پاکساتان افغان سرحد پر کشیدگی ،جھڑپوں میں4 ہلاک،4 زخمی
اشاعت کی تاریخ: 7th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلا م آباد،کابل (صباح نیوز) پاکستان سے متّصل افغانستان کے سرحدی علاقے سپن بولدک میں کشیدگی بڑھ گئی ہے، جھڑپوں میں 4افغان شہری ہلاک اور4زخمی ہو گئے۔ قندھار میں ڈاکٹروں نے بی بی سی کو تصدیق کی کہ گزشتہ رات کی جھڑپوں میں چار شہری ہلاک اور چار زخمی ہوئے۔ سپن بولدک کے محکمہ صحت کے سربراہ کا کہنا ہے کہ دو زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مرنے والوں میں ایک خاتون اور ایک بچہ بھی شامل ہے۔ صبح سپن بولدک کے مقامی لوگوں نے بی بی سی کو بتایا کہ علی الصبح حالات قدرے پرسکون رہے۔ ان کا کہنا ہے کہ رات گئے تک لڑائی ہوتی رہی لیکن بعد میں لڑائی رک گئی۔ ایک مقامی شخص کے مطابق ’جھڑپوں کے خوف سے کل رات اپنے گھروں سے بھاگنے والے کچھ لوگ واپس آ رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ہماری رات بے چین تھی، ہم زیادہ تر رات کو جاگتے رہے، ہم لائن سے تقریباً 2000 میٹر کے فاصلے پر ہیں۔ ہمارے علاقے کے تقریباً تمام گھرانے قندھار کی طرف جا رہے تھے، وہاں بچے، عورتیں اور بوڑھے
موجود تھے۔ رات بہت سرد تھی، صحرا میں رات گزاری، اہل خانہ کو ابھی تک یقین نہیں ہے کہ وہ اپنے گھروں کو لوٹ سکیں گے یا نہیں۔‘ چمن سے یہ بھی اطلاعات ہیں کہ گذشتہ رات کی کشیدگی کے باعث سرحد کے قریب دیہی علاقوں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔ افغانستان میں کچھ لوگوں نے سوشل میڈیا پر تصاویر پوسٹ کی ہیں جن میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ رات گئے پاکستانی فوج نے چمن سپن بولدک کے علاقے میں ڈرون بھیجے ہیں جو سرحد کے پار افغانستان کے اوپر پرواز کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس صورتحال سے خطے میں خوف وہراس پھیل گیا۔ طالبان حکومت کا کہنا ہے کہ پاکستانی فریق نے جنگ بندی کی خلاف ورزی کی ہے اور ڈیورنڈ لائن کے قریب افغان جانب سے حملہ کیا ہے۔ قندھار کے علاقے سپن بولدک میں طالبان حکومت کے مقامی ترجمان علی احمد حقمل نے بتایا کہ ’حملہ پاکستان کی جانب سے کیا گیا تھا اور ان کی افواج کو جواب دینے پر مجبور کیا گیا تھا۔ پاکستان اور افغان طالبان نے ایک بار پھر ایک دوسرے پر چمن، سپین بولدک سرحد پر حملے کرنے کے الزامات عائد کیے ہیں۔ جمعے کی رات وزیرِ اعظم شہباز شریف کے ترجمان برائے غیرملکی میڈیا مشرف زیدی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے ایک بیان میں کہا کہ ’افغان طالبان نے چمن سرحد پر بلااشتعال فائرنگ کی ہے، جس پر ہماری مسلح افواج نے فوری اور شدید ردِ عمل دیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کا کہنا ہے کہ سپن بولدک
پڑھیں:
سیکیورٹی فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک
سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں کرتے ہوئےفتنہ الہندوستان سے تعلق رکھنے والے 17 دہشتگردوں کو ہلاک کردیا۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق 24 مئی کو پیش آنے والے ٹرین واقعے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے اضلاع مستونگ، نوشکی، زہری، خضدار اور کیچ میں انٹیلی جنس بنیادوں پر متعدد آپریشنز کیے۔
مزید پڑھیں: بلوچستان میں دہشتگردی کرنے والے پاکستان کے دشمن، ان کی کوئی ناراضی نہیں، رانا ثنااللہ
آئی ایس پی آر کے مطابق ان کارروائیوں کے دوران سیکیورٹی فورسز نے دہشتگردوں کے متعدد ٹھکانوں کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا۔ شدید اور سخت فائرنگ کے تبادلے کے بعد بھارتی حمایت یافتہ فتنہ الہندستان سے تعلق رکھنے والے 17 دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے، جس سے ان علاقوں میں سرگرم دہشتگرد نیٹ ورکس کو بڑا دھچکا پہنچا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ مارے گئے دہشتگرد علاقے میں متعدد دہشت گرد کارروائیوں میں سرگرم رہے تھے۔
ہلاک دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ، گولہ بارود، بڑی مقدار میں دھماکا خیز مواد اور تیار شدہ دیسی ساختہ بم (آئی ای ڈیز) بھی برآمد کیے گئے ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق ان علاقوں سے دہشتگردوں کے مکمل خاتمے کے لیے کلیئرنس اور سرچ آپریشنز بدستور جاری ہیں۔
مزید پڑھیں: علما کرام کی جانب سے بلوچستان میں دہشتگردی کی مذمت، امن اور مکالمے پر زور
بیان میں کہا گیا ہے کہ قومی ایکشن پلان کے تحت وفاقی ایپکس کمیٹی سے منظور شدہ وژن ’عزمِ استحکام‘ کے مطابق پاکستان کی سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی انسداد دہشت گردی مہم پوری رفتار سے جاری رہے گی تاکہ ملک سے بیرونی سرپرستی اور حمایت یافتہ دہشتگردی کے ناسور کا مکمل خاتمہ کیا جا سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews آئی ایس پی آر بلوچستان دہشتگرد ہلاک سیکیورٹی فورسز وی نیوز