data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

برصغیر کی تقسیم ِ ہند 1947ء کے دوران جہاں آزادی کا سورج طلوع ہوا، وہیں برصغیر کے کئی خطوں میں انسانی المیے نے جنم لیا۔ ان میں سب سے المناک سانحہ ریاست جموں و کشمیر کے صوبہ جموں میں اکتوبر۔ نومبر 1947ء کے دوران پیش آیا، جسے تاریخ میں ’’جموں قتل ِ عام‘‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ اس المیے میں لاکھوں مسلمان مرد، عورتیں اور بچے ظلم و درندگی کا نشانہ بنے، اور ریاست کی مسلم اکثریت کو منظم منصوبے کے تحت اقلیت میں بدلنے کی کوشش کی گئی۔

تاریخی پس ِ منظر: ریاستی ساخت اور تقسیم ِ ہند کا تناظر؛ ریاست جموں و کشمیر 1846ء میں ’’معاہدہ امرتسر‘‘ کے تحت وجود میں آئی، جب برطانوی راج نے یہ خطہ گلاب سنگھ کے ہاتھ فروخت کیا۔ ریاست میں مسلمانوں کی آبادی اکثریت میں تھی، مگر سیاسی و انتظامی طاقت ڈوگرہ ہندو اشرافیہ کے پاس تھی۔ (ڈاکٹر عبد الواحد وانی، Kashmir: Struggle for Freedom, 1989)

تقسیم برصغیر کے وقت جموں و کشمیر کے مسلمانوں کی واحد نمائندہ جماعت، آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس، نے پاکستان کے ساتھ الحاق کی قرارداد (19 جولائی 1947ء) منظور کی۔ جو مسلمانان جموں و کشمیر اور تقسیم کشمیر کے اصول کے عین مطابق تھی لیکن بھارت نے برطانیہ کی ملی بھگت سے ایک جعلی دستاویز کے ذریعہ کشمیر پر اپنا ناجائز تسلط قائم کرنا چاہا اور کشمیر پر قبضہ کیا جس کے بارے میں پروفیسر الیف الدین ترابی اپنی کتاب ’’مسئلہ کشمیر کی نظریاتی اور آئینی بنیادیں اور کشمیر کے اٹوٹ انگ ہونے کا بھارتی دعویٰ‘‘ میں لکھتے ہیں: بھارت کے ساتھ ریاست ِ جموں و کشمیر کے الحاق کی دستاویز (Instrument of Accession) جعلی تھی۔ مہاراجا ہری سنگھ اس وقت جموں سے فرار ہو چکے تھے، اور دستخط شدہ دستاویز کا کوئی اصلی ریکارڈ دستیاب نہیں‘‘۔ (ص 156–155 اور ان کا یہ موقف برطانوی مورخ پروفیسر السٹر لیمب) کی کتاب ’’Kashmir: The Disputed Legacy‘‘ سے بھی تقویت پاتا ہے: 26 اکتوبر 1947ء کی الحاقی دستاویز کبھی اصلی شکل میں موجود نہیں تھی۔ یہ بعد میں بھارت نے گھڑی تاکہ فوجی قبضے کو قانونی رنگ دیا جا سکے‘‘۔ (Lamb, 1994, pp.

42-45) پروفیسر ترابی لکھتے ہیں: ’’یہ اقدام نہ صرف تقسیم ِ ہند کے فارمولے کی خلاف ورزی تھی بلکہ برطانوی نوآبادیاتی اثر کے زیر ِ سایہ تیار کی گئی سیاسی سازش تھی جس کا مقصد کشمیر میں مسلم اکثریت کو حقِ خودارادیت سے محروم کرنا تھا‘‘۔ (ص 158) جموں قتل ِ عام 1947 ایک منظم انسانی المیہ، اکتوبر اور نومبر 1947ء کے دوران ریاست کے مختلف علاقوں، خصوصاً جموں، اکھنور، راجوری، کٹھوعہ، سانبہ اور میرپور میں مسلمانوں کے خلاف منصوبہ بند قتل و غارت کا سلسلہ شروع ہوا۔

ڈوگرہ فوج، راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) اور اکالی دل کے عسکری جتھوں نے مسلمانوں کے گھروں کو نذرِ آتش کیا، عورتوں اور بچوں کو قتل کیا، اور ہزاروں خاندانوں کو پاکستان کی سرحدوں کی طرف بھاگنے پر مجبور کیا۔ جے کے ریڈی (ایڈیٹر، Kashmir Times) کی شہادت کے مطابق: ’’میں نے اپنی آنکھوں سے پاکستان کی طرف جانے والے مہاجرین پر ڈوگرہ سپاہیوں کی فائرنگ دیکھی۔ جموں کے جس ہوٹل میں میں ٹھیرا تھا، وہاں سے ایک رات میں سینتالیس گاؤں جلتے دیکھے۔ ہر طرف چیخ و پکار اور آگ تھی‘‘۔ (اویس بلال، جموں کے روشن ستارے, ص 41)

پریم ناتھ بزاز لکھتے ہیں: ’’ریاست کے کسی ایک حصے میں نہیں بلکہ پورے جموں میں مسلمانوں کے صفایا کی کوشش کی گئی۔ حکومت ِ ریاست اس منصوبے کی شریک تھی‘‘۔ (Inside Kashmir, 1951, p. 290)

اخبار ’’The Statesman‘‘ (نومبر 1947) کے مطابق: ’’جموں کی مسلمان آبادی تقریباً پانچ لاکھ تھی۔ نومبر کے آخر تک اس کا بڑا حصہ ختم ہو چکا تھا، اور دو لاکھ افراد کا نام و نشان مٹ گیا‘‘۔ 26 اکتوبر 1947ء کے بعد بھارت نے ریاست میں فوجی مداخلت کی اور اسے ’’عارضی الحاق‘‘ قرار دیا۔ اقوامِ متحدہ نے 27 اکتوبر 1947ء کو کشمیر کو متنازع خطہ تسلیم کیا، اور سلامتی کونسل کی قرارداد 47 (1948) کے ذریعے کشمیری عوام کے حق ِ خود ارادیت کا وعدہ کیا — جو آج تک پورا نہیں ہو سکا۔

آئینی بحران: بھارت نے ریاستی قبضے کو آئینی رنگ دینے کے لیے آئین میں آرٹیکل 370 شامل کیا، جس کے تحت کشمیر کو محدود خودمختاری ملی۔ مگر 5 اگست 2019ء کو بھارت نے یکطرفہ طور پر اسے بھی ختم کر دیا اور کشمیر کو عملی طور پر ایک جیل میں تبدیل کر دیا ہے۔ 1947 کے بعد سے آج تک کشمیر دنیا کا سب سے زیادہ عسکری علاقہ ہے جہاں آٹھ لاکھ سے زائد بھارتی فوجی تعینات ہیں۔ ہیومن رائٹس واچ، ایمنسٹی انٹرنیشنل، اور اقوامِ متحدہ کی رپورٹوں کے مطابق ریاست میں قتل ِ عام، جبری گمشدگیاں، اجتماعی قبریں، اور خواتین کے خلاف جنسی جرائم عام ہیں۔ (UN OHCHR Report on Kashmir, 2018) بین الاقوامی تحقیق اور قانونی تناظرمیں ڈاکٹر جوزف کوربیل (Danger in Kashmir, 1954) کے مطابق: ’’جموں میں ہونے والا قتل ِ عام ایک منظم ریاستی جرم تھا۔ جس نے جنوبی ایشیا میں دائمی بحران کی بنیاد رکھی‘‘۔

رحمان، جہانگیر اور گردازی (Global Legal Studies Review, 2021): ’’جموں کا قتل ِ عام Genocide Convention (1948) کے آرٹیکل II کے مطابق نسل کشی کے زمرے میں آتا ہے‘‘۔ ISSI Issue Brief (2023) میں کہا گیا: ’’یہ سانحہ جنوبی ایشیا کی تاریخ کا سب سے کم یاد رکھا جانے والا مگر سب سے زیادہ منظم نسل کشی کا واقعہ ہے‘‘۔

جاوید الرحمن ترابی سیف اللہ

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کے مطابق بھارت نے کشمیر کے 1947ء کے

پڑھیں:

مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ

مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز

سری نگر(آئی پی ایس )مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے متعلق رپورٹ کے مطابق جنوری 1989 سے جولائی 2026 تک 96 ہزار 499 افراد شہید جبکہ ایک لاکھ 84 ہزار 149 سے زائد افراد گرفتار کیے جا چکے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اس عرصے میں ایک لاکھ 10 ہزار 605 سے زائد مکانات اور دیگر املاک کو نقصان پہنچایا گیا.اس عرصے میں 22 ہزار 992 خواتین بیوہ اور ایک لاکھ 8 ہزار 9 بچے یتیم ہوئے۔ جولائی 2026 میں بھارتی فورسز کے بڑے پیمانے پر کریک ڈان کے دوران 3 ہزار سے زائد کشمیریوں کو گرفتار کیا گیا اور متعدد مکانات مسمار کیے گئے۔

کشمیر میڈیا سروس کی رپورٹ کے مطابق جولائی 2026 میں بھارتی فوج، پولیس اور دیگر سیکیورٹی اداروں نے مقبوضہ جموں و کشمیر کے مختلف علاقوں میں سرچ اور محاصرے کی کارروائیاں تیز کر دیں۔ کلگام، پلوامہ، شوپیاں، اسلام آباد (اننت ناگ)، سرینگر، گاندربل، بارہمولہ، بڈگام، کپواڑہ، بانڈی پورہ، اونتی پورہ اور ہندواڑہ سمیت کئی علاقوں میں گھروں پر چھاپے مارے گئے۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ان کارروائیوں کے دوران 3 ہزار سے زائد کشمیری نوجوانوں کو حراست میں لیا گیا، جبکہ شہریوں کو سخت تلاشی، نگرانی اور نقل و حرکت کی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ بھارتی حکام کے مطابق سرچ آپریشنز کے دوران ہزاروں افراد کو حراست میں لیا گیا اور مزید کارروائیاں جاری رہیں گی۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ جولائی میں ضلع اسلام آباد (اننت ناگ) میں بھارتی پولیس اہلکار کی ہلاکت کے بعد وادی بھر میں کریک ڈان مزید تیز کیا گیا۔ اس دوران بھارتی انتظامیہ نے بیج بہاڑہ میں عادل ٹھوکر اور حسن پورہ میں ہارون گنائی کے مکانات بھی مسمار کردیے۔

اعداد و شمار کے مطابق جنوری 1989 سے جولائی 2026 تک مقبوضہ کشمیر میں مجموعی طور پر 96 ہزار 499 افراد شہید ہوئے، جن میں 7 ہزار 419 مبینہ حراستی یا جعلی مقابلوں میں شہادتیں شامل ہیں۔ اس دوران ایک لاکھ 84 ہزار 149 سے زائد افراد گرفتار کیے گئے، جبکہ ایک لاکھ 10 ہزار 605 سے زائد مکانات اور دیگر املاک کو نقصان پہنچایا گیا۔

رپورٹ کے مطابق اس عرصے میں 22 ہزار 992 خواتین بیوہ، ایک لاکھ 8 ہزار 9 بچے یتیم اور 11 ہزار 278 خواتین مبینہ طور پر زیادتی یا اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنیں۔ رپورٹ کے مطابق 5 اگست 2019 سے جولائی 2026 تک ایک ہزار 66 افراد شہید ہوئے، جن میں 295 مبینہ حراستی شہادتیں یا جعلی مقابلے شامل ہیں۔ اس عرصے میں 2 ہزار 702 افراد تشدد یا شدید زخمی ہوئے، 37 ہزار 210 سے زائد گرفتاریاں ہوئیں، جبکہ ایک ہزار 211 سے زائد مکانات، دکانوں اور دیگر املاک کو نقصان پہنچایا گیا۔ اس دوران 84 خواتین بیوہ، 234 بچے یتیم اور 148 خواتین مبینہ طور پر زیادتی یا اجتماعی زیادتی کا شکار ہوئیں۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookX پچھلی خبرلاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی اگلی خبرجدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیا پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2026, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم

متعلقہ مضامین

  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • آزاد کشمیر میں 47 روز بعد میرپور میں انٹرنیٹ سروس جزوی بحال، دیگر علاقوں میں بحالی کا انتظار
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع
  • آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع
  • مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
  • رائیونڈ کا ایک شہری اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننا چاہتا ہے، بلاول بھٹو
  • آزاد کشمیر میں ڈیڑھ ماہ بعد انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع