Jasarat News:
2026-06-02@23:01:49 GMT

میں سچ کہوں گی مگر پھر بھی ہارجائوں گی

اشاعت کی تاریخ: 3rd, December 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

نئے دور کا یہ بڑا کھوکھلا سا شور ہے کہ اب وہ دور لد گیا جب عورتیں کبھی چولہا پھٹنے، اور کبھی دوپٹا جلنے سے ماری جاتی تھیں تو کبھی جسمانی اور ذہنی تشدد سے سلگ سلگ کے مرمر کے جیتی تھیں اب وہ گھروں میں مقید نہیں ان کو اپنے حقوق کا شعور آگیا ہے وہ نکل کر کیا نہیں کررہی ہیں خودمختار ہیں ہر شعبے میں خود کو منوارہی ہیں مرد کے شانہ بشانہ چل رہی ہیں (مساوات کی چھاؤں میں بڑا نشہ ہے) ہے لیکن ٹی وی چینلوں سے سوشل میڈیا تک عورتوں پر تشدد بڑھتے جانے کی خبریں اب نئے انداز سے آ رہی ہیں غریب گھرانوں میں تو تشدد کے واقعات عام تھے ہی مگر مڈل کلاس مرد بھی بھی اچھا خاصہ گھونٹتے تھے مگر افسوس ناک اضافہ یہ ہے کہ اب ورکنگ وومن بھی نشانہ بنتی جا رہی ہیںکبھی پس دیوار تو کبھی سر راہ ایسے میں سوال اٹھتا ہے کہ یہ تو امپاورمنٹ کا حصہ ہیں پھر کیوں زیر عتاب ہے یا شاید اپر کلاس، ایلیٹ کلاس کی عورت کو کوئی مسئلہ ہی نہیں ہے اس لیے کہ وہ تو خود مختار ہے کئی مرد اس کے پیچھے چلتے ہیں واقعی ایسی عورتیں تو راج کرتی ہوں امپاور منٹ کی چھاؤں میں سکھی ہوں گی راوی چین ہی چین لکھتا ہوگا مگر حقیقت کچھ اور ہے دراصل ہاتھی کے دانت کھانے کے اور دکھانے کے اور والا معاملہ ہے۔ اپنے گردو پیش پر نظر ڈالیے زمینی حقائق تو کچھ اور ہیں۔

پاکستان کی دو امپاورڈ خواتین کی کہانی سب کے سامنے ہے جس میں ان کی بے چارگی کا کڑوا سچ بھرپور انداز سے چیختا ہے کہ اس کھوکھلے نعرے کی ساری قلعی یک بیک اُترتی چلی جاتی ہے، پاکستان کی تاریخ میں کبھی نہ بھلائی جانے والی سچی کہانی ہے جو ایک سرد شام کی دردناک اور ہولناک داستان ہے پاکستان کی وہ عورت جو دو بار سب سے بڑی پوسٹ پہ فائز رہی بہت مقبول ہوئی منہ میں سونے کا چمچہ لے کر محل میں پیدا ہوئی جی بالکل حامیوں سے مخالفین تک سب مانتے ہیں کہ بینظیر بھٹو بہت بہادر بہت ذہین اور خاصی حد تک غیر سطحی تھیں بہت عوامی ہونے کے باوجود کئی برسوں کی جلا وطنی ختم کر کے وطن لوٹی تھیں تب انہوں نے آمریت کے خلاف تحریک چلانے کا اعلان کیا تھا اکتوبر 2007 اسی وقت ان پہ قاتلانہ حملہ ہوا جس میں وہ بال بال بچ گئی مگر دو ماہ بعد جب راولپنڈی لیاقت باغ میں واپس آتے ہوئے جان کی بازی ہار گئیں ان کا سفید دوپٹا بھرے مجمع میں ان کے خون سے سرخ ہو گیا یہ آمرانہ سازش تھی یا ان کے شریک حیات کی بے وفائی کا کوئی عملی اظہار جس کے چرچے اس وقت خبروں کا حصہ بن رہے تھے بے شک اس وقت کسی بڑی پوسٹ پہ نہیں تھیں مگر دو بار وزارت عظمیٰ کے منصب پر فائز رہنے والی اپوزیشن لیڈر تھیں اور دنیا بھر میں مقبول تھیں یہ 27 دسمبر 2007 تھا ہجوم میں محافظوں کے درمیان ایک کھلی جگہ ہونے والا حادثہ تھا تب ایک اور باصلاحیت اور امپاورڈ خاتون کا کہا ہوا اک شعر ان پہ صادق آگیا۔

میں سچ کہوں گی مگر پھر بھی ہار جاؤں گی
وہ جھوٹ بولے گا اور لاجواب کر دے گا

اور مسلسل کٹھ پتلی بنائے جانے کے باوجود کٹھ پتلی نہیں بن سکی تھی، آخر تین سبجیکٹ میں ماسٹر تھیں جن میں ایک فلسفہ بھی شامل تھا کیا اسے پڑھنے والی عورت کٹھ پتلی بن سکتی ہے؟ ان کے پہلے دور میں دنیا نے اس اہم منصب پر فائز امپاورڈ خاتون کی شدید بے بسی دیکھی ہزار اختلاف سہی مگر ان کا اپنا بھائی سڑک پر پولیس مقابلے میں شدید زخمی ہو کر رگڑتا ہوا مارا گیا قطع نظر اس کے کہ وہ بڑا دہشت گرد تھا کسی میں اتنی ہمت نہ تھی کہ پولیس کو روک سکے، نہ اس کی بہن کو خبر تھی بہرحال اطلاع ملنے پر بڑے منصب پر فائز وہ عورت بے ساختہ روتے ہوئے دوڑی چلی آئی کیا کسی مرد وزیراعظم کے دور میں ایسا ہو سکتا تھا؟ تب سماج نے اس کھوکھلے نعرے کی قلعی کھلتے ہوئے دیکھی۔

دوسری امپاورڈ خاتون کی کہانی اس سے بھی تیرہ سال پہلے کی ہے اتفاق دیکھیے تاریخ اس سے ایک روز پہلے کی 26 دسمبر 1994 کی بہت جینئس اور معروف شاعرہ تھیں جو سول سروس کے اعلیٰ عہدے پہ فائز تھیں جی یہ شعرو ادب کا بڑا نام مرحومہ پروین شاکر تھیں ان کی المناک حادثاتی موت کی کہانی ہے۔ ہر سیاسی پارٹی سے دور بھاگتی تھیں زندگی کے المیوں سے لڑتے ہوئے اپنی دنیا آپ بنانے والی خاتون کی کہانی ان کی نظم ’’ورکنگ وومن‘‘ بھی ایک آئینہ ہے جس میں امپاورمنٹ کا سچا عکس شکوہ سنج ہے۔ محض 24 سال کی عمر میں ان کی کتاب ’’خوشبو‘‘ پہ آدم جی ایوارڈ دیاگیا امریکا کی ہارڈورڈ یونی ورسٹی علم کا مقطع کہی جاتی ہے انہوں نے وہاں سے ایم بی اے کی ڈگری حاصل کی اس سے پہلے انگلش میں ڈبل ماسٹر کیا تھا اور اردو کی پائے کی شاعرہ تھیں اہم منصب پہ فائز ہونے کے باوجود ’’منصب دلبری‘‘ ایک ٹوٹ پھوٹ کے نتیجے میں ان سے چھن چکا تھا جس کا دکھ ان کی شاعری میں جابجا ملتا ہے۔

ہمارے قحط بھی اور بارشیں بھی پوری ہوئیں
ہمارے نام کا اب تو کوئی عذاب نہ ہو
بس ایک نام کا تارہ سدا چمکتا رہے
گلہ نہیں جو مقدر میں ماہتاب نہ ہو
……
گھر کے مٹنے کا غم تو ہوتا ہے
اپنے ملبے پہ کون سوتا ہے
……
جس طرح خواب میں میرے ہوگئے ریزہ ریزہ
اس طرح سے نہ کبھی ٹوٹ کے نہ بکھرے کوئی
کیسے کہہ دوں کہ مجھے چھوڑ دیا ہے اس نے
بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی

خاصی آزاد خیال لگنے کے باوجود ایک تہذیب سے جڑی تھیں ان کی ہم عصر فیمنسٹ خواتین ان پہ شدید تنقید کرتیں کہ انہوں نے مردوں کا دماغ خراب کیا ہے ان کے مداحوں بلکہ معتقدین میں اس وقت سے آج تک کے بہت مرد شامل ہیں اس لیے کہ ان کا تصور مرد بہت عظیم تھا شکوہ اپنی جگہ یہ بات بھی ان کی انفرادیت کا باعث تھی حادثاتی موت سے پہلے حادثاتی زندگی نے ان کو نڈھال کردیا تھا محض 42 سال کی عمر میں المناک ایکسیڈنٹ میں جاں بحق ہوگئیں مذکورہ دونوں خواتین سے آپ شدید اختلاف رکھتے ہوئے بھی یہ بات مانیں گے کہ یہ دیواروں کے اندر تشدد سے نہیں ختم ہوئیں بلکہ کھلی شاہراہ پہ جان کی بازی ہاری تھیں ان کی زندگیاں نہ چولہا پھٹنے سے ختم ہوئیں نہ کسی اور گھریلو تشدد سے ایسی اور بھی بہت پاور فل خودمختار مانی جانے والی عورتیں ہیں مگر ان کے اندر کوئی شدید محرومی، کوئی نارسائی، کوئی بڑا المیہ ان کو ملول اور بے بس رکھتا ہے گھر کے اندر تحفظ عزت اور سکھ کی چھاؤں اور ایک محرم کے مان کو تڑپتی ہیں یہ کمزور کے سچ کی طاقتور جھوٹ کے مقابل بے نام سی ہار ہے محض مرد عورت کی بات نہیں طاقت سچ کا بڑا حق ہے سماجی، معاشی، سیاسی، اخلاقی سارے مسائل اسی سبب سے لاینحل ہیں بہرحال اس میں ان کا قصور ہویا نہیں الگ بحث ہے مگر

ناحق ہم مجبوروں پہ تہمت ہے مختاری کی
چاہتے ہیں سو آپ کریں ہیں ہم کو عبث بدنام کیا

کا معاملہ ہے اس لیے کہ محرم نگران کی پناہ اس کی وفا اور اعتبار بڑی پاور ہے وہ اس سے ذرا پیچھے چل کر بڑا راج حاصل کرتی ہے یہاں آکر قوامون علی النساء کے آسمانی حکم کو چومنے گلے لگانے اور پھر اس کی عملی تکمیل کو دل کرتا ہے اور اس کی شدید ضرورت ہے۔

جی ہاں یہ دومثالیں کہانیاں نہیں بڑی ہیڈلائن تھیں تشدد کی کھلی سچائی تحفظ عزت اور سکون کے مثلث کی تلاش میں وہ کیا نہیں کرگئیں بڑا مقام بھی مل گیا مگر دونوں کی بے بس زندگی سے بے بس اموات پوچھ رہی ہیں کہ آخر! یہ وومن امپاورمنٹ کیا ہے؟

مگر… ہر چند کہ کہیں ہے مگر نہیں ہے۔

اسماء صدیقہ سیف اللہ

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کے باوجود کی کہانی رہی ہیں ہے مگر

پڑھیں:

والدین کے لیے بڑی راحت، اب بچے فیس بک، انسٹاگرام استعمال نہیں کر سکیں گے

سوشل میڈیا کی دنیا کی سب سے بڑی کمپنی ’میٹا‘ نے دنیا بھر میں انسٹاگرام، فیس بک اور میسنجر استعمال کرنے والے کم عمر صارفین کو آن لائن خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے سخت ترین پابندیوں کا باقاعدہ اطلاق کر دیا ہے۔ ان نئی پالیسیوں کا مقصد نوجوانوں کو نامناسب مواد اور آن لائن ہراسانی سے بچانا ہے۔

دنیا بھر میں نئی سیٹنگز کا فوری اطلاق

کمپنی کی جانب سے جاری کردہ آفیشل بیان کے مطابق انسٹاگرام، فیس بک اور میسنجر پر 13 سال سے زیادہ عمر کے ’ٹین ایج‘ اکاؤنٹس پر مواد کے حوالے سے نئی اور زیادہ سخت سیٹنگز لاگو کر دی گئی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:میٹا نے واٹس ایپ، فیس بک اور انسٹاگرام کے بامعاوضہ فیچرز متعارف کرا دیے

واضح رہے کہ ان سخت ترین سیکیورٹی فیچرز کو سب سے پہلے اکتوبر 2026 میں امریکا، آسٹریلیا، برطانیہ اور کینیڈا میں آزمائشی طور پر متعارف کرایا گیا تھا تاہم اب 2 جون سے اس کا دائرہ کار دنیا بھر کے تمام ممالک تک پھیلا دیا گیا ہے۔

نامناسب مواد اور سرچ رزلٹس پر مکمل بلاکنگ

نئی تبدیلیوں کے تحت اب کم عمر صارفین ایسے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کا مواد نہیں دیکھ سکیں گے اور نہ ہی انہیں فالو کر سکیں گے جو اکثر اور بیشتر غیر اخلاقی یا نامناسب مواد شیئر کرتے ہیں۔

میٹا کا کہنا ہے کہ ایسے تمام مشکوک اور غیر موزوں اکاؤنٹس کو 18 سال سے کم عمر صارفین کی تجاویز(ریکومینڈیشنز) اور تلاش کے نتائج (سرچ رزلٹس) میں مکمل طور پر بلاک کر دیا جائے گا تاکہ بچے ان تک پہنچ ہی نہ سکیں۔

الائس کمپنی کے ساتھ اشتراک اور سرچ پر پابندی

’میٹا‘  نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ بچوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی مشہور عالمی تنظیم ’سیفٹی کمپنی الائس‘ کے ساتھ مل کر مستقبل میں بھی کم عمر صارفین سے متعلق نئے فیچرز کو تیار اور ٹیسٹ کرے گی۔

یاد رہے کہ اکتوبر میں جب انسٹاگرام پر اس سیٹنگ کا آغاز ہوا تھا، تو یہ واضح کیا گیا تھا کہ کم عمر صارفین کو مخصوص سرچ اصطلاحات، جیسے نشہ آور اشیا کے استعمال اور دیگر نقصان دہ موضوعات کو سرچ کرنے سے بھی سختی سے روک دیا جائے گا۔

’لمیٹڈ کانٹینٹ سیٹنگ‘ اور والدین کا کنٹرول

سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بچوں کو محفوظ ماحول دینے کے لیے ’لمیٹڈ کانٹینٹ سیٹنگ‘ کا فیچر بھی متعارف کرایا گیا ہے۔

مزید پڑھیں:دنیا بھر کی اہم شخصیات کے انسٹاگرام اکاؤنٹس ہیک ہونے کا انکشاف، میٹا نے سب بتادیا

اس فیچر کے تحت اب والدین کو یہ اختیار حاصل ہوگا کہ وہ اپنے بچوں کو پلیٹ فارم پر کسی بھی تبصرے (کمنٹس) تک رسائی حاصل کرنے سے روک سکیں۔

یہاں تک کہ اس سیٹنگ کے فعال ہونے کے بعد کم عمر صارفین خود اپنی پوسٹس پر آنے والے کمنٹس کو بھی نہیں دیکھ سکیں گے، جس سے وہ کسی بھی قسم کی آن لائن ٹرولنگ یا منفی تبصروں سے محفوظ رہیں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اشتراک الائس کمپنی انسٹاگرام بچوں بک پابندی سرچ سوشل میڈیا سیٹنگ عائد فیس فیس بک لمیٹڈ کانٹینٹ میٹا والدین

متعلقہ مضامین

  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • ناتمام (آخری قسط)
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • والدین کے لیے بڑی راحت، اب بچے فیس بک، انسٹاگرام استعمال نہیں کر سکیں گے
  • وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائیگا
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی