Jasarat News:
2026-06-03@00:11:22 GMT

میاں صاحب! نادر موقع ضائع نہ کریں

اشاعت کی تاریخ: 28th, November 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

حکمران مسلم لیگ (ن) کے صدر اور تین بار کے سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف نے طویل عرصے بعد چپ کا روزہ توڑا ہے اور ملکی صورت حال پر زبان کھولی ہے اتوار کو ہونے والے ضمنی انتخابات میں کامیاب ہونے والے نو منتخب ارکان اسمبلی سے لاہور میں خطاب کرتے ہوئے میاں نواز شریف نے انہیں انتخابی کامیابی پر مبارک باد دی اور کہا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے جھوٹ، گالم گلوچ، بدتمیزی، بدتہذیبی اور فتنے کو شکست ہوئی ہے، عوام نے کارکردگی کی بنیاد پر ہمیں ووٹ دیا ہے، الیکشن کا بائیکاٹ کرنے والے خود انتخاب میں حصہ لے کر ہار گئے ۔ دو سال سے زیادہ مدت سے جیل میں قید اپنے سیاسی حریف کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ عمران خان اکیلا مجرم نہیں تھا، اس کو لانے والے اس سے بڑے مجرم تھے، ان کا بھی سختی سے احتساب ہونا چاہیے۔ اپنے آخری دور اقتدار سے متعلق انہوں نے دعویٰ کیا کہ ہم نے خدمت کا ریکارڈ قائم کیا۔ 2017ء میں جب وہ وزیر اعظم تھے ملک تیزی سے ترقی کر رہا تھا، انہوں نے ملک کا دیوالیہ نکال دیا تھا، ملک دیوالیہ ہونے کے دہانے پر پہنچ گیا تھا، ترقی کی رفتار جاری رہتی تو آج دنیا میں ہمارا ایک مقام ہوتا۔ شہباز شریف اور مریم نواز بہت اچھے کام کر رہے ہیں، میں خوش ہوں یہ مجھ سے اور زیادہ آگے نکل جائیں۔ شہباز شریف بڑا اچھا اور پیار کرنے والا بھائی ہے، مجھ سے جو مدد ہوتی ہے وہ کرتا ہوں، عوام نے کارکردگی کی بنیاد پر ہمیں ووٹ دیا ہے۔ گزشتہ دور حکومت میں میرٹ کی دھجیاں اُڑائی گئیں۔ پنجاب کے ضمنی انتخابات میں پی ٹی آئی کی جانب سے الیکشن کے بائیکاٹ کا کہا گیا، یہ کیسا بائیکاٹ تھا جس میں عمر ایوب کی بیگم الیکشن لڑ رہی تھی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ آج میرٹ پر کام ہو رہا ہے، ترقیاتی کام ہو رہے ہیں، لیپ ٹاپ مل رہے ہیں، سڑکیں بن رہی ہیں، گرین بسیں چل رہی ہیں، امن و امان کی حالت بہتر ہو گئی، مذاہب کی تفریق کے بغیر راشن کارڈ مل رہے ہیں اور مزید منصوبے ابھی سامنے آئیں گے۔ مسلم لیگ ن کے صدر نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ دور حکومت میں ایک بھی ترقیاتی منصوبہ شروع نہیں کیا گیا، سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ اب سب چیزیں بحال کرنے کی کوشش ہو رہی ہے، دوسروں کو چور اور ڈاکو کہنے والے خود چور ثابت ہوئے۔ ان کا کہنا تھا سب نے مل کر شہباز شریف اور مریم نواز کا ہاتھ بٹانا ہے، ڈیڑھ سال میں عوامی خدمت کا ریکارڈ قائم کیا گیا ہے، نواز شریف کا کہنا تھا کہ 2017ء میں ہمارا گروتھ ریٹ بڑھ رہا تھا، 3 فی صد پر مہنگائی تھی، یہ 39 فی صد پر مہنگائی کو لے کر گئے، پھر 4 فی صد پر آ گئی ہے، انہوں نے حالات پیدا کیے اس کا خمیازہ ہر پاکستانی بھگت رہا ہے، 1999ء میں پرویز مشرف نے مارشل لا لگایا، 1999ء میں سعودی ریال کا ریٹ 11 روپے تھا، ہمارے جانے کے بعد ملک میں بہت تباہی پھیری گئی، کئی فیصلے ہم خود نہیں کر سکتے، غیروں کے ہاتھ میں ہیں، انہوں نے ہی ملک کے فیصلے غیروں کے ہاتھ میں دیے، 2018ء سے 2022ء تک جو ہوتا رہا وہ ساری ذمے داری ان کے سر ہے، ہر روز نیا چیف سیکرٹری آ رہا تھا، تیسرے دن نیا آئی جی آ رہا تھا، ان کے دور میں کوئی مستقل مزاجی نہیں تھی، ڈھنگ کے کام نہیں ہو رہے تھے، ان کے دور میں کوئی ترقیاتی کام نہیں ہوئے، ترقیاتی کام ہمیشہ مسلم لیگ ن کے دور میں ہی ہوئے ہیں، ان کی حکومت جہاں بھی تھی وہاں برے حالات تھے۔ اپنے نام سے موسوم مسلم لیگ (نواز) کے صدر میاں محمد نواز شریف نے خاصے وقفے کے بعد کی گئی گفتگو میں جن حقائق سے پردہ کشائی کی ہے، ان سے اختلاف کی گنجائش بہت کم ہے تاہم ان میں کچھ نیا نہیں… البتہ اپنے اور اپنے دیگر افراد خاندان کے ادوار اقتدار کے بارے میں انہوں نے جس طرح زمین آسمان کے قلابے ملائے ہیں اس پر شاعر کی زبان میں یہی عرض کیا جا سکتا ہے:

اتنی نہ بڑھا پاکیٔ داماں کی حکایت
دامن کو ذرا دیکھ، ذرا بند قبا دیکھ

میاں نواز شریف نے اپنے خطاب میں سابق وزیر اعظم عمران خاں پر جو الزامات عائد کیے ہیں اور ان کے بارے میں جو جو کچھ گوہر افشانیاں کی ہیں، ان میں سے شاید ہی کوئی ایسا الزام ہو جس سے میاں صاحب کی ذات اور ان کے خاندان کو بری الذمہ قرار دیا جا سکے۔ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ عمران خاں کو ایوان اقتدار تک پہنچانے میں باوردی جرنیلوں کا کردار نمایاں تھا تاہم کیا یہ بھی ایک کھلی حقیقت نہیں کہ خود میاں محمد نواز شریف کو بھی عمران خاں ہی کی طرح فوجی جرنیلوں ہی نے زمین سے اٹھا کر آسمان اقتدار تک پہنچایا تھا اس ضمن میں آئی جے آئی کی تشکیل سے لے کر پنجاب بینک سکینڈل تک وردی والے با اختیار اور فیصلہ ساز لوگوں کے کردار کو کسی صورت فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ اور آپ کو تو اس وقت کے فوجی آمر جنرل ضیاء الحق نے اپنی عمر مل جانے کی دعا بھی کی تھی۔ جو شاید واقعی آپ کو مل بھی چکی ہے۔ ذرا آگے بڑھیں تو آپ دوسرے فوجی آمر جنرل پرویز مشرف سے تحریری معاہدہ کر کے جیل سے نکل کر سعودی عرب کے محلات میں جا مقیم ہوئے پھر اس معاہدے کی خلاف ورزی کر کے مفاہمت کے فارمولے کے تحت واپس پاکستان آئے اور اقتدار کے ایوان میں پھر سے تشریف فرما ہو گئے۔ عمران خاں کی وزارت عظمیٰ کے دوران آپ نے ایک بار پھر جرنیلوں سے سودے بازی کی اور قوم کی آنکھوں میں ’’پلیٹ لیٹس‘‘ کے خاتمہ کی دھول جھونک کر جیل سے لندن جا پہنچے۔ جہاں بیٹھ کر آپ نے اپنے مطعون جنرل باجوہ کی مدت ملازمت کے حق میں ووٹ دینے کا حکم اپنے ارکان اسمبلی کو دیا اور اپنی اقتدار میں واپسی کی راہ ہموار کی۔ اس کے ساتھ ہی آپ نے فوجی اور عدالتی ارباب اختیار کے خلاف اپنی مزاحمت کی پالیسی ترک کر کے مفاہمت کا راستہ اختیار کر لیا۔ اپنے ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ کے نعرے کو کلیتاً بھول بھال کر فارم 47- کی کھلی جعلسازی کے ذریعے اقتدار پر قابض ہو گئے۔ جہاں تک عمران خان کو لانے والوں کے احتساب کا تعلق ہے تو یہ آپ کس کو بے وقوف بنا رہے ہیں۔ ملک پر آپ کی پارٹی کی حکومت ہے۔ آپ کے برادر اطاعت شعار، ملک کے وزیر اعظم، آپ کے سمدھی نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اور بیٹی سب سے بڑے صوبے کی وزیر اعلیٰ ہیں۔ اسمبلی میں آپ کی جماعت کو واضح اکثریت حاصل ہو چکی۔ ذرا ہمت کریں عمران خان کو لانے والے جنرل باجوہ کو کٹہرے میں بلائیں اور ان جرنیلوں کو بھی جو بار بار شریف خاندان کے لیے اقتدار کے راستے ہموار کرتے رہے۔ میاں صاحب! ذرا ہمت تو دکھائیں۔ تاریخ میں سنہری حروف میں نام لکھوانے کے اس نادر موقع کو رائیگاں نہ جانے دیں…!!!

اداریہ سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: نواز شریف نے کا کہنا تھا کہنا تھا کہ انہوں نے مسلم لیگ رہا تھا رہے ہیں کے دور

پڑھیں:

میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔

درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔

(جاری ہے)

تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔

عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔

متعلقہ مضامین

  • نواز شریف این او سی لے کر گلگت بلتستان گئے، راناثنا
  • گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، نواز شریف
  • ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا: نواز شریف
  • نواز شریف گلگت بلتستان روانہ، انتخابی مہم میں حصہ لیں گے
  • صدرمسلم لیگ (ن) نواز شریف کل گلگت بلتستان کا ایک روزہ دورہ کریں گے
  • نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
  • گلگت بلتستان سی پیک کا مرکز ہے: نواز شریف