th, October 2025 GMT
جنوبی بحیرہ چین میں امریکی بحریہ کے دو طیارے، ایک ہیلی کاپٹر اور ایک لڑاکا جہاز، دو مختلف حادثات میں تباہ ہوگئے، تاہم تمام اہلکاروں کو بحفاظت نکال لیا گیا۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق، پہلا حادثہ اس وقت پیش آیا جب ایم ایچ-60 آر سی ہاک ہیلی کاپٹر طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس نیمٹز سے معمول کی پرواز کے دوران سمندر میں گر گیا۔ امریکی بحریہ کے بحرالکاہل بیڑے کے مطابق، ہیلی کاپٹر میں موجود تینوں اہلکاروں کو سرچ اینڈ ریسکیو ٹیموں نے محفوظ طریقے سے بچا لیا۔
تقریباً آدھے گھنٹے بعد، اسی بحری جہاز سے اڑنے والا ایف/اے-18 ایف سپر ہارنیٹ لڑاکا طیارہ بھی معمول کی کارروائی کے دوران حادثے کا شکار ہو کر جنوبی بحیرہ چین میں گر گیا۔طیارے میں سوار دونوں اہلکاروں نے وقت پر خود کو نکال لیا اور انہیں بھی ریسکیو کر لیا گیا۔
امریکی بحریہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ تمام اہلکار محفوظ اور مستحکم حالت میں ہیں، جبکہ دونوں حادثات کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔
یہ واقعات ایسے وقت پیش آئے ہیں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے دوسرے دورِ صدارت کے دوران پہلی مرتبہ ایشیا کے دورے پر ہیں، اور وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ بھی جلد کئی ایشیائی ممالک کے دورے پر روانہ ہونے والے ہیں۔
رواں سال اس سے قبل بھی امریکی بحریہ کے طیارہ بردار جہاز ہیری ایس ٹرومین سے دو جنگی طیارے مشرقِ وسطیٰ میں گر کر تباہ ہو چکے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: امریکی بحریہ کے ہیلی کاپٹر
پڑھیں:
ایران کا قشم جزیرہ امریکی فوج کے نشانے پر کیوں ہے؟
خلیج فارس میں واقع ایران کا قشم جزیرہ، جو کبھی آزاد تجارتی زون اور سیاحتی مرکز کے طور پر جانا جاتا تھا، اب خطے میں ایران کی اہم ترین عسکری تنصیبات میں شمار ہوتا ہے۔ آبنائے ہرمز کے دہانے پر واقع یہ جزیرہ اپنی جغرافیائی اہمیت، زیرِ زمین فوجی نیٹ ورکس اور میزائل تنصیبات کے باعث امریکی فوج کی توجہ کا مرکز بن چکا ہے۔ ماہرین کے مطابق قشم جزیرہ نہ صرف ایران کی دفاعی حکمتِ عملی کا کلیدی حصہ ہے بلکہ عالمی توانائی کی ترسیل پر اثرانداز ہونے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔
تقریباً 1,445 مربع کلومیٹر رقبے پر پھیلا قشم خلیج فارس کا سب سے بڑا جزیرہ ہے اور دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہ، آبنائے ہرمز، کے داخلی راستے پر واقع ہے۔ یہی محلِ وقوع اسے ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی میں غیر معمولی اہمیت دیتا ہے۔
جزیرے کی منفرد جغرافیائی ساخت اور مضبوط دفاعی انفراسٹرکچر اسے امریکی فوج کے لیے ایک اہم ہدف بناتے ہیں۔
زیرِ زمین عسکری نیٹ ورکقشم جزیرے کو ایران کے لیے ایک ایسے ’ناقابلِ غرق طیارہ بردار بحری جہاز‘ کے طور پر دیکھا جاتا ہے جو مستقل طور پر خلیجی پانیوں میں موجود ہے۔ جزیرے کے نیچے پھیلے ہوئے سرنگی نظام اور پیچیدہ نمکانی غاروں میں ساحلی دفاعی میزائل تنصیبات اور تیز رفتار جنگی کشتیوں کے اڈے قائم کیے گئے ہیں۔
ان خفیہ تنصیبات کے باعث ایران اپنی عسکری صلاحیتوں کو فضائی یا بحری حملوں سے محفوظ رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔
زیرِ زمین ’میزائل سٹیز‘ایران نے قشم جزیرے کے اندر ساحلی جنگی حکمتِ عملی کے لیے خصوصی میزائل تنصیبات قائم کر رکھی ہیں، جنہیں عموماً ’میزائل سٹیز‘ کہا جاتا ہے۔
ان کا بنیادی مقصد آبنائے ہرمز سے گزرنے والی بین الاقوامی بحری آمدورفت پر نظر رکھنا اور ضرورت پڑنے پر اسے محدود یا معطل کرنے کی صلاحیت برقرار رکھنا ہے۔
عالمی توانائی کی گزرگاہ پر اثر و رسوخآبنائے ہرمز دنیا میں تیل اور گیس کی ترسیل کا ایک اہم ترین راستہ سمجھی جاتی ہے۔ ماضی میں ایران قشم جزیرے کو استعمال کرتے ہوئے اس آبی گزرگاہ سے گزرنے والے بعض تیل بردار اور گیس بردار جہازوں کی نقل و حرکت محدود یا متاثر کرنے کی صلاحیت کا مظاہرہ کر چکا ہے۔
اسی وجہ سے امریکی فوج قشم کو جاری توانائی اور بحری سلامتی کی کشمکش کا مرکزی اعصابی مرکز تصور کرتی ہے۔ واشنگٹن کے نزدیک اگر ایران اس جزیرے کے ذریعے آبنائے ہرمز میں رکاوٹ پیدا کرتا ہے تو اس کے اثرات عالمی توانائی منڈیوں تک پہنچ سکتے ہیں۔
ایران امریکا کشیدگی کا اگلا محاذقشم جزیرہ حالیہ برسوں میں ایران اور امریکا کے درمیان فوجی کشیدگی کا ایک اہم مرکز بھی بن گیا ہے۔
ماضی میں جب ایران نے خطے میں امریکی تنصیبات یا مفادات کو نشانہ بنایا تو امریکی فوج نے جواباً قشم جزیرے پر موجود پاسدارانِ انقلاب کی پوزیشنوں اور مواصلاتی ڈھانچے پر محدود نوعیت کے حملے کیے۔
امریکی مؤقف کے مطابق ایسی کارروائیوں کا مقصد ایران کی اس صلاحیت کو کمزور کرنا ہوتا ہے جس کے ذریعے وہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کو متاثر یا معطل کر سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ قشم جزیرہ اپنی جغرافیائی اہمیت، عسکری تنصیبات اور آبنائے ہرمز پر اثرانداز ہونے کی صلاحیت کے باعث مستقبل میں بھی ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کا ایک اہم مرکز بنا رہ سکتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ایران کا قشم جزیرہ