غیر قانونی افغان مہاجرین کا دباؤ خیبر پختونخوا میں معیشت کو متاثر کرنے لگا
اشاعت کی تاریخ: 5th, December 2025 GMT
غیر قانونی افغان باشندوں کی موجودگی کے باعث صوبے میں وسائل پر بوجھ بڑھ گیا ہے۔ غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کا براہِ راست بوجھ صوبہ کے وسائل، سیکیورٹی، سماجی ڈھانچے اور عوامی سہولیات پر پڑ رہا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کی بڑی تعداد کے باعث دہشت گردی کے علاوہ دیگر مسائل بھی سر اٹھانے لگے ہیں۔ غیر قانونی افغان باشندوں کی موجودگی کے باعث صوبے میں وسائل پر بوجھ بڑھ گیا ہے۔ غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کا براہِ راست بوجھ صوبہ کے وسائل، سیکیورٹی، سماجی ڈھانچے اور عوامی سہولیات پر پڑ رہا ہے۔ عالمی جریدہ یوریشیا ریویو کے مطابق تقریباً 17 لاکھ غیر دستاویزی افغان اور 13 لاکھ رجسٹرڈ افغان مہاجرین نے پاکستان کے مکانات، صحت، تعلیم اور روزگار کے شعبوں کو متاثر کیا۔ ایس ڈی پی آئی کی تحقیق کے مطابق افغان مہاجرین کی آمد سے خیبر پختونخوا کے 30 فیصد عوام نے تعلیمی سہولیات جبکہ 58 فیصد عوام نے صحت کی سہولیات میں کمی کی نشاندہی کی۔
ساؤتھ ایشیا ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق مہاجرین کے اضافی بوجھ سے خیبر پختونخوا میں بے روزگاری بڑھنے سے مقامی معیشت دباؤ میں ہے۔ خیبر پختونخوا میں متعدد افغان تاجر ٹیکس ادا کیے بغیر دولت مند ہو گئے، جس سے پاکستان کی ریونیو وصولی متاثر ہوئی۔ رپورٹ کے مطابق مجموعی طور پر مہاجرین کی آمد نے پاکستان کی مختصر اور طویل مدت معاشی ترقی دونوں پر ہی منفی اثر ڈالا، افغان مہاجرین کی بڑے پیمانے پر آمد سے خیبر پختونخوا کی معاشی سرگرمیوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔ افغان مہاجرین کے قدرتی وسائل کے حد سے زیادہ استعمال سے سنگین ماحولیاتی مسائل میں اضافہ ہوا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: خیبر پختونخوا میں افغان مہاجرین افغان باشندوں کے مطابق
پڑھیں:
بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم
احمد جواد، چیف آرگنائزر پاکستان بزنس فورم۔پاکستان بزنس فورم نے حکومت سے بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کا مطالبہ کیا ہے۔ فورم کے چیف آرگنائز احمد جواد نے کہا کہ انتخابات کے بعد حکومت کا تیسرا بجٹ ہے، اس بجٹ میں حکومت معاشی سمت واضح کرے۔
احمد جواد نے مزید کہا کہ اس وقت ریجن میں ہماری کاروباری لاگت 34 فیصد سے زیادہ ہے، توقع ہے آنے والا بجٹ گروتھ کی طرف ہوگا، موجودہ ٹیکسز میں کمی ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت بزنس کمیونٹی مایوسی کا شکار ہے، کاروبار بند ہو رہے ہیں۔
احمد جواد نے کہا کہ کاروبار بند ہونے سے بزنس کمیونٹی کو بچا لیا جائے۔ پاکستان بزنس فورم کے چیف آرگنائزر کا کہنا تھا کہ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، تاجروں کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ بجلی اور گیس بلوں کے یونٹ کو مسابقتی ریٹ پر لایا جائے تاکہ بلز برداشت ہوسکیں۔