بگرام ایئر بیس کہاں واقع اور اس کی کیا اہمیت ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 15th, December 2025 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بگرام ایئر بیس کی واپسی کا مطالبہ کیا ہوا ہے لیکن یہ ایئر بیس کہاں واقع ہے اور اس کی اہمیت کیا ہے، اس حوالے سے اڈے کی تاریخ پر نظر ڈالتے ہیں۔
بگرام ایئربیس افغانستان کے شہر کابل سے تقریباً 50 کلو میٹر شمال میں واقع ہے۔ یہ اڈہ سویت دور سے لے کر امریکا کی 20 سالہ جنگ تک اہم کردار ادا کرتا رہا۔
سویت یونین نے 1950 کی دہائی میں اس اڈے کو تعمیر کیا اور 1980 کی دہائی میں سویت افغان جنگ کے دوران یہ سب سے بڑا فوجی مرکز تھا۔ سن 1989 میں سویت انخلاء کے بعد یہ ویران ہوگیا۔
اس کے بعد، اکتوبر 2001 میں امریکا نے یہاں قبضہ کیا اور اسے ’’آپریشن اینڈورنگ فریڈم‘‘ کا مرکز بنایا۔ پھر 20 سال نیٹو اور امریکی افواج کی یہاں سب سے بڑی تنصیبات موجود رہیں۔
جولائی 2021 میں امریکی فوج نے انخلاء مکمل کیا اور اگست 2021 میں طالبان نے اس پر قبضہ کر لیا۔
اس اڈے کی اہمیت محض فوجی نہیں بلکہ اسٹریٹجک بھی ہے کیونکہ امریکی افواج کے لیے یہ نہ صرف افغانستان بلکہ پورے خطے میں کارروائیوں، لاجسٹکس، انٹیلی جنس اور ڈرون حملوں کا مرکز رہا۔
بگرام ایئربیس کے دو طویل رن وے بھاری فوجی جہازوں کے لیے موزوں تھے اور ایک وقت میں یہاں 10ہزار سے زائد فوجی تعینات تھے۔
طالبان قبضے کے بعد اطلاعات ہیں کہ چین اس اڈے کے گرد بڑھتی ہوئی سرمایہ کاری میں دلچسپی رکھتا ہے جس پر امریکا کو شدید تشویش ہے۔
امریکی صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں بگرام ایئربیس کی واپسی کا مطالبہ کرتے ہوئے اسے چین کے خلاف کلیڈی اسٹریٹجک پوائنٹ قرار دیا ہے۔
بگرام ایئربیس کی جغرافیائی اہمیت سب سے زیادہ چین کے لیے ہے کیونکہ یہ اڈہ چین کے صوبے سنکیانگ کی سرحد سے محض 800 کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔
یہ اڈہ اس مقام سے صرف ایک گھنٹے کے فاصلے پر ہے جہاں چین اپنے جوہری ہتھیار تیار کرتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ واشنگٹن اسے ’’بیلٹ اینڈ روڈ‘‘ منصوبے اور چینی سرگرمیوں پر نظر رکھنے کے لیے اہم تصور کرتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: بگرام ایئربیس کے لیے
پڑھیں:
ایرانی جزیرے پر امریکی حملے کے بعد ایران کا جوابی وار، بحرین، عراق اور قطر میں سائرن بج گئے
امریکی فوج کی جانب سے ایرانی جزیرے قشم پر کارروائی کے دعوے کے بعد ایران نے خطے میں موجود امریکی مفادات اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا اعلان کرتے ہوئے جوابی حملوں کا دعویٰ کیا ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے مطابق امریکی افواج نے قشم جزیرے میں موجود ایک ایرانی فوجی تنصیب کو نشانہ بنایا۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی ایران کی جانب سے میزائل اور ڈرون حملوں کے ردعمل میں کی گئی۔
سینٹ کام کے مطابق امریکی اور اتحادی دفاعی نظام نے متعدد ایرانی میزائل اور ڈرون راستے میں ہی تباہ کر دیے۔
امریکی بیان میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ ایران کی جانب سے داغے گئے بعض بیلسٹک میزائل اپنے اہداف تک پہنچنے میں ناکام رہے۔
کویت کی جانب فائر کیے گئے دو میزائل راستے میں گر گئے جبکہ بحرین کی طرف بڑھنے والے تین میزائل امریکی اور بحرینی فورسز نے فضا میں ہی تباہ کر دیے۔
اسی دوران امریکی فوج نے ایک ایسے آئل ٹینکر کو بھی ناکارہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے جو مبینہ طور پر ایرانی جزیرے خارگ کی جانب رواں تھا۔
امریکی حکام کے مطابق مذکورہ جہاز پر بوٹسوانا کا پرچم لہرا رہا تھا۔
مزید پڑھیںایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
دوسری طرف ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے امریکی کارروائی کا فوری جواب دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ قشم میں کمیونیکیشن انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کے بعد امریکی فوجی اڈوں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے گئے ہیں۔
ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق جوابی کارروائی میں بحرین میں موجود امریکی ففتھ فلیٹ کے ہیڈکوارٹر، بعض فضائی تنصیبات اور ہیلی کاپٹر مراکز کو ہدف بنایا گیا۔
پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ امریکی حملوں کا جواب دینا ناگزیر تھا اور خطے میں کسی بھی جارحیت کا بھرپور ردعمل دیا جائے گا۔
عرب میڈیا کے مطابق بحرین، کویت اور عراق میں سیکیورٹی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے جبکہ بحرین کے مختلف علاقوں میں خطرے کے سائرن بھی بجائے گئے۔
بحرینی وزارتِ داخلہ نے شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔
ادھر ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے قریب ایک ایرانی آئل ٹینکر کو نشانہ بنائے جانے کے بعد پاسداران انقلاب نے ایک بحری جہاز پر میزائل حملہ کیا۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کی قیمت امریکا کو چکانا پڑے گی۔