ایف بی آر کیلئے خطرے کی گھنٹی، انکم ٹیکس جمع کرانے والوں میں 10 لاکھ نے آمدن صفر ظاہر کی
اشاعت کی تاریخ: 28th, October 2025 GMT
فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو اب تک 55 لاکھ انکم ٹیکس ریٹرن موصول ہو چکے ہیں، جن میں سے تقریباً 33 فیصد ریٹرنز میں آمدن صفر یا برائے نام ظاہر کی گئی ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ ایف بی آر کو معلوم ہوا ہے کہ تقریباً 10 لاکھ ٹیکس دہندگان نے رواں مالی سال میں گزشتہ سال کے مقابلے میں کم آمدن ظاہر کی ہے۔اس صورتحال نے ایف بی آر کے اندر خطرے کی گھنٹیاں بجا دی ہیں، اور اب ادارہ ٹیکس چوری کی نشاندہی کے لیے بڑے پیمانے پر آڈٹ پلان تیار کر رہا ہے۔ذرائع نےبتایا کہ"ہم نے 9 لاکھ 77 ہزار ریٹرنز کی نشاندہی کی ہے جن میں پچھلے مالی سال کے مقابلے میں کم آمدن ظاہر کی گئی۔ بعض برآمد کنندگان نے اپنی ریٹرنز میں نقصان ظاہر کیا ہے۔ ایف بی آر نے فیصلہ کیا ہے کہ 31 اکتوبر 2025 کی آخری تاریخ گزرنے کے بعد ان ٹیکس دہندگان کو نوٹس بھیجے جائیں گے تاکہ وہ اپنی ریٹرنز دوبارہ جمع کرائیں، بصورتِ دیگر قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔"اب تک ایف بی آر کو 55 لاکھ ریٹرنز موصول ہوئے ہیں، جن میں سے 17 لاکھ سے زائد میں صفر یا برائے نام آمدن ظاہر کی گئی ہے۔ تاہم، حکام کا کہنا ہے کہ ان ریٹرنز سے بھی اہم معلومات حاصل ہوئی ہیں جنہیں ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے کے لیے استعمال کیا جائے گا تاکہ ان ڈیٹا کو قابلِ ٹیکس آمدن میں تبدیل کیا جا سکے۔ذرائع کے مطابق، ایف بی آر نے ریٹرن فائلرز کو تین پیغامات بھیجے جن میں سے ایک میں یاد دہانی کرائی گئی کہ وہ اپنی ریٹرنز بروقت جمع کرائیں۔ 31 اکتوبر کی آخری تاریخ کے بعد ایف بی آر اُن تمام ٹیکس دہندگان کو ایک "نوٹس نما پیغام" بھیجے گا جنہوں نے پچھلے سال کے مقابلے میں کم آمدن ظاہر کی۔ادارے نے اس مقصد کے لیے 2000 آڈیٹرز کی خدمات حاصل کر لی ہیں، تاکہ موجودہ مالی سال کے لیے مؤثر آڈٹ کیا جا سکے۔جب چیئرمین ایف بی آر راشد محمود لنگڑیال سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ ایف بی آر نے 8 لاکھ 53 ہزار ریٹرن فائلرز کو پیغامات بھیجے، جن میں انہیں آگاہ کیا گیا کہ ٹیکس مشینری کے پاس ان کے مالی لین دین اور دیگر تفصیلات کا مکمل ڈیٹا موجود ہے۔انہوں نے مزید کہاکہ"ہم نے ان پیغامات میں ایک اندازاً آمدن بھی ظاہر کی ہے اور ٹیکس دہندگان کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنی ریٹرنز احتیاط سے جمع کرائیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: ٹیکس دہندگان ا مدن ظاہر کی اپنی ریٹرنز ایف بی ا ر سال کے کے لیے
پڑھیں:
سونے کی قیمت میں اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے ہوگیا
کراچی: پاکستان میں سونے کی قیمت میں اضافہ مسلسل دوسرے روز بھی جاری رہا، جس کے بعد مقامی صرافہ بازاروں میں فی تولہ سونا 4 ہزار 600 روپے مہنگا ہو گیا۔
آل پاکستان صرافہ جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق اضافے کے بعد 24 قیراط فی تولہ سونے کی نئی قیمت 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے مقرر کی گئی ہے۔
ایسوسی ایشن کے مطابق 10 گرام سونے کی قیمت میں بھی 3 ہزار 944 روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد نئی قیمت 3 لاکھ 71 ہزار 944 روپے ہو گئی۔
دوسری جانب چاندی کی قیمت میں بھی معمولی اضافہ دیکھا گیا۔ فی تولہ چاندی 7 روپے اضافے کے بعد 6 ہزار 403 روپے جبکہ 10 گرام چاندی 6 روپے مہنگی ہو کر 5 ہزار 489 روپے کی سطح پر پہنچ گئی۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز بھی سونے کی قیمت میں نمایاں اضافہ ہوا تھا، جب فی تولہ سونا 4 ہزار 700 روپے مہنگا ہو کر 4 لاکھ 29 ہزار 236 روپے تک پہنچ گیا تھا، جبکہ 10 گرام سونے کی قیمت 4 ہزار 29 روپے اضافے کے بعد 3 لاکھ 68 ہزار روپے ہوگئی تھی۔
عالمی مارکیٹ میں بھی قیمتی دھاتوں کے نرخ بڑھنے کا رجحان برقرار ہے۔ بین الاقوامی مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت 46 ڈالر اضافے کے بعد 4 ہزار 114 ڈالر ریکارڈ کی گئی، جبکہ چاندی کی عالمی قیمت 0.07 ڈالر اضافے سے 59.24 ڈالر فی اونس تک پہنچ گئی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی منڈی میں سونے کی قیمتوں میں اضافے، امریکی ڈالر کی نقل و حرکت، شرح سود اور جغرافیائی کشیدگی جیسے عوامل مقامی مارکیٹ پر بھی براہِ راست اثر انداز ہوتے ہیں، جس کے باعث پاکستان میں سونے کی قیمتوں میں مسلسل اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے۔