اسلام آباد میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ دورہ روس میں وزارت خارجہ نے روسی انتظامیہ سے ملاقاتوں کا خط پہلے ہی بھیج دیا تھا، اس وجہ سے روسی وزیر خارجہ سرگئی، نائب وزیر اعظم الیکسی اوورچک سے علیحدہ علیحدہ باہمی ملاقاتیں ہوئیں۔ اسلام ٹائمز۔ نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ میں نے کابل میں واضح کردیا کہ افغانستان اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دے اور ٹی ٹی پی کو ہمارے حوالے کر دے یا کہیں دور لے جائے۔ اسلام آباد میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ دورہ روس میں وزارت خارجہ نے روسی انتظامیہ سے ملاقاتوں کا خط پہلے ہی بھیج دیا تھا، اس وجہ سے روسی وزیر خارجہ سرگئی، نائب وزیر اعظم الیکسی اوورچک سے علیحدہ علیحدہ باہمی ملاقاتیں ہوئیں، روسی نائب وزیر اعظم کے ساتھ ملاقات میں مختلف روسی وزراء بھی موجود تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ کئی برس کے بعد یورپی یونین کے صدر کے ساتھ کسی پاکستانی نے ملاقات کی، 2021 کے بعد سے 5 برس سے پاکستان ای یو مذاکرات التواء کا شکار تھے، یورپی یونین کے اعلیٰ نمائندوں کے ساتھ  انتہائی اہم ملاقات ہوئی، یہ ملاقات انتہائی خوشگوار اور بے تکلفی والے ماحول میں ہوئی۔ اس دورے سے ہمارے یورپی یونین سے رابطوں میں موجود کمی دور ہوئی، ساتواں اسٹریٹیجک ڈائیلاگ انتہائی اہم رہا۔

ان کا کہنا تھا کہ ای یو.

کے ساتھ ہمارے تعلقات کے تمام شعبوں تجارت، اقتصادی امور، جی ایس پی پلس، افغانستان، سیکیورٹی، بھارت اور دیگر معاملات ہر بات چیت کی، ہم نے کھل کر افغانستان سے پاکستان پر حملوں پر تفصیلی بات چیت کی، پہلگام واقعہ اور پاک بھارت جنگ  کے بعد کئی مرتبہ رابطہ ہوا تھا۔ انہیں بتایا کہ میں نے افغانستان کا ذاتی دورہ کیا اور افغان قیادت سے تمام موضوعات پر بات چیت کی، میں نے بتایا کہ افغانستان میں ہونے والے تمام فیصلوں اور وعدوں کو کابل میں ہی دنیا کے سامنے رکھا۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ ’میں نے کابل میں واضح کیا کہ افغانستان اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دے، یا تو ٹی ٹی پی کو ہمارے حوالے کر دے یا کہیں دور لے جائے۔

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: ان کا کہنا تھا کہ کے ساتھ

پڑھیں:

وزیراعظم نے بحرین کی کاروباری برادری کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت دے دی

منامہ: وزیرِاعظم شہباز شریف نے بحرین کے تاجروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت دے دی اور کہا ہے کہ پاکستان میں زراعت، آئی ٹی، معدنیات، توانائی اور سیاحت کے شعبہ جات طویل مدتی شراکت داری کے مواقع موجود ہیں۔

یہ بات انہوں ںے بحرین کے دو روزہ سرکاری دورے میں کاروباری برادری سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

تقریب میں بحرین کے نائب وزیراعظم، وزرائے خارجہ، خزانہ و قومی معیشت، صنعت و تجارت کے حکام سمیت پاکستان کے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اور دیگر موجود تھے۔

وزیرِاعظم نے کہا کہ پاکستان باصلاحیت افرادی قوت، وسائل اور تیزی سے بڑھتی ہوئی صارفین کی مارکیٹ ہے جس میں کاروبار کے بے پناہ مواقع موجود ہیں، جب اس میں بحرین کی مالی مہارت اور کاروباری بصیرت شامل ہو تو امکانات مزید بڑھ جاتے ہیں۔

وزیرِاعظم نے کہا کہ پاکستان زرعی شعبے، آئی ٹی، مصنوعی ذہانت، فِن ٹیک اور دیگر تمام شعبوں میں بحرین کے ساتھ معاشی تعاون بڑھانے کے لیے تیار ہے تاکہ باہمی کوششوں، علم اور تجربے سے ہم آہنگی پیدا کی جا سکے۔

انہوں نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں، پاکستانی اور بحرینی کاروباری شخصیات کو بتایا کہ پاکستان اور جی سی سی کے درمیان آزادانہ تجارت کے معاہدے پر جلد دستخط کیے جانے کی توقع ہے جس سے تجارتی تعاون مضبوط ہوگا۔

شہباز شریف نے کہا کہ میں آپ سے صرف پاکستان کے وزیرِاعظم کی حیثیت سے نہیں بلکہ ایک ایسے ملک کے سی ای او کی حیثیت سے مخاطب ہوں جو بحرینی کاروباری افراد کے ساتھ شراکت داری کے لیے بے چین ہے، آپ کے مشترکہ کاروباری منصوبوں کی حمایت کرنے، ہم آپ کی سرمایہ کاری کی منصوبہ بندی میں مدد کرنے اور ہمارے سامنے موجود باہمی فائدہ مند سفر کو کامیاب بنانے کے لیے تیار ہیں چاہے آپ بحرینی سرمایہ کار ہوں جو پاکستان کا رخ کر رہے ہیں یا بحرین کی ترقی میں حصہ ڈالنے والے پاکستانی کاروباری افراد ہوں، یہ لمحہ آپ کے لیے جرات مندانہ اور بامعنی تعاون کا سنگِ میل ہونا چاہیے۔

وزیرِاعظم نے بحرین کے بادشاہ حمد بن عیسیٰ الخلیفہ، ولی عہد و وزیراعظم سلمان بن حمد الخلیفہ کا اپنی اور اپنے وفد کی پرتکلف میزبانی پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے تعلقات ثقافت، مذہب، باہمی احترام اور اعتماد پر مبنی ہیں اور دہائیوں سے اسٹریٹجک تعاون کی بنیاد پر قائم ہیں۔

انہوں نے کہا اب ہمیں ان بہترین تعلقات کو معاشی تعاون میں تبدیل کرنا ہے۔ انہوں نے وعدہ کیا کہ نوجوان آبادی کے چیلنج کو آئی ٹی، اے آئی، فنی تربیت اور مہارت کی تربیت کے ذریعے ایک بڑی قومی قوت میں تبدیل کیا جائے گا۔

وزیرِاعظم نے بحرین میں مقیم ایک لاکھ سے زائد پاکستانیوں کی اپنے میزبان ملک اور وطن کے لیے خدمات کو سراہا، جنہوں نے گزشتہ برس 484 ملین ڈالر کی ترسیلات وطن بھیجیں۔

انہوں نے کہا، "میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ پاکستان کے دروازے اور میرے اپنے دروازے ہمیشہ آپ سب کے لیے کھلے رہیں گے،" اور بحرین کی وژنری قیادت کی تعریف کی جس نے ملک کو معاشی ترقی، مالی جدت اور انسان مرکز ترقی کی علامت بنا دیا ہے، جو پاکستان کے لیے بھی مشعلِ راہ ہے۔

قبل ازیں خطاب میں بحرین کے وزیرِ خزانہ سلمان بن خلیفہ الخلیفہ نے کہا کہ پاکستانیوں کی نسل در نسل خدمات نے بحرین کی ترقی میں نمایاں کردار ادا کیا ہے اور بہت سے پاکستانیوں نے بحرین کو اپنا دوسرا گھر بنا لیا ہے، پاکستان کے مالیاتی ادارے نصف صدی سے زائد عرصے سے بحرین کے مالی شعبے کے اہم ستون رہے ہیں۔

وزیر نے بتایا کہ بحرین ایک نسلیاتی تبدیلی کے دور سے گزر رہا ہے اور خطہ جدت، پائیداری اور تکنیکی بہترین کارکردگی کا مرکز بنتا جا رہا ہے، جس میں بحرین اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے شعبے میں بحرین کی ہائی کیپیسٹی سب میرین کیبلز اور وسیع ہوتے ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اسے خطے میں ڈیٹا اور کنیکٹیویٹی کا مرکز بنا رہے ہیں، جو پاکستان کی سافٹ ویئر انجینئرنگ، مصنوعی ذہانت، سائبر سیکیورٹی اور جدید ترین ڈیجیٹل خدمات فراہم کرنے والی کمپنیوں کے لیے نئی راہیں کھولتے ہیں۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ بحرین وژن 2030ء کو آگے بڑھاتے ہوئے اور وژن 2050ء کی بنیاد رکھتے ہوئے پاکستان کو اپنے ساتھ ایک مشترکہ معاشی مستقبل کا شراکت دار سمجھتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • افغانستان ٹی ٹی پی کو ہمارے حوالے کر دے یا کہیں دور لے جائے، نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار
  • افغانستان میں امن خطے کے امن کے لیے بہت ضروری ہے، نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار کی پریس کا نفرنس
  • ملکی نظام چلانے کیلیے قرآن سے سبق لینا ضروری ہے، فساد اور دہشت گردی کو ختم کرنے کا حکم ہے: اسحاق ڈار
  • خطے میں پائیدار ترقی کے لیے شراکت داری لازم ہے: اسحاق ڈار
  • بھارتی وزیر دفاع  کا سندھ  پر پابیاں خام  خیالی ، دنیا افغانستان  سے دہشتگردی رکوائے : پاکستان 
  • ای سی او ملکوں سے تعاون بڑھا رہے ہیں، اسحاق ڈار
  • شریف خاندان پہلے اپنا سرمایا پاکستان لائے!
  • وزیراعظم نے بحرین کی کاروباری برادری کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت دے دی
  • پاکستان نیشنل کونسل آرٹس میں روس–پاکستان ثقافتی ہم آہنگی کا شاندار مظاہرہ