اچھی جمہوریت میڈیا کی آزادی کے ساتھ کامیاب ہوتی ہے، شرجیل میمن
اشاعت کی تاریخ: 7th, December 2025 GMT
صوبائی وزیر سندھ شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ دنیا بھر میں پرنٹ میڈیا کو سخت مشکلات کا سامنا ہے۔
تفصیلات کے مطابق شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ پہلے لوگوں کی اخباروں سے اب موبائل سے صبح ہوتی ہے۔ سوشل میڈیا پر خبریں چوبیس گھنٹے چھپتی ہیں۔ الیکٹرانک میڈیا نے اخبار کو ٹف ٹائیم دیا۔
انہوں نے کہا تاہم ہم چاہتے ہیں کہ اخبار کے شعبے کو ترقی ملے۔ سوشل میڈیا پر بیشتر خبریں غلط ہوتی ہیں۔ ٹی وی پر بھی بریکنگ کے چکر میں دوڑ لگی رہتی ہے۔ ہماری کوشش ہے کہ اخباروں کو مضبوط کریں۔
انہوں نے مزید کہا کہا کہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ کوشش کی ہے کہ میڈیا پھلے پھولے۔ اچھی جمہوریت میڈیا کی آزادی کے ساتھ کامیاب ہوتی ہے۔ پی پی پی مشکل ادوار میں میڈیا کے ساتھ کھڑی رہی ہے۔
صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ کچھ ادوار میں پی پی بدترین میڈیا ٹرائل کا شکار رہی ہے۔ پیپلز پارٹی نے کبھی بدلہ لینے والی سیاست نہیں کی۔ ہر دور میں میڈیا میں مختلف اینکرز کو آف ایئر کرایا جاتا تھا۔
شرجیل میمن نے بانی پی ٹی آئی کے حوالے سے کہا کہ جھوٹ بول بول کر ملک کے خلاف بیانیہ چلایا گیا۔ بانی پی ٹی آئی جنرل باجوہ کو تاحیات توسیع دینے کی بات کرتا تھا۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ ملک میں نفرت کی آگ پھیلائی گئی۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس صحیح تھی، باہر سے بیٹھ کر سوشل میڈیا پر ٹرولنگ کی گئی۔ یہ لوگ بیرون ملک سے ٹویٹ کرتے ہیں۔
شرجیل میمن نے کہا کہ ملک کو نقصان پہنچانے کی یہ ناکام سازش ہے جو کامیاب نہیں ہوگی۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل شرجیل میمن
پڑھیں:
فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
فرانس میں قائم ایک نفسیاتی اسپتال نے ذہنی صحت کے علاج کے لیے ایک غیرمعمولی طریقہ اختیار کیا ہے، جہاں مریضوں کے ڈپریشن، اضطراب اور ذہنی دباؤ کو کم کرنے کے لیے گدھوں کی مدد لی جا رہی ہے۔
امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق یہ منصوبہ فرانس میں اپنی نوعیت کا واحد تجربہ سمجھا جاتا ہے۔ دارالحکومت پیرس کے مضافات میں سرسبز و شاداب ماحول اور تاریخی عمارتوں سے گھرا ویل ایورارڈ اسپتال مریضوں کو روایتی طبی علاج کے ساتھ ایک منفرد اور پُرسکون تجربہ بھی فراہم کر رہا ہے۔
اس پروگرام کے تحت مریض گدھوں کے ساتھ وقت گزارتے ہیں، انہیں سیر کرواتے ہیں، ان کی دیکھ بھال کرتے ہیں اور جذباتی تعلق قائم کرتے ہیں۔ حالیہ سیشن کے دوران بھی متعدد مریضوں نے گدھوں کے ساتھ خوشگوار وقت گزارا اور رخصت ہوتے ہوئے انہیں گلے لگا کر محبت کا اظہار کیا۔
60 سالہ مریضہ نیتھلی کے مطابق گدھوں کے ساتھ وقت گزارنے سے انہیں ویسا ہی سکون ملتا ہے جیسا کسی پُرسکون دوا کے استعمال سے حاصل ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جانوروں کے ذریعے ہونے والا یہ علاج ذہنی آسودگی فراہم کرتا ہے اور وقتی طور پر تمام پریشانیاں ختم دیتا ہے۔
فرانس کے سرکاری نظامِ صحت کے تحت یہ سیشنز مریضوں کو بغیر کسی معاوضے کے فراہم کیے جاتے ہیں۔ عموماً ہر مریض کو ایک مخصوص گدھے کے ساتھ منسلک کیا جاتا ہے تاکہ وقت کے ساتھ دونوں ایک دوسرے کی عادات اور مزاج سے واقف ہو سکیں۔
اس یونٹ میں خدمات انجام دینے والی نرس آڈرے سیفار کے مطابق نیتھلی کی حالت میں چند ملاقاتوں کے بعد ہی نمایاں بہتری دیکھی گئی۔
انہوں نے بتایا کہ ابتدا میں وہ جسمانی معذوری کے باعث وہیل چیئر سے نکلنے پر آمادہ نہیں تھیں، لیکن گدھے کے ساتھ تعلق نے ان میں اعتماد پیدا کیا اور اب وہ نہ صرف چیئر سے اٹھتی ہیں بلکہ اپنے جانور کے ساتھ کھڑی بھی ہوتی ہیں۔
دوسری جانب 52 سالہ مریض جیروم کا کہنا ہے کہ اس منفرد پروگرام نے ان کے احساسِ تنہائی کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔