پاکستان میں سپر فلو وائرس کی موجودگی کی تصدیق ,کیسز میں اضافہ
اشاعت کی تاریخ: 15th, December 2025 GMT
پاکستان میں انفلوئنزا وائرس کی ایک نئی قسم کی موجودگی سامنے آئی ہے جسے عوامی سطح پر سپر فلو کہا جا رہا ہے یہ وائرس انفلوئنزا اے ایچ تھری این ٹو کی نئی ذیلی قسم سب کلاڈ کے سے تعلق رکھتا ہے عالمی ادارہ صحت کے مطابق اس وائرس میں جینیاتی تبدیلیوں کے باعث دنیا کے مختلف ممالک میں فلو کے کیسز میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے پاکستان میں دستیاب نمونوں کے تجزیے سے معلوم ہوا ہے کہ تقریباً ساٹھ فیصد کیسز میں اسی ذیلی قسم کی موجودگی پائی گئی ہے ماہرین کے مطابق یہ کوئی نئی وبا نہیں بلکہ ہر سال پھیلنے والے انفلوئنزا وائرس کی بدلی ہوئی شکل ہے موسم سرما کے دوران پنجاب کراچی اور دیگر شہروں میں فلو کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے جس کے باعث شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان۔ تفصیلات کے مطابق بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے، جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔ سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔(جاری ہے)
حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔ سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔