ویب ڈیسک: ایڈووکیٹ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف متنازع ٹویٹس کیس میں نیا موڑ آگیا، اہم شخصیت نے وکالت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ کے ایڈیشنل سیشن جج افضل مجوکا نے سماعت کے آغاز پر استفسار کیا کہ 342 کے سوالنامہ کا کیا بنا؟ ایڈوکیٹ ہادی علی چٹھہ نے بتایا کہ ہمیں 342 کے بیان کی کاپی نہیں ملی۔ جج افضل مجوکا نے کہا کہ میں 342 کا بیان ٹائپ کرکے آپ کو 10 بجے دوں گا۔

سوشل میڈیا کیلئے رِیل بنانے والا نوجوان 50 فٹ بلندی سے گر کر ہلاک

عدالت نے کیس کی سماعت میں 10 بجے تک وقفہ کیا۔ دوبارہ سماعت کا آغاز ہوا تو اسلام آباد بار کے صدر نعیم علی گجر نے وکالت نامہ جمع کرا دیا۔ ایڈوکیٹ ایمان مزاری اور ہادی علی عدالت کے سامنے پیش ہوئے۔

صدر بار نعیم گجر نے جج سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ویلکم بیک سر، آپ کا دورہ کیسا رہا؟ سر آپ پہلے سے زیادہ خوبصورت ہو کر آئے ہیں۔

ایڈوکیٹ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی جانب سے نعیم علی گجر پیش ہوئے۔ ایمان اور ہادی کی جانب سے جرح کا حق بحال کرنے کی درخواست دائر کی گئی۔

دنیا کے محفوظ ترین ممالک کی فہرست جاری

وکیل نعیم علی گجر نے کہا کہ ہمیں وقت دے دیں ہم اسں میں معاونت کر دیتے ہیں۔

جج افضل مجوکا نے ریمارکس دیے کہ مشرف کیس میں سپریم کورٹ واضع کر چکی، اگر ملزم بار بار پیش نہیں ہوتا تو عدالت ان کی غیر موجودگی میں ٹرائل آگے بڑھا سکتی ہے۔

ہادی علی چٹھہ نے کہا کہ ہم نے کیس آپ سے ٹرانسفر کرنے کی درخواست بھی دائر کرنی ہے۔

عدالت نے سماعت میں 11 بجے تک کا وقفہ کر دیا۔

Ansa Awais Content Writer.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: ہادی علی چٹھہ اور ہادی کہا کہ

پڑھیں:

نیب کیسز سننا ہمارا اختیار نہیں، سپریم کورٹ نے فیصلہ سنادیا

نیب کیسز سے متعلق سپریم کورٹ نے فیصلہ سیا دیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ نیب کیسز میں مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت وفاقی آئینی عدالت کرے گی۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ نیب کیسز سننے کا سپریم کورٹ کو اختیار نہیں ہے، نیب قانون کی شق 32 اور 32 اے کے تحت سپریم کورٹ کو اس سماعت کا اختیار ہی نہیں، نیب کیسز میں مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت وفاقی آئینی عدالت کرے گی۔بانی پی ٹی آئی نے بھی ہائیکورٹ کے ضمانت کیس کےخلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا، رجسٹرار سپریم کورٹ نے درخواست اعتراضات عائد کرکے واپس کر دی تھی۔سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد بانی پی ٹی آئی کی ضمانت کا کیس وفاقی آئینی عدالت سنے گی، نیب کیسز آرٹیکل 175 اے اور ایف کے تحت تمام کیسز وفاقی آئینی عدالت کو ٹرانسفر تصور سمجھےجائیں گے۔خیال رہے کہ سپریم کورٹ میں نیب کے ایک زیر سماعت کیس کے دوران اختیار سماعت کا سوال اٹھا تھا۔نیب قانون میں 5 مارچ 2026 کو ترمیم کی گئی تھی، نیب قانون کی شق 32 اے کے تحت اپیلیں سننے کا اختیار سماعت وفاقی آئینی عدالت کو سونپا گیا تھا۔جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس پر سماعتیں کیں، بنچ میں جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس شاہد بلال حسن شامل تھے۔درخواستگزار کے وکیل عباد الرحمان لودھی نے ضمانت کیس سپریم کورٹ میں چلانے کے حق میں دلائل دیے، وکیل نے دلائل میں نیب ترمیم کے بعد 18 مارچ 2026 کو سپریم کورٹ میں کیس میں ضمانت دینے کا حوالہ دیا تھا۔اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے نیب اپیلیں اور ضمانت کیسز وفاقی آئینی عدالت میں چلانے کے حق میں دلائل دیے، اٹارنی جنرل کا مؤقف تھا کیس کا ایک حصہ سپریم کورٹ دوسرا حصہ وفاقی آئینی عدالت میں نہیں چلایا جاسکتا۔نیب وکیل نے بھی وفاقی حکومت کے موقف کی تائید کی تھی، سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ 16 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔
 

متعلقہ مضامین

  • سہیل آفریدی کے خلاف درخواستیں سماعت کے لیے مقرر، فریقین کو نوٹس جاری
  • وفاقی آئینی عدالت، سہیل آفریدی کیخلاف درخواستیں سماعت کیلئے مقرر
  • نیب کیسز کی مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ  جاری کردیاگیا
  • نیب کیسز سننا ہمارا اختیار نہیں، سپریم کورٹ نے فیصلہ سنادیا
  • ماریہ شہباز کیس: وفاقی آئینی عدالت نے نظرثانی درخواست پر اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کر دیے
  • فلک جاوید اور صنم جاوید کےخلاف ٹویٹ کیس کی سماعت ملتوی
  • اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں، عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں،  عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ