27ویں آئینی ترمیم عدلیہ پر سنگین حملہ ہے‘باقر عباس
اشاعت کی تاریخ: 15th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف رپورٹر)مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی رہنما علامہ سید باقر عباس زیدی نے کہا ہے کہ ملک میں آئین و جمہوریت کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی ایک خواب بنتی جارہی ہے۔ 27ویں آئینی ترمیم عدلیہ پر سنگین حملہ ہے، جبکہ سینئر ججز کا اس طرح مستعفی ہونا ضمیر کی آوازاور عوامی جذبات کی ترجمانی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عدلیہ بحالی کی تحریکیں چلانے والی جماعتوں نے خود ہی اس کا گلہ گھونٹ دیا ہے۔علامہ باقر عباس زیدی کا کہنا تھا کہ ملک میں جمہوریت اور آئین کی حکمرانی کا نعرہ لگانے والوں نے آمریت کا ساتھ دیا ہے۔ عوام مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات سے محروم ہیں، جبکہ صدرِ مملکت اور آرمی چیف مراعات کے حصول کی دوڑ میں مصروف ہیں۔ اسلامی جمہوریہ میں حاکمِ اعلیٰ کا کسی جرم پر جواب دہ نہ ہونا اسلامی شریعت کے منافی ہے۔ آئینِ پاکستان میں تمام شہریوں کے حقوق برابر ہیں، مگر حالیہ ترمیم ریاستی اداروں میں ٹکراؤ اور انتشار کا باعث بنے گی۔ ترمیم کے حق میں ووٹ دینے والی جماعتوں نے عوام کے ساتھ خیانت کی ہے۔انہوں نے کہا کہ جمہوریت کے راگ الاپنے والوں نے جمہوری قدروں کی بدترین پامالی کی ہے۔ ملک میں جمہوریت کے خاتمے اور بادشاہت کے آغاز کے آثار نمایاں ہیں۔ آئینِ پاکستان میں مفاداتی تبدیلیوں کا گندا کھیل ہمیشہ اسٹیبلشمنٹ نے کھیلا ہے۔ غیر آئینی ترامیم کی منظوری دینے والی جماعتوں نے اپنے ہاتھوں اپنی سیاسی ساکھ کو تباہ کر دیا ہے۔ اس خیانت کا خمیازہ انہیں اگلے قومی انتخابات میں بھگتنا پڑے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
تہران:ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے اشاروں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر ذمہ دارانہ عسکری اقدام کے نتائج امریکا کے لیے انتہائی مہنگے ثابت ہوں گے۔
ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی انتظامیہ کے بعض بااثر حلقے زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کی توجہ خطے کی موجودہ صورتحال کے بجائے 2028 کے صدارتی انتخابات پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔
مزید پڑھیںمشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل
انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں موجود کچھ عناصر حقیقت پسندانہ انداز میں حالات کا جائزہ لینے کے بجائے ایسے فیصلوں کی حمایت کر رہے ہیں جو خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔
ان کے بقول اگر امریکہ نے جذباتی یا غیر دانشمندانہ جارحیت کا راستہ اختیار کیا تو اس کی سیاسی اور سفارتی قیمت صدر ٹرمپ کو خود ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال یا دھمکیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو جائے گی۔