دھرمیندر کی موت پر تعزیتی پوسٹ، مداحوں نے میرا کو آڑے ہاتھوں لے لیا
اشاعت کی تاریخ: 12th, November 2025 GMT
کراچی: پاکستانی اداکارہ میرا ایک بار پھر خبروں میں آگئیں جب انہوں نے بالی وڈ کے سینئر اداکار دھرمیندرا کے انتقال کی جھوٹی خبر کو سچ مان کر سوشل میڈیا پر افسوس کا اظہار کر دیا۔
بھارتی میڈیا کے بڑے اداروں جیسے انڈیا ٹوڈے، اے بی پی نیوز، نیوز 18، اور ہندوستان ٹائمز نے منگل کی صبح دھرمیندرا کے انتقال سے متعلق خبریں نشر کیں، جنہیں بعد میں ان کی بیٹی ایشا دیول نے مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ دھرمیندرا زندہ ہیں اور علاج کے دوران روبہ صحت ہیں۔
تاہم، پاکستانی اداکارہ میرا نے ان خبروں کو سچ سمجھتے ہوئے انسٹاگرام پر دھرمیندرا کی تصویر کے ساتھ تعزیتی پوسٹ شیئر کی اور لکھا: "دھرمیندرا کے انتقال پر افسوس ہے، بالی وڈ کے مشہور 'ہی مین' جنہوں نے چھ دہائیوں تک شاندار اداکاری سے ناظرین کو محظوظ کیا۔"
انہوں نے مزید لکھا کہ فلم شعلے، چپکے چپکے، اور پھول اور پتھر میں دھرمیندرا کے کردار ہمیشہ یاد رہیں گے۔
پوسٹ کے بعد صارفین نے فوری طور پر کمنٹس میں بتایا کہ دھرمیندرا زندہ ہیں۔ یہاں تک کہ اداکار یاسر حسین نے بھی لکھا: "ارے میرا جی، وہ زندہ ہیں!" تاہم، کئی گھنٹے گزرنے کے باوجود میرا نے اپنی پوسٹ ڈیلیٹ نہیں کی۔
دوسری جانب، دھرمیندرا کی اہلیہ ہیما مالنی نے بھارتی میڈیا پر شدید غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "یہ جھوٹی خبریں ناقابلِ معافی ہیں، ایک شخص کے علاج کے دوران اس طرح کی غیر ذمہ دارانہ رپورٹنگ افسوسناک ہے۔"
واضح رہے کہ دھرمیندرا ممبئی کے بریچ کینڈی اسپتال میں زیر علاج ہیں، اور اہل خانہ کے مطابق ان کی حالت اب بہتر ہو رہی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: دھرمیندرا کے
پڑھیں:
میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔
منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔
میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔
یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔
برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔
مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں
مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔