سینیٹر فیصل واوڈا نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے اندر ہی ایک فیکٹر مائنس ون کی راہ ہموار کر رہا ہے۔

نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عمران خان کے خلاف 190 ملین پاؤنڈ سمیت کئی اہم کیسز کے فیصلے جلد سامنے آ سکتے ہیں۔

فیصل واوڈا کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کا ’’عارضی نالائق وزیراعلیٰ‘‘ اپنی ہی قیادت کو نہیں مان رہا اور بیرسٹر گوہر کی پریس کانفرنس کو تسلیم کرنے سے انکاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ لوگ ایم کیو ایم سے بھی بدتر حالت میں پہنچ چکے ہیں، آج وہی عارضی وزیراعلیٰ اور دیگر ایم این ایز کہاں ہیں؟

انہوں نے دعویٰ کیا کہ پارٹی کے اندرونی لوگ ہی منظم انداز میں جیل توڑنے جیسے بیانیے کی بات کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق پی ٹی آئی کا ایک طاقتور گروہ ملک میں کوئی بڑا واقعہ یا نقصان چاہتا ہے تاکہ وہ اگلے 20 سے 25 سال تک اسی بیانیے پر سیاست کرسکے۔

سینیٹر فیصل واوڈا کا مزید کہنا تھا کہ اس پورے معاملے میں ’’ذائچے بنانے والے‘‘ اور ’’تعویز والے‘‘ لوگوں تک کی شمولیت کا امکان ہے۔ انہوں نے کہا کہ اللہ نہ کرے ایسا کچھ ہو، لیکن اسی خدشے کے پیشِ نظر آئندہ ایک سے ڈیڑھ ماہ تک جیلوں کی سیکیورٹی میں تبدیلیاں اور ممکنہ طور پر جیلوں کی تبدیلی بھی کی جا سکتی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان کھیل فیصل واوڈا انہوں نے نے کہا

پڑھیں:

کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار

سپریم کورٹ آف پاکستان نے 5 سالہ کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کرنے والے مجرم سنی مسیح کی اپیل مسترد کرتے ہوئے اس کی سزائے موت برقرار رکھنے کا فیصلہ سنا دیا۔

عدالت عظمیٰ نے اپنے اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ اپنی مرضی سے نشہ کرکے جرم کا ارتکاب کرنے والا شخص اپنے مجرمانہ عمل سے استثنیٰ کا دعویٰ کرنے کا حق نہیں رکھتا۔

3 رکنی بینچ، جس میں جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ، جسٹس صلاح الدین پہنور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے، نے مجرم کی اپیل پر فیصلہ جاری کیا۔

فیصلے میں کہا گیا کہ جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ صرف اس صورت میں کیا جا سکتا ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا اس کے علم میں لائے بغیر نشہ آور چیز دی گئی ہو۔

عدالتی فیصلے کے مطابق مجرم سنی مسیح کے خلاف 5 سالہ کمسن بچی کو زیادتی کا نشانہ بنانے اور قتل کرنے کا مقدمہ 22 جنوری 2014 کو سبی میں درج کیا گیا تھا۔

ٹرائل کورٹ نے جرم ثابت ہونے پر مجرم کو سزائے موت سنائی تھی، جسے بعد ازاں ہائیکورٹ نے بھی برقرار رکھا اور اب سپریم کورٹ نے بھی اس فیصلے کی توثیق کردی ہے۔

دوران سماعت مجرم کے وکیل نے مؤقف اختیار کیاکہ وقوعہ کے وقت ملزم نشے کی حالت میں تھا، اس لیے سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کیا جائے۔

تاہم سپریم کورٹ نے اس استدعا کو مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ کسی شخص کو ایسے عمل کی سزا نہیں دی جا سکتی جس کے ارتکاب کا اس کا ارادہ نہ ہو، لیکن رضاکارانہ طور پر نشہ کرکے اسے اپنے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔

فیصلے میں مزید کہا گیا کہ مجرم نے خود تسلیم کیاکہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔

عدالت نے واضح کیاکہ جو شخص اپنی مرضی سے شراب نوشی کرتا ہے وہ بعد میں مجرمانہ ذمہ داری سے استثنیٰ کا مطالبہ نہیں کر سکتا۔

سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ مجرم نے بے دردی کے ساتھ کمسن بچی کو قتل کیا، لہٰذا اس کی اپیل خارج کرتے ہوئے سزائے موت برقرار رکھی جاتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews سزائے موت برقرار قتل کیس کمسن بچی وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • دوسرا ون ڈے:آسٹریلیا کیخلاف پاکستانی ٹیم 190رنز پر آل آئوٹ
  • عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات کرا دی گئی
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
  • اڈیالہ جیل میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات
  • بحرین میں محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی شیعیان علیؑ کیخلاف کریک ڈاون میں تیزی
  • دوسرا ون ڈے: پاکستان کا آسٹریلیا کیخلاف ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ
  • کراچی: شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی پر پہلے روز کتنے چالان ہوئے؟
  • کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
  • نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ