پاکستان کی سوڈان میں عالمی امن اہلکاروں پر حملے کی شدید مذمت
اشاعت کی تاریخ: 15th, December 2025 GMT
اسلام آباد:
پاکستان نے سوڈان کے شہر کدوگلی میں اقوام متحدہ کے امن اہلکاروں پر ہونے والے حملے کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔
وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق پاکستان سوڈان کے شہر کدوگلی میں ہونے والے حملے میں اقوام متحدہ کی عبوری سیکیورٹی فورس برائے ابیئی (UNISFA) کے تحت خدمات انجام دینے والے بنگلا دیش کے 6 امن اہلکاروں کے جاں بحق اور متعدد دیگر کے زخمی ہونے شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔
دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان نے بنگلا دیش کی حکومت اور عوام سے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ اس المناک گھڑی میں جاں بحق اہل کاروں کے لواحقین کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اقوام متحدہ کے امن اہل کار دنیا بھر میں تنازعات کی روک تھام، شہریوں کے تحفظ اور امن کے فروغ کے لیے صفِ اول میں کردار ادا کر رہے ہیں۔ پاکستان نے امن و استحکام کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے ان بلیو ہیلمٹس کو خراجِ عقیدت پیش کیا ہے۔
پاکستان کی جانب سے اس بزدلانہ حملے کی فوری تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ حملے میں ملوث عناصر کی نشاندہی کی جائے اور انہیں انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔
دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اراکین اور عالمی برادری کے ساتھ مل کر امن اہلکاروں کی حفاظت اور سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے کام جاری رکھے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: امن اہلکاروں اقوام متحدہ
پڑھیں:
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں کے جنگلات میں لگنے والی حالیہ بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں۔
سپارکو کی جانب سے پر جاری کردہ سیٹلائٹ ڈیٹا کے مطابق گرمی کی حالیہ شدید لہر کے باعث جنگلات میں لگنے والی ہولناک آگ نے پنجاب کے ماحولیاتی لحاظ سے حساس علاقے 'کوٹلی ستیاں' کے 25 مقامات پر پھیلے ہوئے تقریباً 3,037 ہیکٹر (7,504.7 ایکڑ) پر مشتمل قدرتی جنگلات کو خاکستر کر دیا ہے۔
9 مئی سے 29 مئی 2026 تک کی سیٹلائٹ تصاویر کا موازنہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آگ لگنے کے بعد 'چِیڑ' کے جنگلات کو شدید نقصان پہنچا ہے، جو کہ دریائے سندھ اور دریائے جہلم کے اہم ذیلی آبی ذخائر کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس کے ماحولیاتی اثرات صرف آگ سے جھلسنے والے فوری نقصانات تک محدود نہیں ہیں؛ بلکہ اس آفت نے مقامی پرندوں اور جنگلی حیات کی افزائشِ نسل کے عروج کے سیزن کو شدید متاثر کیا ہے۔
نئے اگنے والے پودوں اور پنیریوں کو تباہ کر دیا ہے، اور اس متاثرہ زمین پر ایسی جڑی بوٹیوں اور جھاڑیوں کے پھیلنے کی راہ ہموار کر دی ہے جو آگ کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
اگرچہ مقامی آبادی اور محکمہ جنگلات کے عملے نے کئی علاقوں میں آگ پر کامیابی سے قابو پا لیا ہے، لیکن تیز اور گرم ہواؤں کے باعث ہمسایہ ڈھلوانوں پر اب بھی آگ پھیل رہی ہے، جس سے ماحول کو مزید نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔