data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

انقرہ: ترک خفیہ ادارے اور جینڈرمری فورسز نے استنبول اور ادانا میں مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے ایک سائبر جاسوسی نیٹ ورک سے منسلک دو مشتبہ افراد کو گرفتار کرلیا، یہ آپریشن انقرہ کے چیف پبلک پراسیکیوٹر کے دفتر کی ہدایت پر کیا گیا۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس  کے مطابق تفتیش میں انکشاف ہوا کہ گرفتار افراد ایک بڑے بین الاقوامی سائبر کرائم نیٹ ورک سے منسلک ہیں،  چھاپوں کے دوران حکام نے متعدد ڈیجیٹل آلات اور غیر ملکی نظام ضبط کیے جو مبینہ طور پر غیر قانونی سائبر سرگرمیوں میں استعمال ہورہے تھے۔

ابتدائی تفتیش میں ملزمان نے اعتراف کیا کہ وہ ذاتی ڈیٹا تک غیر مجاز رسائی کے ذریعے حساس معلومات اکٹھی کرتے تھے اور انہیں مختلف پلیٹ فارمز پر فروخت کرنے میں ملوث تھے،  ان بیانات کی بنیاد پر مزید مشتبہ افراد اور گروہوں کی نشاندہی کی جارہی ہے۔

ترکی کے سائبر سیکیورٹی قوانین کے تحت دونوں افراد کو باضابطہ طور پر گرفتار کرلیا گیا ہے جبکہ بیرونِ ملک موجود چند مشتبہ افراد کے خلاف بھی گرفتاری کے وارنٹ جاری کردیے گئے ہیں۔

حکام کے مطابق اس آپریشن کے دوران 24 ایسی ویب سائٹس تک رسائی بند کردی گئی جو چوری شدہ ذاتی معلومات کے ذریعے بنائے گئے کویری پینلز  پر مشتمل تھیں، کیس کی تحقیقات مزید وسیع کی جارہی ہیں تاکہ مکمل نیٹ ورک کو بے نقاب کیا جاسکے۔

ویب ڈیسک وہاج فاروقی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: مشتبہ افراد نیٹ ورک

پڑھیں:

پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے

گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔

تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔

گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • لاہور، کرایہ داری ایکٹ کی خلاف ورزی پر رواں سال اب تک4727 ملزمان گرفتار
  • وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری کا خراب کارکردگی کے حامل فیلڈ افسران کے خلاف فوری تادیبی کارروائی کا حکم
  • کرایہ داری ایکٹ کی خلاف ورزی پر کریک ڈاؤن تیز، 5600 سے زائد ملزمان گرفتار
  • تھائی لینڈ میں غیر ملکیوں کی خفیہ کاروباری سرگرمیوں اور شیل کمپنیوں کے خلاف بڑا آپریشن 
  • اٹلی‘ 4 پاکستانی قتل: مکمل معلومات نہیں ملیں: دفتر خارجہ 
  • اٹلی ، دو پاکستانی شہریوں کو چار تارکین وطن کارکنوں کے مبینہ قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا
  • کراچی، ہل پارک کے اطراف میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف آپریشن، پلاٹس مسمار
  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے