ٹرمپ مشکل میں؟ بدنام زمانہ جنسی اسکینڈل کی دستاویز عام کرنے کا بل منظور
اشاعت کی تاریخ: 19th, November 2025 GMT
امریکی ایوان نمائندگان میں بل کی منظوری کے لیے ہونے والی ووٹنگ میں 427 نے حق میں جب کہ صرف ایک نے مخالفت میں ووٹ دیا۔ مخالفت کرنے والے واحد رکن اسمبلی ٹرمپ کی جماعت ریپبلکن کے کلے ہیگن تھے چنانچہ بل کو کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی ایوان نمائندگان نے بدنام زمانہ جیفری ایپسٹن جنسی اسکینڈل سے متعلق خفیہ دستاویز کو منظرعام پر لانے کا بل منظور کرلیا۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی ایوان نمائندگان میں بل کی منظوری کے لیے ہونے والی ووٹنگ میں 427 نے حق میں جب کہ صرف ایک نے مخالفت میں ووٹ دیا۔ مخالفت کرنے والے واحد رکن اسمبلی ٹرمپ کی جماعت ریپبلکن کے کلے ہیگن تھے چنانچہ بل کو کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا۔ جس کے بعد بل Epstein Files Transparency Act کو سینیٹ بھیج دیا گیا تھا جہاں اکثریت ارکان نے اسے بغیر کسی ترمیم کے منظور کرلیا۔ اب یہ بل صدر ٹرمپ کی توثیق کے لیے وائٹ ہاؤس بھیج دیا گیا ہے جن کے دستخط کے بعد یہ قانون بن جائے گا اور فوری طور پر نافذ العمل ہوگا۔
یہ بل امریکا کے محکمۂ انصاف پر زور دیتا ہے کہ وہ جیفری ایپسٹن کے جنسی اسکینڈل سے متعلق اپنی تمام غیر طباعتی فائلز عوام کے لیے جاری کرے۔ خیال رہے کہ ابتدائی طور پر صدر ٹرمپ اور ان کے بعض اتحادی اس بل کے خلاف تھے مگر وقت کے ساتھ انھوں نے بھی حمایت کا اشارہ دیا۔ گزشتہ کئی دنوں سے ٹرمپ یہ مؤقف اختیار کیے ہوئے تھے کہ یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹس کی طرف سے توجہ ہٹانے کی ایک کوشش ہے۔ تاہم اب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وعدہ کیا ہے کہ بل ان کی میز پر پہنچتے ہی وہ اسے قانون کی شکل دیں گے۔
اگر یہ بل قانون بن گیا تو امریکی محکمۂ انصاف کو 30 دن کے اندر جیفری ایپسٹن جنسی اسکینڈل کی تمام غیر طباعت شدہ ریکارڈز، مواصلات، اور تفتیشی مواد جاری کرنا ہوں گے۔ امریکی صدر کے مخالفین نے بعض رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ جیفری ایپسٹن جنسی اسکینڈل میں ڈونلڈ ٹرمپ کا نام بھی شامل ہے۔ ان غیر مصدقہ رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ امریکی صدر نے بھی لڑکیوں کے حصول کے لیے جیفری ایپسٹن اور ان کی ساتھی سے رابطے رکھے تھے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: جیفری ایپسٹن جنسی اسکینڈل منظور کرلیا کے لیے
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔