بلاول بھٹو کی خیبر پختونخوا حکومت کی صحت کارڈ اسکیم پر تنقید
اشاعت کی تاریخ: 3rd, December 2025 GMT
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے خیبر پختونخوا حکومت کے صحت کارڈ اسکیم کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
اپنے بیان میں بلاول کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا حکومت نے صحت کا بجٹ ہیلتھ کارڈ میں ڈال دیا ہے، میرے خیال میں کے پی حکومت کا ہیلتھ کارڈ صحیح ماڈل نہیں ہے۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ ہیلتھ کارڈ کی ایک حد مقرر ہے، اس سے زیادہ بیماری پر خرچہ آیا تو آپ کو اپنے پیسوں سے علاج کروانا ہوگا، خیبر پختونخوا حکومت صحت کے نظام میں حکومتی اداروں کا پیسہ نجی اسپتالوں کو دل
ی پی پی چیئرمین نے کہا کہ ہم نے پسماندہ طبقے کے لیے وسیلہ صحت پروگرام شروع کیا تھا، وسیلہ صحت پروگرام کا مقصد تھا کہ پسماندہ ترین افراد کو براہ راست مدد پہنچائی جائے۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ وفاقی حکومت، خیبر پختونخوا حکومت پاپولیشن پلاننگ پر 15 سال کی کارکردگی سامنے لائے، میں سندھ حکومت کی 15 سال کی پاپولیشن پلاننگ کی کارکردگی پیش کرنے کےلیے تیار ہوں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم گوجر خان، سرگودھا، رحیم یار خان، ڈی آئی خان میں بھی ایس آئی یو ٹی کے تعاون سے سہولیات فراہم کریں گے۔
وارہی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: خیبر پختونخوا حکومت بلاول بھٹو کہا کہ
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔