حج 2026 کےانتظامات اورسہولیات،سعودی عرب اورپاکستان کےدرمیان معاہدہ طےپاگیا
اشاعت کی تاریخ: 9th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
حج 2026 کے انتظامات اور سہولیات سے متعلق سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان باضابطہ معاہدہ طے پاگیا ہے۔ معاہدے پر سعودی نائب وزیرِ حج ڈاکٹر عبد الفتاح بن سلیمان اور پاکستان کے سیکرٹری مذہبی امور سید عطا الرحمان نے دستخط کیے۔
معاہدے کی دستخطی تقریب میں سعودی عرب کے سفیر نواف بن سعید المالکی، ڈی جی حج جدہ عبدالوہاب سومرو، ڈائریکٹر حج مکہ مکرمہ عزیز اللہ خان، ڈائریکٹر حج مدینہ منورہ ضیاءالرحمان، ڈپٹی سیکرٹری حج پالیسی چوہدری کاشف حسین اور دیگر اعلیٰ حکام شریک ہوئے۔
اس موقع پر سیکرٹری مذہبی امور سید عطا الرحمان نے سعودی حکومت کی جانب سے گزشتہ برس پاکستانی عازمین کو فراہم کی گئی بہترین سہولیات پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ 2026 میں بھی پاکستانی حجاج کو اعلیٰ معیار کی رہائش، ٹرانسپورٹ اور دیگر خدمات فراہم کی جائیں گی۔**
سعودی نائب وزیرِ حج ڈاکٹر عبد الفتاح بن سلیمان نے اس عزم کا اظہار کیا کہ دونوں ممالک کے درمیان حج انتظامات میں تعاون مزید مضبوط ہوگا تاکہ عازمین کو بہتر سے بہتر سہولیات فراہم کی جاسکیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔
پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔
ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔
ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔
پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔