سافکو مائیکر وفنانس کمپنی کو انٹرنیشنل ریٹیل بینکنگ ایوارڈ سے نوازا گیا
اشاعت کی تاریخ: 25th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
حیدرآباد (نمائندہ جسارت) سافکو مائیکرو فنانس کمپنی کو’’اسلامک بینکنگ اینڈ فنانس پر بین الاقوامی کانفرنس‘‘کے دوران 11ویں انٹرنیشنل ریٹیل بینکنگ ایوارڈز (ابرا) 2025ء سے نوازا گیا ہے۔ سافکو کے جاری کردہ بیان کے مطابق یہ اعزاز سافکو کے ‘یقین اسلامک فنانس’ کو اخلاقی اور اصولی قرضے کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو توڑنے اور پاکستان بھر میں غریب اور مالی طور پر محروم کمیونٹیز کے لیے حلال، شریعت کے مطابق مالیاتی حل تک رسائی کو بڑھانے کے اعتراف میں دیا گیا ہے۔ اس ایوارڈ کے ذریعے آفات سے محفوظ، اختراعی، کلائنٹ کے مفاداتی محور خدمات، اور سماجی طور پر ذمہ دار اسلامی مالیاتی ماڈلز کے ذریعے اسلامی مائیکروفنانس سیکٹر کو مضبوط بنانے میں سافکو قیادتخدمات کو تسلیم کیا گیا ہے۔ گزشتہ برسوں میں، سافکونے اپنی اسلامی مائیکرو فنانس خدمات کو دور دراز علاقوں تک نمایاں طور پر بڑھایا ہے، اپنے شریعہ گورننس فریم ورک کو بڑھایا ہے، ضرورت پر مبنی اور جامع اسلامی مالیاتی مصنوعات متعارف کروائی ہیں اور صارفین کے تجربے کو بہتر بنانے کے لیے ٹیکنالوجی پر مبنی کام کو مضبوط کیا ہے۔ ایس ایم سی ایل کے یقین اسلامک فنانس نے اس بات کو یقینی بنانے میں متحرک کردار ادا کیا ہے تاکہ کم آمدنی والے گھرانوں خصوصاً خواتین اور چھوٹے کاروباری افراد باوقار، حلال اور سستی مالیاتی اختیارات تک رسائی حاصل کر سکیں۔ سافکو گروپ کے بانی ڈاکٹر سلیمان جی ابڑو نے ایوارڈ وصول کرنے کے موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ابرا ایوارڈز 2025حاصل کرنے سے ہمیں ایک عالمی پذیرائی ملی ہے۔ یہ کامیابی ایس ایم سی ایل کے اخلاقی، جامع اور شریعت کے مطابق مالیاتی خدمات کو فروغ دینے کے غیر متزلزل عزم کی عکاسی کرتی ہے۔ میں یہ ایوارڈ اپنے گاہکوں، شراکت داروں، اور انتھک محنت کرنے والی سافکو ٹیم کے نام کرتا ہوں۔ اس موقع پر ایس ایم سی ایل کے منیجنگ ڈائریکٹر سید سجاد علی شاہ اور سافکو قیادت کے دیگر سینئر ممبران تنظیم کی نمائندگی کے لیے موجود تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ایوارڈ ایک ذمے دار، کلائنٹ پر مرکوز اسلامی مائیکرو فنانس سسٹم کی تعمیر کے ہمارے مشن کو تقویت دیتا ہے جو اعتماد، وقار اور مالیاتی طور پر بااختیار بنانے کو فروغ دیتا ہے۔ ہم پاکستان بھر میں کاروباری، خواتین کی معاشی شمولیت، اور موسمیاتی لچک کو سپورٹ کرنے والے اختراعی، شریعت کے مطابق حل متعارف کرواتے رہیں گے۔ اسلامک ریٹیل بینکنگ ایوارڈز، جو عالمی سطح پر مشہور کیمبرج ‘آئی ایف اے’ کے ذریعے تقویت یافتہ ہیں، ان سرکردہ اداروں اور افراد کو تسلیم کرتے ہیں جو دنیا بھر میں اسلامی ریٹیل بینکنگ کی ترقی اورسرفرازی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ ایوارڈ اسلامی مائیکروفنانس میں ایک قومی رہنما کے طور پرسافکو کی پوزیشن کو مزید مضبوط کرتا ہے اور اخلاقی مالیات اور پائیدار ترقی میں اس کے تعاون کو اجاگر کرتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ریٹیل بینکنگ کے مطابق
پڑھیں:
کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔
7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔
نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاریترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔
شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔
متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔