ویمنز ورلڈکپ اختتامی مراحل میں داخل، پہلا سیمی فائنل آج ہوگا
اشاعت کی تاریخ: 29th, October 2025 GMT
آئی سی سی ویمنز ون ڈے ورلڈکپ سیمی فائنل مرحلے میں داخل ہوگیا۔
تفصیلات کے مطابق آئی سی سی ویمنز کرکٹ ورلڈ کپ کے پہلے سیمی فائنل میں آج انگلینڈ اور جنوبی افریقا کی ٹیمیں مدمقابل آئیں گی۔
Only one spot up for grabs in the #CWC25 Final ????
Don't miss it live! Broadcast details here ???? https://t.co/7wsR28PFHI pic.
— ICC (@ICC) October 29, 2025
انگلش ٹیم کو میگا ایونٹ کے گروپ مرحلے میں صرف ایک میچ میں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
جنوبی افریقا کی جانب سے لورا وولوارٹ 301 رنز کے ساتھ نمایاں ہیں تاہم ٹیم کی کارکردگی ملی جلی رہی۔
یاد رہے کہ جنوبی افریقی ٹیم گروپ مرحلے میں انگلینڈ کے خلاف 69 رنز پر ڈھیر ہوگئی تھی اور انگلینڈ نے میچ باآسانی 10 وکٹوں سے جیت لیا تھا۔
ایونٹ کا دوسرا سیمی فائنل جمعرات کو دفاعی چیمپئن آسٹریلیا اور میزبان بھارت کے درمیان کھیلا جائے گا۔
آسٹریلیا نے ایونٹ میں ناقابل شکست رہتے ہوئے اس مرحلے میں رسائی حاصل کی ہے۔
7 مرتبہ کی چیمپئن آسٹریلوی ٹیم گروپ مرحلے میں اپنی 6 کامیابیوں اور ایک میچ بارش سے منسوخ ہونے کے بعد واضح طور پر فیورٹ ہے۔
بھارت سے سیمی فائنل ممبئی کے ڈی وائی پٹیل اسٹیڈیم میں کھیلا جائے گا۔
ایونٹ کا فیصلہ کن ٹاکرا اتوار کو ممبئی کے ڈی وائی پٹیل اسٹیڈیم میں ہی ہونا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: سیمی فائنل مرحلے میں
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔