کمبوڈیا: تھائی لینڈ کی سرحدی فائرنگ میں پانچ شہری زخمی
اشاعت کی تاریخ: 13th, November 2025 GMT
کمبوڈیا کے دفاعی وزارت کے مطابق تھائی فورسز نے بانتئی میانچی صوبے کے او’چروو ضلع میں واقع پری چین گاؤں میں کمبوڈیا کے شہریوں پر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں کم از کم پانچ شہری زخمی ہوئے، وزارت کی ترجمان لیفٹیننٹ جنرل مالی سوچیتا نے اس حملے کی شدید مذمت کی اور تھائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر تمام دشمنیوں کو بند کرے جو علاقے میں امن و استحکام کو خطرے میں ڈال رہی ہیں۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کےمطابق مالی سوچیتا نے کہا کہ کمبوڈیا سیز فائر اور امن معاہدوں کی پاسداری کے لیے پرعزم ہے اور دونوں ممالک کے درمیان طے شدہ معاہدوں کو نیک نیتی اور ذمہ داری کے ساتھ نافذ کیا جائے گا، سہ پہر تقریباً 3:50 بجے پیش آیا، جس کے بعد سرحدی تنازعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
دوسری جانب تھائی فوج کے ترجمان میجر جنرل ونتھائی سواری نے دعویٰ کیا کہ کمبوڈیا کے فوجیوں نے تھائی سرحدی علاقے میں فائرنگ کی اور تھائی فورسز نے وارننگ شاٹس دیے، تاہم تھائی جانب کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
یہ واقعہ اس کے چند روز بعد پیش آیا جب تھائی لینڈ نے اپنے امن معاہدے کو معطل کر دیا تھا، جس کے بعد کمبوڈیا اور تھائی لینڈ کے درمیان تعلقات میں کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ دونوں ممالک نے گزشتہ ماہ کوالالمپور میں بین الاقوامی ثالثی کے تحت غیر مشروط سیز فائر پر اتفاق کیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔