مراکش میں 2رہائشی عمارتیں گرگئیں: 19افراد جاں بحق، 16زخمی
اشاعت کی تاریخ: 10th, December 2025 GMT
رباط: مراکش کے شمال مشرقی شہر فیض میں 2 رہائشی عمارتیں گر گئیں۔جس کے نتیجے میں 19 افراد جاں بحق جبکہ 16 زخمی ہوگئےہیں۔
رباط: مراکش کے دارالحکومت رباط سے عرب میڈیا کے مطابق یہ عمارتیں فیض شہر کے گنجان آباد علاقے المسیرہ میں واقع ہیں، یہ دونوں 4 منزلہ عمارات بدھ کی صبح گریں۔دونوں عمارتوں میں 8 خاندان آباد تھے اور یہ شہر کے نئے حصے میں واقع تھیں۔
مقامی میڈیا کے مطابق علاقہ مکین اور رضاکار واقعے کے فوری بعد جائے حادثہ پر پہنچے اور امدادی کارروائی شروع کیں، رضا کاروں نے ملبے سے ایک بچے کو زندہ نکالا۔
زخمیوں کو اسپتال منتقل کر دیا گیا ، سرچ اینڈ ریسکیو ٹیمیں اب بھی جائے وقوعہ پر موجود ہیں ، ملبے تلے مزید افراد کے دبے رہنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب حکام کا کہنا ہے کہ حادثے کی وجوہات جاننے کیلئے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
بحری جہازوں کو ہونے والے نقصان کا ازالہ منجمد ایرانی اثاثوں سے کیا جائے گا، ٹرمپ کا بڑا اعلان
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ خلیجی خطے میں بحری جہازوں، کارگو اور متعلقہ سامان کو پہنچنے والے نقصانات کی تلافی کے لیے امریکا اپنی تحویل میں موجود منجمد ایرانی اثاثوں سے ادائیگی کرے گا۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ آئندہ کسی بھی بحری جہاز، کارگو یا اس سے متعلق املاک کو نقصان پہنچنے کی صورت میں اس کا مالی ازالہ ایرانی فنڈز سے کیا جائے گا، جو امریکا کے کنٹرول میں ہیں۔
ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ ’آج سے اور آئندہ اطلاع تک، بحری جہازوں، کارگو یا ان سے متعلق کسی بھی نقصان کی ادائیگی امریکا کی تحویل میں موجود ایرانی رقم سے کی جائے گی۔‘
امریکی صدر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خلیج، آبنائے ہرمز اور بحیرۂ احمر میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی جہاز رانی اور توانائی کی ترسیل شدید دباؤ کا شکار ہے۔ حالیہ ہفتوں میں متعدد تجارتی جہازوں اور آئل ٹینکروں پر حملوں کی اطلاعات بھی سامنے آ چکی ہیں۔
اگرچہ ٹرمپ نے یہ واضح نہیں کیا کہ کن ایرانی اثاثوں یا کتنی رقم کو اس مقصد کے لیے استعمال کیا جائے گا، تاہم امریکا ماضی سے مختلف پابندیوں کے تحت اربوں ڈالر مالیت کے ایرانی اثاثے منجمد کیے ہوئے ہے۔
pic.twitter.com/Lbev6wPsNZ
— Rapid Response 47 (@RapidResponse47) July 23, 2026ماہرین کے مطابق اگر امریکا اس اعلان پر عملی اقدامات کرتا ہے تو اس سے ایران اور امریکا کے درمیان قانونی اور سفارتی تنازعات مزید شدت اختیار کر سکتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس معاملے پر بین الاقوامی قوانین، مالیاتی ضوابط اور خودمختار ریاستوں کے اثاثوں سے متعلق نئے سوالات بھی جنم لے سکتے ہیں۔