data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

(فائل فوٹو)

لاڑکانہ:۔ پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے حکومت سندھ کی جانب سے گندم کے کاشتکاروں کے لئے سپورٹ پروگرام برائے 2025ءکے تحت ڈی اے پی اور یوریا کی خریداری کے لیے بے نظیر ہاری کارڈ کے ذریعے نقد رقوم کی براہ راست منتقلی کا افتتاح کردیا ہے، جو ایک انقلابی اور ملکی تاریخی میں اپنی نوعیت کا پہلا جامع پروگرام ہے۔

تفصیلات کے مطابق پی پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے کہا کہ پیپلز پارٹی سمجھتی ہے کہ کسان خوشحال ہوگا، تو ملک خوشحال ہوگا۔ ہماری سوچ ہے کہ اے ڈی پی اور یوریا کی خرایدری کا بوجھ کسانوں اور چھوٹے کاشتکاروں کو اٹھانا نہ پڑے۔ انہوں نے کہا کہ اُن کی ہدایات پر وزیراعلیٰ سندھ اور ان کی ٹیم نے ایک جامع منصوبہ تیار کیا ہے، جس کے تحت صوبے کے کسانوں اور چھوٹے کاشتکاروں کو اے ڈی پی اور یوریا کی خریداری کے لیے مالی معاونت کی جا رہی ہے۔ انہوں نے تقریب میں موجود بے نظیر ہاری کارڈ ہولڈرز سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ اِس وقت اے ڈی پی اور یوریا کی خریداری کے لیے امدای رقم بالواسطہ آپ کے اکاوَنٹس میں منتقل ہوچکی ہے۔

چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اس منصوبے پر بات کرتے ہوئے مزید کہا کہ اس پروگرام کے تحت سندھ کے ایک ایکڑ سے 25 ایکڑ کے مالک کسانوں و کاشتکاروں کی مالی معاونت کی جارہی ہے۔ انہوں نے نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں ایک ایکڑ سے 25 ایکڑ زرعی زمین کے مالک کسانوں کا تناسب 90 فیصد بنتا ہے۔

چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ گذشتہ کچھ سالوں سے ملک بھر کے کسان پریشان تھے۔ انہوں نے کہا کہ زرعی معیشت کو پہنچائے جانے والے نقصان کا بوجھ لاڑکانہ، پنجاب اور وسیب کے کسانوں کو اٹھانا پڑ رہا تھا۔ عالمی معاہدوں کی وجہ سے صوبائی حکومتوں کے ہاتھ باندھ دیے گئے تھے کہ وہ گندم خرید سکتے تھے نہ سپورٹ پرائس دے سکتے تھے۔ انہوں کہا کہ میرے مطالبے پر وزیراعظم میاں شہباز شریف نے ملک میں موسمیاتی ایمرجنسی اور زرعی ایمرجنسی کے نفاذ کے ساتھ ساتھ پنجاب کے سیلاب زدہ علاقوں میں صارفین کے بجلی کے بلز معاف کیے، جس پر اُن کا شکر گزار ہوں۔

پی پی پی چیئرمین نے ملک کی سیاسی صورتحال اور آئینی ترامیم پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت اسلام آباد میں بہت کچھ ہورہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی سمجھتی ہے کہ آئین قائدِ عوام شہید ذوالفقار علی بھٹو کی امانت ہے۔ 1973 کا آئین ہو یا اٹھارویں ترمیم، پیپلز پارٹی کی یہ ترجیح رہی ہے کہ آئین سازی یا قانون سازی اتفاق رائے سے ہو۔ جب کوئی آئینی ترمیم یا قانون سازی ہوتی ہے، تو اس کے لیے مخالف جماعتوں کو درمیانی راستہ نکالنا پڑتا ہے۔

ویب ڈیسک.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: چیئرمین بلاول بھٹو پی اور یوریا کی نے کہا کہ انہوں نے کے لیے

پڑھیں:

اہم ٹیلیفونک رابطہ، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا، سہیل آفریدی پر الزام، مریم نواز اور بلاول کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news بشریٰ بی بی بلاول بھٹو زرداری پاکستان سعودی عرب سہیل آفریدی مریم نواز

متعلقہ مضامین

  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • 25 جولائی کو گریٹر اقبال پارک میں پیپلز پارٹی کے جلسہ ؛ بلاول بھٹو ویڈیو لنک سے خطاب کریں گے ؛فیصل میر
  • بلاول بھٹو نے مظفرآباد اور دیگر علاقوں میں بھی انٹرنیٹ پابندیاں جلد ختم ہونے کی امید ظاہر کر دی
  • اہم ٹیلیفونک رابطہ، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا، سہیل آفریدی پر الزام، مریم نواز اور بلاول کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا
  • رائیونڈ کا ایک شہری اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننا چاہتا ہے، بلاول بھٹو